مندرجات کا رخ کریں

متکلم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

متکلمین یا اہلِ کلام وہ علماء تھے جنھوں نے عقائد کے اثبات کے لیے عقلی دلائل اور برہان کو بنیاد بنایا۔ ان کا طریقۂ کار یہ تھا کہ دینی عقائد کو منطق، استدلال اور فکری مناظرے کے ذریعے واضح اور ثابت کیا جائے۔[1]

اسلام میں سب سے پہلے جس شخصیت نے منہجِ کلامی کو منظم انداز میں استعمال کیا وہ واصل بن عطاء (متوفی 131ھ) تھے، جو معتزلہ کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے عقلی جدل کی بنیادیں قائم کیں اور توحید و عدل جیسے بنیادی عقائد کو منطق اور عقل کی روشنی میں بیان کیا۔ انھوں نے اپنے مخالفین جیسے جبریہ اور مجسمہ کے خلاف بھی عقلی دلائل سے بحث کی۔ [2] .[3]


ان سے پہلے بھی پہلی صدی ہجری کے اواخر میں بعض متکلمین نمایاں ہوئے، مثلاً جعد بن درہم اور جہم بن صفوان۔ انھوں نے بھی عقلی اصولوں کو اپنے عقائدی مباحث میں استعمال کیا، اگرچہ ان کے نظریات شدید اختلاف اور تنقید کا موضوع بنے رہے۔

اہلِ سنت میں منہجِ کلام کا آغاز

[ترمیم]

دوسری جانب، اہلِ سنت والجماعت کے بعض علما نے بھی معتزلہ اور جہمیہ کے ردّ میں کلامی منہج اپنایا۔ ان میں نمایاں نام عبد الله بن سعيد بن كلاب (متوفی تقریباً 245ھ) کا ہے۔ انھوں نے شرعی نصوص اور عقلی برہان کو یکجا کیا اور ایک ایسا علمی ڈھانچہ قائم کیا جسے بعد میں اشعری مکتبِ فکر کی بنیاد سمجھا گیا۔

ان کے بعد حارث محاسبی (متوفی 243ھ) آئے، جنھوں نے کلامی مناظرے میں روحانی اور اخلاقی پہلو شامل کیا۔ ان کا انداز زہد و تقویٰ اور منطقی استدلال کا حسین امتزاج تھا۔

اشعری اور ماتریدی مدارس

[ترمیم]

چوتھی صدی ہجری کے آغاز میں ابو الحسن اشعری (متوفی 324ھ) نے علمِ کلام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا۔ وہ ابتدا میں معتزلی تھے، لیکن بعد میں انھوں نے معتزلہ کے بعض اصول ترک کر کے اہلِ سنت کے عقائد کو ایک معتدل عقلی و جدلی اسلوب میں پیش کیا۔ انھوں نے عقل کے بے جا استعمال اور نصوص کے انکار دونوں سے اجتناب کی راہ اختیار کی۔.[4]


اسی دور میں مشرقی اسلامی علاقوں میں ابو منصور ماتریدی (متوفی 333ھ) نے ماتریدی مکتب کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے بھی عقائد کے اثبات کے لیے عقلی دلائل استعمال کیے، مگر نصوص پر نسبتاً زیادہ اعتماد کیا۔[5]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "ص7 - كتاب شرح الحموية عبد الرحيم السلمي - طوائف علم الكلام - المكتبة الشاملة"۔ shamela.ws۔ 2023-07-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-07-06
  2. حسن الشافعي، المدخل إلى علم الكلام
  3. الشهرستاني، الملل والنحل.
  4. ابن عساكر، تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام أبي الحسن الأشعري.
  5. الماتريدي، كتاب التوحيد، مقدمة المحقق.