ماکسیم ریلسکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ماکسیم ریلسکی

Maksym Tadeyovych Rylsky

ماکسیم ریلسکی.jpg
پیدائش ماکسیم ریلسکی19 مارچ 1895 (1895-03-19)کیئف، یوکرین، روسی سلطنت
وفات 24 جولائی 1964 (1964-07-24)کیئف، یوکرین، سوویت یونین
قلمی نام ماکسیم ریلسکی
پیشہ مصنف
زبان یوکرینی، روسی
قومیت  یوکرین
نسل یوکرینی
صنف شاعری
نمایاں کام خزاں کے ستاروں کی چھاؤں میں
لیو تالستائی کی موت
اہم اعزازات اسٹالن انعام
لینن انعام

دستخط

ماکسیم ریلسکی یوکرینی: Максим Тадейович Рильський (پیدائش: 19 مارچ 1895ء - وفات: 24 جولائی 1964ء) یوکرین کے شاعر، مترجم ، سماجی کارکن، یوکرینی سائنس اکادمی اور روسی سائنس اکادمی کے رکن ہیں[1]۔ شاعر اور اکیڈمیشین، لینن انعام اور سوویت یونین کے ریاستی انعامات یافتہ ماکسیم ریلسکی کو بجا طور پر تارس شیوچنکو اور ایوان فرانکو کے بعد یوکرین کا سب سے اہم شاعر سمجھا جاتا ہے[2]۔

پیدائش[ترمیم]

ماکسیم ریلسکی سوویت یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں 19 مارچ 1895ء میں پیدا ہوئے[1]۔

تخلیقی دور[ترمیم]

جمنازیم کی تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ کیئف یونیورسٹی کی تاریخ اور علم زبان کی فیکلٹی میں داخل ہوئے۔ چند سال وہ مدرس رہے او پھر پوری طرح ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔ اسکول کی طالب علمی ہی کے زمانے میں انھوں نے نظمیں لکھنی شروع کردی تھیں۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعی "سفید جزیروں پر" جب شائع ہوا تو ان کی عمر صرف 15 سال تھی۔ 1918ء میں ریلسکی کی نظموں کا مجموعہ "خزاں کے ستاروں کی چھاؤں میں" شائع ہوا اور اس کے بعد دوسرے۔ اپنی ادبی سرگرمی کے 50 برسوں میں انگوں نے نظموں کے 30 سے زیادہ مجموعے شائع کیے۔ انھوں نے الیکزاندر پشکن، لیرمونتوف، شیکسپیئر، دانتے، ہیوگو، والتیئر، میتسکیویچ، سلوواتسکی اور دوسرے کلاسیکی ادیبوں اور شاعروں نیز ہم عصر سوویت شاعروں کے ترجمے بھی یوکرینی زبان میں کئے اور ان کے علاوہ ادبی تنقید، فن اور لوک ادب سے متعلق بھی کئی کتابیں لکھیں[3]۔ زندگی کے آخری دنوں تک ماکسیم ریلسکی کی تخلیقات سوویت یوکرین کے جانباز عوام کے مقدر کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ خانہ جنگی کے معرکے، حب الوطنی کی جنگ عظیم، عالمی انقلاب کا سوزوگداز ان کی بہت سی شعری تخلیقات کا موضوع رہے[4]۔ حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں ان کی آواز نے پہلے ہی دن سے کروڑوں فوجیوں اور چھاپہ ماروں کواپنی آبائی سرزمین اور ساری محکوم قوموں کو آزاد بنانے پر اکسایا۔

اداروں سے وابستگی[ترمیم]

1942ء میں ریلسکی کو یوکرینی سائنس اکادمی کا عملی رکن اور 1958ء میں روسی سائنس اکادمی کا رکن منتخب کیا گیا۔ 1946ء سے 1964ء تک وہ سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کے رکن رہے[2]۔

تخلیقات[ترمیم]

  • خزاں کے ستاروں کی چھاؤں میں(1918ء)
  • سفید جزیروں پر
  • لیو تالستائی کی موت

اعزازات[ترمیم]

ماکسیم ریلسکی کو 1943ء اور 1950ء میں شاعری پر سوویت ریاستی" اسٹالن انعام" اور 1960ء لینن انعام دیا گیا۔

وفات[ترمیم]

ماکسیم ریلسکی 69 سال کی عمر میں 24 جولائی 1964ء میں کیئف، یوکرین، سوویت یونین میں وفات پا گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://www.encyclopediaofukraine.com/display.asp?linkpath=pages\R\Y\RylskyMaksym.htm
  2. ^ 2.0 2.1 موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص158-159
  3. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص159
  4. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص158