مانع بن ربیعہ المریدی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مانع بن ربیعہ المریدیخاندان سعود کا جد امجد

معلوم تاریخ[ترمیم]

سعودی عرب پر اس وقت حکومت کرنے والے آل سعود خاندان کا سب سے پرانا جدِ امجد جس کا تاریخ میں تذکرہ ملتا ہے وہ مانع بن ربیعہ المریدی ہے جس کا خاندان کسی نا معلوم وقت پر خلیجِ عربی کے ساحلوں کی طرف ہجرت کر گیا اور قطیف اور بقیق کے قریب الدروع یا الدرعیہ نامی ایک گاؤں بنایا، ممکنہ طور یہ نام انہوں نے اس لیے رکھا کیونکہ ان کا تعلق الدروع خاندان سے تھا، 850ھ بمطابق 1447ء کو حجر الیمامہ (حالیہ ریاض) کے امیر ابن درع جو اس کا رشتہ دار تھا کی دعوت پر مانع وادی حنیفہ آیا، ابن درع نے اسے نجد کے وسط میں واقع وادی حنیفہ میں غصیبہ اور الملیبید نامی علاقے دیے جنہیں اس نے الدرعیہ کا نام دیا جو بعد میں پہلی سعودی مملکت کا 1158ھ سے 1233ھ بمطابق 1744ء سے 1818ء تک دار الحکومت بھی رہا،

اولاد مانع[ترمیم]

مانع کی اولاد کئی نسلوں تک الدرعیہ کی امارت سنبھالتے آئے حتی کہ یہ امارت آل مقرن تک پہنچی جو اسی کی ہی اولاد میں سے تھے جن میں سے محمد بن سعود بھی شامل ہے، المریدی کا تعلق المردہ قبیلہ سے تھا جسے بہت سے نسابین اور مؤرخین قبیلہ بکر بن وائل کی شاخ بنی حنیفہ سے منسوب کرتے ہیں، اس طرح آل سعود قرابت کے رشتہ سے عنزہ قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی ذیلی شاخوں میں وائل اور ربیعہ کے اکثر قبائل آتے ہیں، ایک اور رائے آل سعود کو عنزہ سے منابہہ کی ذیلی شاخ مصالیخ سے بھی منسوب کرتی ہے جو ضنا مسلم کی شاخیں ہیں جن کا روایتی مسکن نجد اور خیبر کی شمالی وادیاں ہیں۔

مانع کی جانشینی[ترمیم]

مانع کی وفات کے بعد اس کا بیٹا ربیعہ بن مانع اس کا جانشین مقرر ہوا، الدرعیہ کی آبادی بڑھی تو ربیعہ نے الدرعیہ کا رقبہ بڑھانے کے لیے پڑوسی گاؤں النُعمیہ اور الوصیل جو بنی حنیفہ سے تعلق رکھنے والے آل یزید کے زیرِ اثر تھے پر قبضہ کرنا چاہا، آل یزید نے مدافعت کی تو ربیعہ نے ان سے جنگ کی مگر کامیاب نہ ہوا، ربیعہ کا ایک بیٹا موسی بہت با اثر تھا اور اپنے والد کی زندگی میں ہی امارت کے منصب پر فائز ہو گیا تھا، موسی بن ربیعہ نے آل یزید سے دوبارہ جنگ کی اور ان کے گھر تباہ کر کے انہیں ان کے علاقہ سے بے دخل کر دیا اور ان کے علاقے الدرعیہ میں شامل کردیے، موسی کے بعد اس کے بیٹے ابراہیم بن موسی نے امارت سنبھالی پھر اس کے بیٹے مرخان بن ابراہیم نے، مرخان کی وفات کے بعد اس کے دونوں بیٹوں ربیعہ اور مقرن نے مشترکہ امارت سنبھالی اور ان کے بعد ان کے دونوں بیٹوں وطبان بن ربیعہ بن مرخان اور مرخان بن مقرن بن مرخان نے، پھر ناصر بن محمد بن وطبان، اس کے بعد محمد بن مقرن، پھر ابراہیم بن وطبان، پھر ادریس بن وطبان، حتی کہ 1131ھ کو موسی بن ربیعہ بن وطبان کا دور آیا جسے الدرعیہ کے لوگوں نے 1132ھ بمطابق 1720ء کو منصبِ امارت سے ہٹا دیا اور سعود اول بن محمد بن مقرن اس کا جانشیں مقرر ہوا جو 1137ھ بمطابق 1725ء کو انتقال کرگیا، اس کے بعد خاندان کے سب سے معمر شخص زید بن مرخان بن وطبان امیر ہوا مگر جلد ہی 1139ھ بمطابق 1726ء کو اسے قتل کر دیا گیا جس کے بعد محمد بن سعود بن محمد بن مقرن الدرعیہ کا امیر مقرر ہوا جو بعد میں پہلی سعودی مملکت کا پہلا امام بنا۔