مبارک عظیم آبادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کام جاری

مبارک عظیم آبادی
Mubarak-Azimabadi.jpg

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (اردو میں: مبارک حسین ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 29 اپریل 1849  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دربھنگا ضلع،  بہار،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 12 اپریل 1958 (109 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ داغ دہلوی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ڈاکٹر مبارک عظیم آبادی (پیدائش: 29 اپریل 1849ء - وفات: 12 اپریل، 1958ء) بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے معروف شاعر اور ہومیوپیتھی معالج تھے۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مبارک عظیم آبادی 29 اپریل 1849ء کو قصبہ تاج پور ،دربھنگہ، بہار، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مبارک حسین اور مبارک تخلص تھا۔ فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ انٹرنس تک انگریزی بھی پڑھی۔ طب اور ہومیوپیتھی کا بھی مطالعہ کیا اور باضابطہ مطب کو روزی کا ذریعہ بنایا۔ اسکول کے زمانے سے ہی شعرو سخن کی جانب طبیعت راغب تھی۔ وہ پہلے حسن سہسرامی کو اپنا کلام اصطلاح کے لیے دکھاتے رہے۔ اس کے بعد پریشان عظیم آبادی سے اردو اور فارسی میں اصلاح لیتے رہے۔ 1892ء میں نواب داغ دہلوی کے شاگرد ہوئے اور تاحیات داغ سے مشورہ کرتے رہے۔ آخر عمر میں مبارک عظیم آبادی مالی پریشانیوں میں پھنس گئے تھے۔ برطانوی ہند کی سرکار کی طرف سے ان کی علمی صلاحیت اور شاعری کی شہرت کی وجہ سے ایک سو روپیہ ماہانہ اعزازی وظیفہ تاحیات ملتا رہا۔ ان کا منتخب اردو دیوان جلوۂ داغ 1951ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے سے قبل 1935ء میں مرقع سخن (حصہ اول ودوم) کی اشاعت ہوئی۔ 1999ء میں کلیات مبارک عظیم آبادی بھی چھپ چکی ہے۔ مبارک عظیم آبادی 12 اپریل 1958ء کوبھارت میں انتقال کرگئے۔

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

دیکھے اسے ہر آنکھ کا یہ کام نہیں ہےکچھ کھیل تماشائے لب بام نہیں ہے
میں معترف جرم ہوں جو چاہو سزا دوالزام تمنا کوئی الزام نہیں ہے
وہ صبح بھی ہوتی ہے شب تار سے پیداجس کو خطر تیرگئ شام نہیں ہے
جو دل ہے وہ لبریز تمنا ہے مبارکاس جام سے اچھا تو کوئی جام نہیں ہے

حوالہ جات[ترمیم]