مجاہد بن جبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مجاہد بن جبیر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 642  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 722 (79–80 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
استاد عبد اللہ بن عباس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
قابل ذکر شاگرد ابو عمرو بن علاء بصری،  ایوب سختیانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تفسیر قرآن،  علم حدیث،  فقہ،  قرأت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

مجاہد بن جبیر عبد اللہ ابن کثیر قاری مکہ کے استاد ہیں جوقراء سبعہ میں شامل ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

مجاہد نام، ابوالحجاج کنیت، قیس بن مخزومی کے غلام تھے۔

ولادت[ترمیم]

ان کی پیدائش 21ھ میں زمانہ خلافت فاروق اعظم ہوئی۔

قرأت وتفسیر[ترمیم]

قرأت اورتفسیر کے اس عہد کے نہایت نامور عالم تھے،تفسیر انہوں نے خیر الامۃ ابن عباس سے حاصل کی تھی اور پورے تیس مرتبہ ان سے قرآن کا دورہ کیا تھا اور اس محنت اورتحقیق کے ساتھ کہ ہر ایک سورہ پر رک کر اس کی شانِ نزول اوراس کے جملہ متعلقات پوچھتے جاتے تھے اس محنت اورابن عباس جیسے مفسر قرآن کی تعلیم نے ان کو بہت بڑا مفسر بنادیا،خصیف کا بیان ہے کہ مجاہد تفسیر کے سب سے بڑے عالم تھے قتادہ کہتے تھے کہ اس وقت کے باقیات صالحات میں مجاہد تفسیر کے سب سے بڑے عالم ہیں قرآن کے قاری بھی تھے۔

حدیث[ترمیم]

حدیث کے بھی وہ نہایت مشہور حافظ تھے،امام ذہبی ان کو مضر اورحافظِ حدیث ابن سعد کثیر الحدیث اورامام نووی امام حدیث لکھتے ہیں حبر الامۃ عبد اللہ بن عمر ان کے حفظ کے اتنے معترف تھے کہ فرماتے تھے کہ کاش نافع کا حفظ بھی تمہاری طرح ہوتا ۔

اخلاص فی العلم[ترمیم]

علم کا مقصد کسی نہ کسی دنیاوی منفعت سے کم خالی ہوتا ہے لیکن مجاہد کا دامن ان تمام آمیزشوں سے بالکل پاک تھا، مسلمہ بن کہیل کا بیان ہے کہ عطاء طاؤس اورمجاہد کے علاوہ میں نے کسی کو نہیں پایا،جس کا مقصد علم سے خالصۃً لوجہ اللہ رہا ہو۔[1] [2]

وفات[ترمیم]

83 برس کی عمر میں 103ھ میں وفات پائی۔،عین سجدہ کی حالت میں سفرِ آخرت کیا وفات کے وقت ستر اسی سال کی عمر تھی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تہذیب التہذیب:10/43
  2. شذرات الذہب :1/125
  3. النشر فی القراءات العشر ،مؤلف : شمس الدين ابو الخير ابن الجزری