مانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مانی
Mani.jpg
پیدائش 216 عیسوی
Ctesiphon, Parthian Babylonia[1] (modern-day عراق)
وفات 2 March 274 AD[2]
Gundeshapur، ساسانی سلطنت (modern-day ایران)
نسل ایرانی
وجۂ شہرت بانی مانی مت
مذہب پیدائش Elcesaites
بعد میں مانی مت
والدین Pātik
Mariam.

مانی(216ء-276ء) تیسری صدی کاایک ایرانی جس نے مانی مت کی بنیاد رکھی۔ آج یہ مذہب باقی نہیں لیکن ایک زمانے میں اسکے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔یہ مذہب قدیم مذاہب کا دلچسپ امتزاج تھا۔ مانی کے مطابق زرتشت، گوتم بدھاور عیسیٰ ؑ پیغمبر تھے لیکن اسکی صورت میں یہ ایک ہی مذہب میں اب مکمل ہوگیا ہے۔ یہ مذہب قریب ایک ہزار سال تک قائم رہا۔

بابل میں ایک اشکانی (پارتھی) شہزادہ بابک (پاتِگ) رہتا تھا. وہ اپنے آبائی مذہب(جو دراصل زرتشتکی تعلیمات اور بے شمار دیوتاؤں کی پرستش کا مکسچر تھا) سے بیزار اور حقیقتِ حق کا متلاشی تھا. اس تلاش میں اس کا تعارف مسیحی عارفین (گنوسی) کی جماعت سے ہوا، اور ان کی تعلیمات سے متاثر ہوکر اس نے نہ صرف ان کا مذہب قبول کرلیا بلکہ اپنی حاملہ بیوی مریم کو چھوڑ کر ان کے ساتھ ہولیا. (عورت ، شراب اور گوشت ترک کرنا ان کی بنیادی شرط تھی)

سن 216 عیسوی میں مریم نے ایک بیٹے کو جنم دیا اور اس کا نام مانی رکھا. چھ سال بعد بابک جب بابل واپس آیا تو اس کا بیٹا بڑا ہو چکا تھا‫. بابک اس بار مانی کو بھی اپنے ساتھ لے گیا اور یوں مانی کا بچپن مسیحی عارفین کی سخت تربیت و تعلیم میں گزرا، وہیں اس نے مصوری سیکھی.

24 سال کی عمر میں اس نے اس بات کا اعلان کیا کہ مجھ پر فرشتہ وحی لایا ہے ، اور مجھے نبوت کا منصب عطا ہوا ہے. جس آخری نبی کے آنے کی پیش گوئیاں حضرت عیسیٰ ؑ علیہ السلام کر چکے ہیں. (نعوذ باللہ) وہ فارقلیط میں ہوں. اس کا اور اس کے پیروکاروں کا یہ بھی دعوٰی تھا کہ سب پہلے بارہ سال کی عمر میں اس پر فرشتہ وحی لیکر ظاہر ہوا تھا. پھر یہ سلسلہ جاری رہا ، یہاں تک کہ اسے نبوت کا منصب سونپا گیا.

اس نے اپنے مذہب کی بنیاد ثنویت کے فلسفے پر رکھی. جس کے مطابق (نعوذباللہ) ایک خیر کا خدا اور ایک شر کا خدا ہے. لوگوں میں اپنی تعلیمات پھیلانے کیلئے اس ابتداء میں زرتشتاور حضرت عیسیٰ ؑ علیہ السلام کی نبوت کا اقرار کیا اور کہا کہ میں اس سلسلے کا آخری نبی ہوں جو تمام ادیان کو متحد کرے گا. نیز اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی رسالت کا انکار کیا اور ان کی کتاب کو (نعوذباللہ) شیطانی وساوس قرار دیا. اس ترکیب سے زرتشتیمذہب اور عیسائی مذہب کے لوگ اس کے پیروکار ہونے لگے اور یہ نیا مذہب مقبول ہونے لگا.

فارس میں ساسانی سلطنت کے حکمران شاپور کے بھائی نے بھی مانی کا مذہب قبول کرلیا‫ اور اس کے توسط سے بادشاہ شاپور تک مانی کا ذکر پہنچا. شاپور نے مانی کو ایران بلوایا اور اس کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اس کا مذہب اختیار کر لیا. شاہی سرپرستی ملنے کے بعد یہ مذہب اور زیادہ تیزی سے پھیلنے لگا. اس مقبولیت سے خائف ہو کر زرتشتمذہب کے علماء موبدان وغیرہ نے اسے بادشاہ کے دربار میں مناظرے کا چیلنج کیا. مناظرے میں مانی کو شکست ہوئی‫. اس شکست پہ سب سے زیادہ سبکی بادشاہ کو محسوس ہوئی کہ اسی کا پیغمبر ہارا تھا. اس پیچ و تاب میں اس نے مانی کی گرفتاری کا حکم دے دیا. مانی کے ہمدردوں نے یہ خبر اور بادشاہ کے ارادے مانی تک پہنچا دئیے.

مانی ایران سے فرار ہو کر نکلا تو براستہ افغانستان ، کشمیر و تبت سے ہوتا ہوا چین اور چینی ترکتستان جا پہنچا. وہاں اس نے اپنی تعلیمات کی تبلیغ کیلئے مہاتما بدھ کو بھی نبی تسلیم کرلیا اور کہا کہ ہند میں بدھ ، فارس میں زرتشت، اور فلسطین میں مسیح کے سلسلے کا میں آخری نبی ہوں. وہاں اس نے اپنے مذہب میں بدھ مذہب کے کچھ اصول بھی شامل کر لیے اور لوگ اس کے پیروکار بننے لگے.

کچھ عرصہ بعد جب شاپور کی موت کے بعد اس کا ولی عہد ہرمز تخت پر بیٹھا تو اس نے مانی کو ایران بلوا لیا. اب مانی نے دوبارہ شد و مد سے ایران کے طول و عرض میں اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کردی. یہ بات زرتشتیوں کی برداشت سے باہر ہو گئی. انہوں نے ہرمز کے بھائی یعنی شہزادہ بہرام کو اس لادین کے مقابلے میں اپنے زرتشتی مذہب کی مدد پر اکسایا نیز اپنی خفیہ و ظاہر مدد کا یقین دلایا. ابھی ہرمز کی حکومت کو ایک ہی سال گزرا تھا کہ بہرام نے بغاوت کی اور ہرمز کو قتل کرکے خود بادشاہ بن بیٹھا. اس نے حکم جاری کیا کہ میری سلطنت کی حدود میں مانی جہاں کہیں ہو اسے گرفتار کر کے لایا جائے.

مانی گرفتار ہو کر دارالحکومت آگیا. اور اس کی زجر توبیخ شروع ہوگئی. اسے قیدخانے کی بجائے کھلے میدان میں ستون سے باندھ کر رکھا گیا تاکہ سب لوگ اس کے انجام سے عبرت پکڑیں. اسی دوران ملک میں مانی مذہب کے پیروکاروں کا بھی قتلِ عام شروع ہوگیا. 60 سال کا بوڑھا مانی 23 دن عقوبتیں جھیل کر 2 مارچ 276 عیسوی کو مرگیا. اس کے مرنے بعد بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کی کھال اتار کر اس میں بھس بھر کے شہر کے دروازے پر لٹکا دی جائے. (وہ دروازہ بعد میں کئی زمانوں تک مانی دروازہ کے نام سے مشہور رہا.

مانی کی موت کے بعد بھی اس کا مذہب شمال میں روس تک اور مغرب میں تمام شمالی افریقہ سے مراکش تک اور وہاں سے سپین کے راستے یورپ کے کئی ممالک تک پھیلتا چلا گیا. تقریباً ایک ہزار سال تک اس مذہب کے ماننے والے موجود رہے. اب یہ مذہب ناپید ہوچکا ہے‫.

مانی نے کچھ کتابیں بھی تصنیف کیں ، جن کی نسبت اس کا دعویٰ تھا کہ یہ وحی الہی ہے. ان میں سے ایک کتاب شاپورگان پہلوی زبان میں تھی‫. باقی سریانی زبان میں تھیں‫.

”ہمیشہ حکمت و عمل کی باتیں خدا کے رسول کے ذریعے انسان تک پہنچائی جاتی رہی ہیں۔ ایک وقت میں انہیں خدا کے رسول بدھ نے ہندوستان میں پہنچایا، دوسرے زمانے میں زرتشتنے فارس میں، دوسرے زمانے میں یسوع نے مغرب میں اور اس کے بعد یہ وحی اور اس آخر زمانے کی پیشگوئی ، خداوند کے حقیقی رسول مجھ مانی کے ذریعے بابل میں پہنچائی۔“ (شاپورگان باب #1)

چونکہ مانی مصور تھا اس لیے اس کی کتابیں بھی نقوش اور تصاویر سے مزین تھیں. ان میں سب سے خاص ، نادر اور مانویوں کے نزدیک سب سے مقدس کتاب ارژنگ تھی. یہ بھی مانی کے مذہب پھیلنے کی ایک وجہ تھی کہ عوام کیلئے باتصویر کتابوں کا کنسیپٹ نیا اور حیران کن تھا. مانی نے آرامی اور پہلوی زبانوں سے ملتا جلتا ایک نیا رسم الخط بھی ایجاد کیا تھا.

مانی مذہب کے علماء اور ماننے والے عباسی خلفاء کے زمانے تک موجود رہے اور ان کی باطل تعلیمات سے واقف ہوکر حضرت جعفر صادق سے لیکر تمام مسلم ائمہ نے انہیں کافر قرار دیا تھا. کیونکہ اپنی ابتدائی تبلیغ کے برعکس مانی نے اپنی کتب میں گزشتہ انبیاء کو (نعوذ باللہ) جھوٹا اور شیطان کے مغلوب قرار دیا ہے.

مانی مذہب کی تعلیمات دو طبقاتی ہیں. عوامی طبقے (رشندگان) کیلئے صرف اس کے بنیادی ارکان و اصولوں پر عمل کافی ہے. اس مذہب کے بنیادی احکام دس ہیں جن میں سے چار مذہبی اور چھ اخلاقی ہیں‫

مذہبی ارکان

1:- بت پرستی کی ممانعت 2:- سات نمازیں فرض ہیں‫.‫ (1 نماز صبح ، 4 نمازیں دن میں 2 نمازیں رات میں) 3:- روزے 4:- مذہبی معاملات میں شک کرنے کی ممانعت

اخلاقی ارکان:-

1:- زنا کی ممانعت 2:- چوری کی ممانعت 3:- جھوٹ کی ممانعت 4:- جادو کی ممانعت 5:- کسی جاندار کو جان سے مارنے کی ممانعت 6:- بخیلی ، دھوکہ دہی کی ممانعت

طبقہ خواص (برگزیدگان یعنی مذہبی لوگ) کیلئے ان احکام پر عمل کے علاوہ گوشت خوری ، شراب نوشی ، عورت اور ہر قسم کی شہوات و لذات سے پرہیز فرض ہے.

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خطا در حوالہ: حوالہ بنام ICS کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. SASANIAN DYNASTY, اخذ کردہ بتاریخ 2015-01-12 
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔