متحدہ عرب امارات میں ملیالم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مارچ 2015ء میں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے عوام سے جاننا چاہا کہ عربی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ کس زبان میں انٹرنیٹ پر سرکاری معلومات مہیا کی جائیں۔ یہ سروے قومی شناختی اتھاریٹی کی جانب سے کیا گیا۔ اس سروے میں سب سے زیادہ ووٹ اردو کو حاصل ہوئے تھے۔ اس رائے شماری کی تفصیلات اس طرح ہے:[1]

پسندیدہ زبان رائے دہندوں کی تعداد فی صد
اردو 170973 54.44
ملیالم 139141 44.3
مینڈرین 2306 0.73
ٹیگلاگ (فلپائنی) 1654 0.53

اس سروے سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ اردو اور ملیالم کے بولنے والے متحدہ عرب امارات کتنی وسیع تعداد میں ہیں۔ ایک غیر سرکاری اندازے کے مطابق متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ 40 فی صد آبادی بھارتیوں پر مشتمل ہے۔ اس کا 40 فی صد حصہ ملیالی لوگوں پر مشتمل ہے یا بہ الفاظ دیگر کل آبادی کا 16 فی صد حصہ ملیالم زبان کو بہ حیثیت مادری زبان بولتا ہے۔

سروے کے نتیجے میں عرب امارات کی حکومت کی قومی شناختی اتھاریٹی اب ملیالم میں بھی اپنی معلومات آن لائن فراہم کر رہا ہے۔

پرواسی بھارتی براڈکاسٹنگ کارپوریشن[ترمیم]

یہ ادارے کا صدرمقام ابو ظہبی ہے۔ یہ ادارہ پورے خلیج میں پھیلے 6.8 ملین ملیالیوں پر مرکوز ہے (جو عمان، قطر، کویت، بحرین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس ادارے کے بھارت میں دفاتر ترواننت پورم، کوچی، کالیکٹ، ممبئی اور دہلی میں موجود ہیں۔

ادارے کی 7 اہم سرگرمیاں ہیں:

  1. پرواسی بھارتی 810 اے ایم دنیا کا پہلا ملیالم ڈیجیٹل ریڈیو ہے۔
  2. گلف ملیالم میگزین کی اشاعت۔
  3. گلف ملیالم ٹی وی۔
  4. ڈیجیٹل میڈیا ڈیویژن (انٹرنیٹ ریڈیو، ویب ڈائریکٹری، وغیرہ
  5. ایونٹس اینڈ ایگزی بیشن ڈیویژن (میگا ایوینٹ اور کارپوریٹ ایوینٹ)۔
  6. نغموں اور ڈراموں کا ڈیویژن (آڈیو، ویڈیو البموں کی تیاری)۔
  7. فلمز ڈیویژن (برائے فلمسازی)۔[2]

متحدہ عرب امارات میں ملیالم کے اشاعتی ذرائع[ترمیم]

2010ء کے بعد سے متحدہ عرب امارات کے ملیالم کے اشاعتی ذرائع میں کافی ہلچل دیکھی گئی۔ پہلی بار تجرباتی اساس پر مفت ملیالم ہفتہ وار کالیکٹ ٹائمز شائع ہوا۔

ملیالم اخبار سراج کے مدیر نثار سید کے مطابق اس عرصے میں سالانہ خبرناموں کی خریدار بڑھانے کی مہم چلائی گئی۔ جہاں امارات کے دیگر اخبارات 2 درہم کی قیمت پر شائع ہو رہے تھے، یہ اخبارات 1.5 درہم میں دستیاب تھے۔ نئے خریداروں کو 100 درہم کی چھوٹ کے علاوہ برقی آلات، گھڑیاں، سونے کے سکے اور ہوائی ٹکٹ جیسے تحائف بھی پیش کیے گئے۔ بھارت میں سراج کے چار ایڈیشن کیرلا کے چار شہروں تروواننت پورم، کوچی، کالیکٹ اور کنور سے شائع ہوتے ہیں۔ کے عباس، سراج کے ایڈیٹر انچارج ہر امارت میں قارئین کی فورم کی مدد سے میڈیا سیمینار منعقد کر چکے ہیں۔ وہ سلسلے میں ایک ہزار روزہ مہم پر بھی روانہ ہوئے۔ ہر امارت سے خبر رسائی کے مقصد سے وہ رضاکارانہ شہری رپورٹر متعین کر چکے ہیں جو پیسوں کے لیے کام نہیں کر رہے ہیں۔ اخبار سراج متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں اس طرح کے رودادنویسوں کی جالکاری قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

تاہم اشتہارات اور خریداروں کی کمی کی وجہ سے کئی اخبارات جیسے کہ سعودی ریسرچ اینڈ پبلی کیشن گروپ کی جانب سے خلیجی دنیا میں شائع پہلا ملیالم اخبار ملیالم نیوز، 100 سالہ قدیم ملیالم اخبار دیپیکا کا خلیجی ایڈیشن، عربیہ نیوز اور عربیہ ایوننگ اب مسدود ہو چکے ہیں۔[3]

2016ء کے شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں ملیالی مصنفین کی تخلیقات[ترمیم]

2016ء کے شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں کئی ملیالی مصنفین اپنی مطبوعہ کتابوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس کی تفصیلات اس طرح ہیں:

  • گلف نیوز عملے کا حصہ رہنے والے رنجیت واسودیون نے اپنی دوسری کتاب "نِشکلنگن" (معنیٰ: معصوم) جاری کی جو افسانوں کا مجموعہ ہے۔
  • کے ایم عباس (جن اوپر کے قطعے میں ذکر موجود ہے) نے تازہ ناول دائرہ جاری کی جو حقیقی زندگی میں ملنے والے کرداروں پر مبنی ہے۔ انہوں نے تارکینِ وطن کی زندگیوں پر ایک کتاب پرواسا کناووکال (معنیٰ: تارکینِ وطن کے سپنے) بھی جاری کی۔
  • کرشنا بھاسکر کی ناول ہرنیاگربھم (معنیٰ:ہرن کا حمل) بھی ملیالی تارکینِ​ وطن کی زندگیوں سے جوڑتی ہے۔
  • شابو کِلیتاٹِل نے، جو ہِٹ 96.7 ریڈیو چینل کے صدر ہیں، ایک کتاب کالم … کاوالم شائع کی جو کاوالم ناراین پنیکر کی زندگی اور کاموں کو ایک خراجِ عقیدت ہے۔ پنیکر مشہور ڈراما اداکار، ناٹکوں کے ہدایت کار اور ملیالم شاعر تھے جو 2016ء کے اوائل میں گزر گئے۔
  • بَیجو بھاسکر نے، جو ایشیانیٹ ریڈیو کے نیوز ایڈیٹر ہیں، ڈاکٹر مُرلی کرشنا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے والی ایک کتاب شائع کیے۔ مرلی ایک مشہور مصنف اور ماہر جرمیات تھے۔
  • ملیالی ادیبوں کی ٹیم نے، جس میں صحافی صادق قابل بھی تھے، متحدہ عرب امارات کے 100 لکھاریوں کی کہانیوں اور نظموں کو ایک ادبی بُلیٹین میں شائع کیا، جس کا نام بُوکِش رکھا گیا۔ اس میں عرب شاعر شہاب غنیم کی ایک نظم کا ملیالم ترجمہ بھی شائع ہوا۔
  • صادق کی 14 سالہ لڑکی عزت مریم قابل نے اس موقع پر ایک انگریزی ناول ‘When Dusk Falls, Stars Rise’ جاری کی۔
  • صحافی وَنِتا ونود نے ایک کتاب شائع کی جس کا ملیالم میں عنوان مُری وورم (معنیٰ:زخم کے ساحل پر) تھا، یہ کتاب موروکن کی زندگی سے متاثر ہو کر لکھی گئی جو کیرلا کے پریشان حال سڑک پر رہنے والے بے سہارا بچوں کے لیے کیے گئے خیراتی کاموں کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔
  • سڑک پر بے آسرا لڑکی سے مصنفہ بننے والی شیمی، جس کی کتاب نڈاوَژِیِلے نیروکل (‘Nadavazhiyile Nerukal’) (معنیٰ:گذرگاہ کی سچائیاں) گزشتہ سال کے شارجہ انٹرنیشنل بک فیئر میں سب سے زیادہ فروختیدہ تھی، نے اپنی مسقبل کی کتاب ملاپورتِنٹے مَرومَگل (‘Malappurathinte Marumakal’) (معنیٰ: ملاپورم کی بہو) کا اعلان ایک منفرد انداز میں کیا۔
  • دبئی میں مقیم خاتون فن کار اشعر نے اپنی دوسری کتاب کے سرورق کو برسرموقع اتار کر حاضرین کے آگے پیش کیا۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]