ماہ لقا بائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ماہ لقا بائی
Hyderabad Mah Laqa Bhai 17710 600w.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: چندا بی بی خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 7 اپریل 1768  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اورنگ آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 اگست 1824 (56 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن مولا علی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
رہائش نام پالی، حیدرآباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان،  گلو کارہ،  طوائف،  شاعرہ،  فوجی،  مصنفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر شخصیات سراج اورنگ آبادی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
کھیل تیر اندازی،  نیزہ بازی،  گھڑ سواری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ماہ لقا بائی چنداؔ (پیدائش: 7 اپریل 1768ء– وفات: اگست 1824ء) اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ تھی۔ ماہ لقا بائی کا تخلص چندا تھا۔ ماہ لقا کا شمار حیدرآباد، دکن کے اردو زبان کے اولین شعرا میں کیا جاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں ماہ لقا کی شاعری نے اردو زبان کی شاعری کے دبستان دکنی کو نیا فروغ دیا۔ 1824ء میں ماہ لقا کے اُردو دیوان کی اشاعت کے بعد اُسے اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا مقام حاصل ہوا۔ جنوبی ہند میں اردو زبان کے فروغ میں ماہ لقا کی شاعری سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نظام حیدرآباد کے دربار سے بھی وابستہ رہی۔ 1824ء میں ماہ لقا کا انتقال ہوا۔

پیدائش[ترمیم]

ماہ لقا 7 اپریل 1768ء کو اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں پیدا ہوئی۔ والد کا نام بہادر خان تھا جو مغل شہنشاہ محمد شاہ کی فوج میں منصبدار کے عہدے پر فائز تھے جبکہ والدہ راج کنور تھی جو راجپوتانہ سے ہجرت کرکے حیدرآباد، دکن میں آباد ہونے والی خوبصورت طوائف تھی۔ ماہ لقا کے والد بہادر خان ہجرت کرکے حیدرآباد، دکن آ گئے تھے جہاں اُن کی شادی راج کنور سے ہوئی تھی۔ راج کنور کی خالہ مہتاب کنور نے اُس کو گود لے لیا اور اُس کی پرورش کی۔ مہتاب کنور نظام حیدرآباد کے دربار سے وابستہ ایک طوائف و رقاصہ تھی اور وہ نواب رکن الدولہ، وزیر اعظم حیدرآباد، دکن کے دربار میں روزانہ حاضر ہوتی تھی۔ اِس طرح ماہ لقا نظام حیدرآباد کے دربار تک رسائی رکھنے میں کامیاب رہی۔

درباری اثر و رسوخ[ترمیم]

ماہ لقا کی رسائی مہتاب کنور کے توسط سے ہوئی تھی، اِسی لیے وہ طویل عرصہ نواب رکن الدولہ کے زیر سایہ پرورش پاتی رہی۔ اِس دوران ماہ لقا نے شاعری میں اپنے ذوق کو بڑھانا شروع کیا۔ نوجوانی کے دور میں اُسے حیدرآباد، دکن کے تمام ادبی سرمائے شاہی کتب خانوں میں فراہم ہوتے رہے۔ 14 سال کی عمر میں وہ گھڑ سواری اور تیر اندازی میں مہارت حاصل کرچکی تھی۔ اپنی اِنہی مہارتوں کے سبب وہ نظام حیدرآباد علی خان آصف جاہ ثانی کے ہمراہ تین جنگوں میں شریک رہی۔ جنگی لباس مردانہ طرز کا ہوتا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدانِ جنگ کے لیے نکلا کرتی تھی۔

شاعری[ترمیم]

ماہ لقا کا قلمی دیوان

ماہ لقا دکنی شاعری میں سراج اورنگ آبادی (1715ء1763ء) سے متاثر تھی۔ شاعری میں نواب میر عالم بہادر، وزیر اعظم حیدرآباد، دکن سے اصلاح لیتی رہی۔ ماہ لقا کی مادری زبان اردو زبان کا دکنی لہجہ تھی، اِس کے علاوہ عربی زبان، فارسی زبان اور بھوجپوری زبان میں نہایت آسانی سے گفتگو کرلیتی تھی۔ ماہ لقا کو اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کہا جاتا ہے کہ جس کا دیوان مرتب ہوا۔ ماہ لقا کا دیوان گلزارِ ماہ لقا کے نام سے شائع ہوا جس میں 39 غزلیں اور 5 قطعات شامل تھے۔ ایک قلمی نسخہ دیوانِ چندا کے نام سے موجود ہے جو 18 اکتوبر 1799ء کو جان میلکم کو ماہ لقا نے بطور تحفہ عنایت کیا تھا۔ اِس قلمی دیوان میں 125 غزلیں موجود تھیں جو 1798ء میں ماہ لقا نے اپنے ہاتھ سے لکھی تھیں۔

وفات[ترمیم]

ماہ لقا کا مقبرہ

ماہ لقا نے غالباً 55 یا 56 سال کی عمر میں ماہِ اگست 1824ء میں انتقال کیا۔ ماہ لقا کی تدفین اُس کے اپنے تعمیر کردہ باغ میں کی گئی جہاں اُس کی والدہ راج کنور کا مدفن اور اُس کی بنوائی ہوئی مسجد موجود تھی۔

نمونہ کلام[ترمیم]

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب

یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے

بر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

نہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی پر

بھلا پاویں گے اے ناداں کسی ہشیار سے مطلب

نہ چنداؔ کو طمع جنت کی نے خوف جہنم ہے

رہے ہے دو جہاں میں حیدر کرار سے مطلب

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]