مبشر حسن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مبشر حسن
وزیر خزانہ
مدت منصب
24 دسمبر 1971 – 22 اکتوبر 1974
صدر ذوالفقار علی بھٹو
Fleche-defaut-droite-gris-32.png مظفر علی خان قزلباش
رانا محمد حنیف خان Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 22 جنوری 1922 (97 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پانی پت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت پاکستان پیپلز پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعليم پی ایچ ڈی
مادر علمی جامعہ پنجاب
آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سول انجیئنر،  وانجینئر،  وسیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

ڈاکٹر مبشر حسنپاکستان کے ممتاز دانشور ،سائنس دان، سول انجینئیر، استاد، سیاست دان، محقق، مبصر، صحافی، تجزیہ نگار ہیں۔ وہ پاکستان کے وزیرِ خزانہ اور مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہ چکے ہیں ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مبشر حسن 22 جنوری 1922 کو پانی پت، ہریانہ، پنجاب، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور سول انجینئری میں گریجویشن کی ڈگری پائی ۔ 1950 میں وہ امریکا چلے گئے اور آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی،امریکا (Iowa State University)سے سول انجینئری میں ماسٹر کیا۔ اور اس کے بعد پی ایچ ڈی کی غرض سے ایک مقالہ بعنوان (fundamental problems and their solution on Hydraulic engineering, a sub-discipline of civil engineering) مکمل کر کے پیش کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ مغربی پاکستان واپس آنے کے بعد لاہور میں انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں بحیثیت استاد سول انجینئری کے شعبہ سے وابستہ ہوئے۔ تدریس ان کا زندگی بھر کا شوق رہا ہے ۔

سیاسی زندگی کاآغاز[ترمیم]

1965 میں پاک بھارت جنگ نے ڈاکٹر مبشر حسن کی فکری نہج کو ایک نئی راہ دی اور 1967 میں ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے ایک سیاسی منشور بعنوان "A Declaration of Unity of People"شائع کروایا۔ جو مشرقی پاکستان میں ٹیکنو ڈیموکریٹک سوشلزم کی حمایت میں لکھا گیا تھا۔ اس دوران میں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں انجینئیرنگ فزکس پر لیکچر دے رہے تھے ۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر 1967 میں ڈاکٹر مبشر حسن ہی کے گھر پر ہونے والے ایک تاسیسی کنونشن میں ذو الفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی ۔[2]

وزارتِ خزانہ میں تقرری[ترمیم]

سائنس اور سیاست میں گہرے علم اور مشاہدے کے باعث ڈاکٹر مبشر حسن بہت جلد ذو الفقار علی بھٹو کے نزدیک ترین اور معتمد ترین مشیر مقرر ہوئے۔1971 کی جنگ کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن(24 دسمبر، 1971ء تا 22 اکتوبر، 1974ء) پاکستان کے دسویں وزیر خزانہ رہے ہیں۔ بھٹو کی پہلی کابینہ میں بحیثیت وزیر خزانہ انہوں نے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے ریکارڈ رقوم مختص کیں۔[3]

وزارتِ سائنس اور ٹیکنالوجی کے قیام میں خدمات[ترمیم]

1972 میں بحیثیت وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت تشکیل دینے میں ذوالفقارعلی بھٹو کی بہت معاونت کی۔1972 میں ہی انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت پاکستان میں ایٹمی منصوبے کے سلسلے میں عملی اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ذوالفقارعلی بھٹو کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر مبشر نے اس سلسلے میں اہم اجلاس اور میٹنگز میں فعال کردار ادا کیا۔ 1974 میں ملک معراج خالد کی معطلی کے فیصلے نے ان کو کچھ حد تک سیاسی صورت حال سے مایوس کیا اور وہ1974 وزارتِ خزانہ سے مستغفی ہو گئے تاہم وہ ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی نصب العین سے متفق اور وفادار رہے ۔

1974 میں انہیں ذو الفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم سیکریٹیریٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور کا مشیر مقرر کیا۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے وزارتِ سائنس میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے اہم اور مثالی کردار ادا کیا۔ اور کہوٹہ پراجیکٹ کو مختلف پہلوؤں سے مننظم و مرتب کیا۔1976 میں پاکستان نیشنل الائنس کی سیاسی قیادت سے مذاکرات کی ناکام کوششوں کے نتیجے میں 1977 میں ملٹری پولیس نے ڈاکٹر مبشر حسن کی گرفتاری کا حکم دیا۔ انہیں اڈیالہ جیل میں ذو الفقار علی بھٹو کے ساتھ رکھا گیا۔ جہاں وہ ذو الفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی سات سال تک قید رہے۔1984 میں رہائی پانے کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن نے انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی، لاہور میں شعبہِ انجینئری کے استاد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔

1988 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کی پیش کش کی جسے انہوں نے بعض سیاسی اختلافات کے باعث رد کر دیا۔ بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی (مرتضی بھٹو گروپ)کا جب آغاز ہوا تو ڈاکٹر مبشر حسن بھی اس سے وابستہ ہوئے ۔

صحافتی زندگی[ترمیم]

اگرچہ ڈاکٹر مبشر حسن نے بحیثیت سیاست دان عملی طور پرسیاسی امور میں شرکت سے ریٹائر منٹ اختیار کر لی تاہم تشکیلِ معاشرہ کے لیے اپنا قلمی جہاد جاری رکھا اور بہت سے آرٹیکلز اپنے شعبہ انجینئری کے لیے رقم کیے۔ انہوں نے ملک کے معاشی مسائل سے متعلق بھی بہت کچھ لکھا۔ ان کے آرٹیکلز انگریزی جریدہ دی نیوز انٹرنیشنل میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں ۔[4] وہ روزنامہ دنیا میں بھی باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔[5]

ممبر شپ[ترمیم]

  1. ممبر پاکستان اٹامک سائنٹسٹ فاؤنڈیشن(PASF)
  2. ممبر پاکستان سول انجینئیر سوسائٹی

تصانیف[ترمیم]

اشاعت کتاب کا نام
2012 شاہراہِ انقلاب ( جلد اول و دوم )
2016 رزمِ زندگی [6]
Published Book Title
1954 On the general education of an engineer
1967 A Declaration of Unity of People
1976 Pakistan's illiterate leaders
1977 United front for people's democracy
1986 National unity: what is to be done?، Mubashir Hasan, I. A. Rahman, A. H. Kardar
1989 An Enquiry into the Bhutto Yean, Dr. Mubashir Hassan
2000 The Mirage of Power, Dr. Mubashir Hassan, PhD
2001 Birds of the Indus, Mubashir Hasan, Tom J. Roberts

حوالہ جات[ترمیم]