مجتہد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مجتہد اس فقیہ کو کہا جاتا ہے جو اجتہاد و استنباط کی اہلیت و قوت کا حامل ہو۔

اصولیین کی اصطلاح میں[ترمیم]

محقق ابن امیر الحاج رح فرماتے ہیں کہ اصولیین کے ظاہری کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک غیر مجتہد فقیہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی غیر فقیہ مجتہد بن سکتا ہے، گویا ان کے نزدیک جو مجتہد ہے وہ فقیہ بھی ہے اور جو فقیہ ہے وہ مجتہد بھی ہے۔ گویا فقہ و اجتہاد ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اس صورت میں فقیہ کی جو تعریف ہے وہ مجتہد کی تعریف بھی ہے۔ چنانچہ محقق موصوف فقیہ مجتہد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

ہو البالغ العاقل ذو ملكة يقتدر بها على استنتاج الأحكام من مآخذها

مجتہد فقیہ وہ عاقل بالغ مسلمان جو ایسا ملکہ (صلاحیت) کا حامل ہو جس کے ذریعے وہ استنباطِ احکام کی قدرت رکھتا ہو۔[1]

مجتہد کی اقسام[ترمیم]

مجتہد کی بنیادی قسمیں دو ہیں:

  1. مجتہد مطلق (کلی مجتہد): جس کو کسی بھی پیش آنے والے واقعہ میں اجتہاد کرنے کی قدرت و اہلیت حاصل ہو۔
  2. مجتہد فی البعض (جزوی مجتہد): جس کو صرف بعض مسائل میں (ماہر ہونے کی وجہ سے ) اجتہاد کرنے کی قدرت ہو۔

اسلامی قانون کے ماہرین نے علما فقہ کو کم و بیش چھ طبقوں میں تقسیم کیا ہے:

  1. مجتہد کامل
  2. مجتہد فی المذہب
  3. مجتہد فی المسائل
  4. اصحاب تخریج
  5. اصحاب ترجیح
  6. اصحاب تمییز

موخر الذکر چاروں طبقات کا شمار ایک طرح سے "علما مقلدین" ہی میں ہوتا ہے۔ موضوع بحث چونکہ اجتہاد ہے اس لیے ذیل میں طبقاتِ فقہا کی صرف ان ابتدائی قسموں کا ذکر کیا جاتا ہے جو تخریج احکام میں مکمل یا کچھ نہ کچھ اجتہاد سے کام لیتے ہیں۔

مجتہد کامل[ترمیم]

ان میں سرِفہرست مجتہد کامل کا شمار ہوتا ہے، یہ حضرات کسی دوسرے فقیہ مجتہد کی تقلید کیے بغیر اپنی دینداری وخدا ترسی اور بے پناہ علم و صلاحیت کی بنا پر براہِ راست کتاب وسنت سے اصول و قواعد کا استنباط بھی کرتے ہیں اور پھر ان کی روشنی میں احکام و مسائل کی تخریج بھی؛ چنانچہ ابو زہرہ لکھتے ہیں:

وفی الجملۃ یسلکون کل سبل الاستدلال التی یرتوونہا ویسوفیہا تابعین لاحد فہم الذین یرسمون المناھج لانفسہم ویفرعون الفروع التی یرونہا"۔ [2]

اس زمرہ میں بالاتفاق فقہاے صحابہؓ اور فقہاے تابعینؓ میں سے ائمہ اربعہ کے علاوہ سعید بن المسیبؒ، اوزاعیؒ، ابراہیم نخعیؒ، سفیان ثوریؒ، لیث بن ثابت سعدؒ، ابو ثورؒ اور صحیح تر قول کے مطابق صاحبین یعنی ابو یوسف و محمد بن حسن شیبانی اور زفر رحمہم اللہ کا شمار بھی اسی طبقہ میں ہوتا ہے۔

مجتہد منتسب[ترمیم]

دوسری قسم ان مجتہدین کی ہے جنھیں منتسب مجتہدین فی المذہب کہا جاتا ہے، یہ حضرات اصول میں تو کسی مجتہد کامل کے مقلد ہوتے ہیں لیکن احکام کے استنباط اور مسائل کی تخریج میں خود بھی اجتہاد سے کام لیتے ہیں، مثلاً علما حنفیہ میں حسن بن زیادؒ، ابوالحسن کرخیؒ، ہلال الرائی، ابوبکر الاصم رحمہم اللہ تعالیٰ:

ھذۃ الطبقۃ الثانیۃ ویسمون المنتبین وھم الدین اختاروا اقوال الامام فی الاصل وخالفوہ فی الفرع"۔ [3]

مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ سوائے ائمہ اربعہ کے "مجتہد صحابہ و تابعین" میں سے ایک کا مسلک اور مذہب بتدریج دنیا سے مفقود ہوتا گیا، اب کچھ فقہ وحدیث کی مختلف کتابوں میں ان حضرات کے اقوال ملتے ہیں، بعد کو چل کر جب ائمہ اربعہ کی جامعیت و ہمہ گیری کو فقہ کو مرتب و مدون شکل میں محفوظ کر لیا گیا تو اجتہاد کا یہ سلسلہ از خود منقطع ہو گیا اور جمہور علماِ امت نے ان چاروں مذہبوں میں سے کسی ایک کی تقلید ہی کو ضروری قرار دیا ہے:

انعقد الاجماع علی عدم العلمل بالمذاہب المخالفۃ للائمۃ الاربعۃ۔ [4]
ولما اندرست المذاھب الحقۃ الاھذہ الاربعۃ کان اتباعھا تباعاً للسواد الاعظم والخروج عنھا خروجاً عن السواد الاعظم"۔ [5]

مجتہد کے شرائط[ترمیم]

ایمان وعدل[ترمیم]

اجتہاد کے لیے ایک نہایت اہم شرط شریعت اسلامی پر پختہ ایمان و ایقان اور اپنی عملی زندگی میں فسق و فجور سے گریز و اجتناب ہے، علامہ آمدی رحمہ اللہ نے اس کو شرط اولین قراردیا ہے کہ وہ خدا کے وجود، اس کی ذات و صفات اور کمالات پر ایمان رکھتا ہو، رسول کی تصدیق کرتا ہو، شریعت میں جو بھی احکام آئے ہیں ان کی تصدیق کرتا ہو۔[6]

موجودہ زمانہ میں تجدد پسند اور بزعم خود روشن خیالوں کو اجتہاد کا شوق جس طرح بے چین و مضطرب کیے ہوا ہے، علاوہ علم میں ناپختگی کے ان کی سب سے بڑی کمزوری ذہنی مرعوبیت، فکری استقامت سے محرومی اور مغربی عقیدہ و ثقافت کی کورانہ تقلید کا مرض ہے، ان کے یہاں اجتہاد کا منشا زندگی کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل نہیں ہے؛ بلکہ اسلام کو خواہشات اور مغرب کی عرضیات کے سانچہ میں ڈھالنا ہے یہ اسلام پر حقیقی ایمان اور تصدیق سے محرومی کا نتیجہ ہے، ظاہر ہے جو لوگ اس شریعت پر دل سے ایمان نہیں رکھتے ہوں، جن کا ایمان ان لوگوں کے فلسفہ و تہذیب پر ہو جو خدا کے باغی اور اس دین و شریعت کے معاند ہوں ان سے اس دین کے بارے میں اخلاص اور صحیح رہبری کی توقع رکھنا راہزنوں سے جان و مال کی حفاظت کی امید رکھنے کے مترادف ہے۔ ایمان کی تخم سے جو برگ و بار وجود میں آتا ہے وہ عمل صالح ہے، اس لیے مجتہد کو گناہوں سے مجتنب اور شریعت کے اوامر کا متبع ہونا چاہیے، اس کیفیت کا نام اصطلاح میں عدالت ہے، کیونکہ اس کیفیت کے پیدا ہوئے بغیر کسی شخص کی رائے پر اعتماد اور اعتبار نہیں کیا جاسکتا [7] اور یہ بات قرین قیاس بھی ہے؛ کیونکہ حدیث کے قبول کیے جانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے راوی دینی اعتبار سے قابل اعتبار ہوں، شریعت کے احکام پر عمل پیرا ہوں، ممنوعات سے بچتے ہوں، راوی دین کے احکام پہونچانے کا کام کرتے ہیں اور مجتہدین ان روایات کے معتبر اور نامعتبر ہونے کو پرکھتے اور ان سے احکام کا اخذ و استنباط کرتے ہیں، خدا ناترس راویوں کو روایات میں تحریف کے لیے جو موقع حاصل ہے، خشیت سے عاری مجتہدین کے لیے تحریف معنوی کے اس سے زیادہ مواقع ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ مجتہدین کے لیے عدل و اعتبار کا حامل ہونا زیادہ ضروری ہے۔

امام غزالی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ وہ عملی اعتبار سے احکام شریعت کے مراجع: قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس کا احاطہ رکھتا ہو [8]

اور امام بغویؒ نے ان چار کے علاوہ عربی زبان کا بھی ذکر کیا ہے[9] مناسب ہوگا کہ ان میں سے ہر ایک کا علاحدہ ذکر کیا جائے اور ان سے متعلق ضروری وضاحت کی جائے۔

قرآن کا علم[ترمیم]

قرآن کی ان آیات سے واقفیت ضروری ہے جو احکام سے متعلق ہوں، عام طور پر علما نے لکھا ہے کہ ایسی آیات کی تعداد پانچ سو ہے[7]

مگر محققین کا خیال ہے کہ یہ تحدید صحیح نہیں ہے، کیونکہ قرآن میں احکام صرف اوامر و نواہی میں منحضر نہیں ہیں، قصص و واقعات اور مواعظ میں بھی فقہی احکام نکل آتے ہیں [10]

علامہ شعر انی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر فہم صحیح میسر ہو اور تدبیر سے کام لیا جائے تو اس سے کئی اور احکام نکل آئیں گے اور محض قصص و امثال کے مضامین بھی احکام سے خالی نہ ہوں گے [11]

چونکہ قرآن مجید کے بعض احکام منسوخ ہیں، اس لیے ناسخ و منسوخ کے علم سے بھی واقف ہونا ضروری ہے تاکہ متروک احکام کو قابل عمل نہ ٹھہرایا جائے (الابہاج: 4/17)

مگر اس کے لیے تمام منسوخ اور ناسخ آیات و روایات کا احاطہ ضروری نہیں ہے، اتنی سی بات کافی ہے کہ جس آیت یا حدیث سے وہ استدلال کر رہا ہے وہ منسوخ نہ ہو [12]

اسی طرح مجتہد کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ حافظ قرآن ہو یا ان آیات کا حافظ ہو جن سے احکام متعلق نہیں ہیں۔[13]

احادیث کا علم[ترمیم]

مجتہد کے لیے ان احادیث سے واقف ہونا ضروری ہے جن سے فقہی احکام مستنبط ہوتے ہیں، مواعظ اور آخرت وغیرہ سے متعلق روایات پر عبور ضروری نہیں، ایسی احادیث گو ہزاروں کی تعداد میں ہیں لیکن بقول علامہ رازی و غزالی وہ غیر محدود بھی نہیں ہیں[14]

بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ ایسی احادیث کی تعداد تین ہزار [15] اور بعض کی رائے بارہ سو ہے لیکن اس تحدید سے اتفاق مشکل ہے۔

حدیث سے واقفیت کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کے صحیح و معتبر ہونے سے واقف ہو، خواہ یہ واقفیت براہ راست اپنی تحقیق پر مبنی ہو یا کسی ایسے مجموعہ احادیث سے روایت نقل کی گئی ہو جس کی روایت کو ائمہ فن نے قبول کیا ہو [16]

یہ بھی معلوم ہو کہ حدیث متواتر ہے یا مشہور یا خبر واحد، نیز راوی کے احوال سے بھی آگہی ہو [17]

اب چونکہ روایات میں وسائط بہت بڑھ گئے ہیں، راویوں پر طویل مدت بھی گزر چکی ہے اور ان کے بارے میں تحقیق دشوار ہے اس لیے بخاری و مسلم جیسے ائمہ فن نے جن راویوں کی توثیق کی ہے ان پر ہی اکتفاء کیا جائے گا [18]

اس طرح جن روایات کو بعض اہل علم نے قبول نہیں کیا ہے ان کے راویوں کی تو تحقیق کی جائے گی لیکن جن احادیث کو امت میں مقبولیت مل چکی ہے ان کی اسناد پر غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔[18]

البتہ مجتہد کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام احادیث احکام کا حافظ ہو، اگر اس کے پاس احکام سے متعلق احادیث کا کوئی مجموعہ ہو اور اس سے استفادہ کرے تو یہ بھی کافی ہے اہل علم نے خاص طور پر اس سلسلہ میں سنن ابی داؤد کا ذکر کیا ہے۔[19]

اجماعی مسائل کا علم[ترمیم]

جن مسائل پر امت کے مجتہدین کا اتفاق ہو جائے تو اس سے اختلاف درست نہیں ہے، اس لیے مجتہد کے لیے یہ ضروری ہے کہ اجماعی مسائل سے بھی واقف ہو، البتہ تمام اجماعی اور اختلافی مسائل کا احاطہ ضروری نہیں ہے[20] بلکہ جس مسئلہ میں اپنی رائے دے رہا ہو اس کے بارے میں اسے واقف ہونا چاہیے [21] یہ جاننا بھی اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ اس پر اجماع کیوں ہے؟ بلکہ اس قدر معلوم ہوکہ اس مسئلہ میں اتفاق ہے یا نہیں؟ [21] یا غالب گمان ہو کہ یہ مسئلہ اس دور کا پیدا شدہ ہے [21] کیونکہ اجماع انہی مسائل میں ممکن ہے جو پہلے واقع ہوچکے ہیں۔

قیاس اجتہاد کے اصول و شرائط کا علم[ترمیم]

چونکہ احکام شریعت کا بہت بڑا حصہ قیاس پر مبنی ہے اور مجتہد کی صلاحیتِ اجتہاد کا بھی اصل مظہر یہی ہے، بلکہ حدیث میں اجتہاد ہی کا لفظ آیا ہے[22] جس سے فقہا نے قیاس پر استدلال کیا ہے، اس لیے قیاس کے اصول و قواعد اور شرائط و طریق کار سے واقفیت بھی ضروری ہے، اس لیے کہ قیاس اجتہاد کے لیے نہایت اہم اور ضروری شرط ہے[23]

امام غزالی رحمہ اللہ نے قیاس کی بجائے عقل کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں مزید عموم ہے اور قیاس بھی اس میں داخل ہے۔[24]

عربی زبان کا علم[ترمیم]

احکام شریعت کے دو اہم مصادر قرآن اور حدیث کی زبان عربی ہے اس لیے ظاہر ہے کہ عربی زبان سے واقفیت نہایت ضروری ہے اور کار اجتہاد کے لیے بنیاد و اساس کا درجہ رکھتی ہے، عربی زبان کے لیے عربی لغت اور قواعد سے واقف ہونا چاہیے، اتنی واقفیت ہو کہ محلِ استعمال کے اعتبار سے معنی متعین کرسکے، صریح اور مبہم میں فرق کرسکے، حقیقی اور مجازی استعمال کو سمجھ سکے، فن لغت اور نحو و صرف میں کمال ضروری نہیں ہے، اس سے اس قدر واقفیت ہونی چاہیے کہ قرآن و حدیث کے متعلقات کو سمجھنے میں دشواری نہ ہو [25] اور بقول امام رازی اس کا لغت میں اصمعی اور نحو میں سیبویہ و خلیل ہونا مطلوب نہیں ہے۔[26]

مقاصد شریعت سے آگہی[ترمیم]

اجتہاد کے لیے ایک اہم اور ضروری شرط مقاصدِ شریعت سے واقفیت ہے اور یہ واقفیت بدرجہ کمال و تمام مطلوب ہے، عام طور پر اہل علم نے اس کا مستقل طور پر ذکر نہیں کیا ہے؛ لیکن امام ابو اسحاق شاطبی رح نے اس کی طرف خصوصی توجہ دی ہے وہ اجتہاد کے لیے دو بنیادی وصف کو ضروری قرار دیتے ہیں، مقاصد شریعت سے مکمل آگہی اور استنباط کی صلاحیت [27] اور یہ واقعہ ہے کہ مقاصد شریعت سے پوری پوری آگہی نہایت اہم شرط ہے، کیونکہ فقہا کو احکام شریعت کے عمومی مقاصد سے ہم آہنگ رکھا جائے اور مجتہد کا اصل کام یہی ہے کہ وہ مقاصد شریعت کو ہمیشہ سامنے رکھے اور ان کو پورا کرنے والے وسائل و ذرائع کو اس نقطۂ نظر سے دیکھے کہ وہ موجودہ حالات میں شریعت کے بنیادی مقاصد و مصالح کو پورا کرتے ہیں یا نہیں؟۔

زمانہ آگہی[ترمیم]

اجتہاد کے لیے ایک نہایت اہم اور ضروری شرط جس کا عام طور پر صراحۃً ذکر نہیں کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مجتہد اپنے زمانہ کے حالات سے بخوبی واقف ہو، عرف و عادت ،معاملات کی مروجہ صورتوں اور لوگوں کی اخلاقی کیفیات سے آگاہ ہو کہ اس کے بغیر اس کے لیے احکام شریعت کا انطباق ممکن نہیں، اس لیے محققین نے لکھا ہے کہ جو شخص اپنے زمانہ اور عہد کے لوگوں سے یعنی ان کے رواجات معمولات اور طور طریق سے باخبر نہ ہو وہ جاہل کے درجہ میں ہے۔[28]

مجتہد کے لیے زمانہ آگہی کی ضرورت کیوں؟[ترمیم]

مجتہد کے لیے زمانہ آگہی دو وجوہ سے ضروری ہے:

اول ان مسائل کی تحقیق کے لیے جو پہلے نہیں تھے اب پیدا ہوئے ہیں؛ کیونکہ کسی نو ایجاد شے یا نو مروج طریقہ پر محض اس کی ظاہری صورت کو دیکھ کر کوئی حکم لگا دینا صحیح نہیں ہوگا، جب تک اس کی ایجاد اور رواج کا پس منظر معلوم نہ ہو، وہ مقاصد معلوم نہ ہوں جو اس کا اصل محرک ہیں، معاشرہ پر اس کے اثرات و نتائج کا علم نہ ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ سماج کس حد تک ان کا ضرورت مندہے؟ اس سب امور کے جانے بغیر کوئی بھی مجتہد اپنی رائے میں صحیح نتیجہ تک نہیں پہونچ سکتا۔

دوسرے بعض ایسے مسائل میں بھی جو گو اپنی نوعیت کے اعتبار سے نو پید نہیں ہیں؛ لیکن بدلے ہوئے نظام و حالات میں ان کے نتائج میں فرق واقع ہو گیا ہے، دوبارہ غور و فکر کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ایک نہایت اہم پہلو ہے جو فقہ اسلامی کو زمانہ اور اس کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتا ہے؛ اکثر اہل علم نے اس نکتہ پر روشنی ڈالی ہے۔

علامہ قرافیؒ نے لکھا ہے کہ منقولات پر جمود دین میں گمراہی اور علما سلف صالحین کے مقصد سے ناواقفیت ہے۔[29]

حافظ ابن قیمؒ نے اپنی مایہ ناز تالیف اعلام الموقعین میں اس موضوع پر مستقل باب باندھا ہے [30]

علامہ شامیؒ نے عرف و عادت میں تغیر پر ایک مستقل رسالہ تالیف کیاہے، اس رسالہ سے علامہ موصوف رحمہ اللہ کی ایک چشم کشا عبارت نقل کی جاتی ہے: " بہت سے احکام ہیں جو زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ بدل جاتے ہیں؛ اس لیے کہ اہل زمانہ کا عرف بدل جاتا ہے، نئی ضرورتیں پیدا ہوجاتی ہیں، اہل زمانہ میں فساد (اخلاق) پیدا ہوجاتا ہے، اب اگر شرعی حکم پہلے کی طرح باقی رکھا جائے تو یہ مشقت اور لوگوں کے لیے ضرر کا باعث ہو جائے گا اور ان شرعی اصول و قواعد کے خلاف ہو جائے گا جو سہولت وآسانی پیدا کرنے اور نظام کائنات کو بہتر اور عمدہ طریقہ پر رکھنے کے لیے ضرر و فساد کے ازالہ پر مبنی ہے۔[31]

'مجتہد کو نتیجہ تک پہونچنے کے لیے درکار وسائل[ترمیم]

مجتہد کو کسی نتیجہ تک پہونچنے کے لیے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ان کو فقہا نے تحقیق مناط ،تخریج مناط اور تنقیح مناط سے تعبیر کیا ہے، مناط اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز لٹکائی جائے۔

ذات انواط[ترمیم]

زمانۂ جاہلیت میں ایسے درخت کو کہا جاتا تھا جس سے اسلحہ لٹکائے جائیں، رسی کو ستون سے باندھنے کو کہا جاتا تھا "نطت الحبل بالوتد" اسی لیے مناط علت (وجہ یا سبب) کو کہتے ہیں؛ کیونکہ علت ہی سے احکام متعلق ہوتے ہیں [32] علت کے سلسلہ میں مجتہد کو دو بنیادی کام کرنے پڑتے ہیں، ایک اس بات کی تحقیق کہ شریعت کے کسی حکم کی کیا علت ہے، دوسرے یہ کہ یہ علت کہاں اور کن صورتوں میں پائی جاتی ہے، ان دونوں کاموں کے لیے جو طریق کار اختیار کیا جاتا ہے اس کو تنقیح، تخریج اور تحقیق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

تنقیح مناط[ترمیم]

شریعت میں ایک حکم دیا گیا ہو اور یہ حکم کس صورت میں ہوگا اس کو بھی بیان کر دیا گیا ہو؛ لیکن جو صورت ذکر کی گئی ہو اس میں مختلف اوصاف پائے جاتے ہوں، شارع نے اس خاص وصف کی صراحت نہ کی ہو جو اس صورت میں مذکورہ حکم کی وجہ بنائے، اس کو تنقیح مناط کہتے ہیں، اس کو علامہ شاطبی ؒ نے لکھا ہے کہ تنقیح مناط میں وصف معتبر کو وصف نامعتبر سے ممتاز کیاجاتا ہے۔[33]

عام طور پر اس سلسلے میں یہ مثال ذکر کی جاتی ہے کہ ایک دیہاتی شخص جس نے رمضان کے روزہ میں اپنی بیوی سے صحبت کرلی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا، اب اس واقعہ میں کئی باتیں جمع ہیں، اس شخص کا دیہاتی ہونا، بیوی سے صحبت کرنا، خاص اس سال کے رمضان میں اس واقعہ کا پیش آنا، یہ سب ایسی باتیں نہیں ہیں جو کفارہ کا سبب بن سکتی ہیں؛ بلکہ رمضان المبارک میں قصدًا روزہ توڑنا ہی ایسا وصف ہے جو اس حکم کی اساس بن سکتا ہے، یہی تنقیح مناط ہے۔ اسی طرح قرآن مجید نے خمر (شراب) کو حرام قراردیا ہے، خمر انگوری شراب کو کہتے ہیں، اس میں مختلف خصوصیات موجود ہیں، اس کا انگوری ہونا، میٹھا ہونا، کسی خاص رنگ کا ہونا اور نشہ آور ہونا، مجتہدین ان تمام اوصاف میں نشہ آور ہونے کی کیفیت کو خمر کے حرام ہونے کی علت (وجہ یا سبب) قرار دیتے ہیں اور باقی دوسرے اوصاف کو اس کے لیے موثر نہیں مانتے؛ غرض مختلف اوصاف میں سے اس خاص وصف کے ڈھونڈ نکالنے کو تنقیح مناط کہتے ہیں ،جو نص میں مذکورہ حکم کے لیے اساس و بنیاد بن سکتے ہیں۔

تخریج مناط[ترمیم]

نص نے ایک حکم دیا ہو اور اس کی کوئی علت (وجہ یا سبب) بیان نہ کی ہو، اب مجتہد علت دریافت کرتا ہے کہ اس حکم کی علت کیا ہے؟ اس عمل کا نام تخریج مناط ہے [34]

مثلاً: ارشاد خداوندی ہے کہ دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہ کیا جائے [35] حدیث میں بعض اور رشتہ دار عورتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے [36] مگر کوئی علت (وجہ یا سبب) مقرر نہیں کی گئی ہے کہ دونوں بہنوں کو کیوں جمع نہ کیا جائے، فقہا نے تلاش و تتبع سے کام لیا اور اس نتیجہ پر پہونچے کہ اس کی وجہ سے دو محرم عورتوں کو بیک نکاح میں جمع کرنا ہے؛ لہٰذا کسی بھی دو محرم رشتہ دار عورتوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام قرار دیا؛ یہی تخریج مناط ہے۔

تنقیح و تخریج میں فرق[ترمیم]

تخریج مناط اور تنقیح مناط میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے دونوں کا منشا نصوص میں مذکور حکم کی علت دریافت کرنا ہے، دونوں میں فرق صرف اس قدر ہے کہ تنقیح مناط میں مختلف ممکنہ علتوں میں سے ایک کی تعیین ہوتی ہے، جیسے روزہ کے کفارہ میں علت روزہ کی حالت میں جماع بھی ہو سکتا ہے اور قصدًا روزہ توڑنا بھی ہو سکتا ہے، شوافع نے جماع کو علت مانا ہے جبکہ احناف نے قصدًا (جانتے بوجھتے) روزہ توڑنے کو علت قراردیا ہے؛ مگر تخریج مناط میں ایسے وصف کو علت بنایا جاتا ہے جس کا اس حکم کے لیے موثر ہونا بالکل بے غبار ہو اور اس میں تنقیح و تہذیب کی ضرورت پیش نہ آئے۔

تحقیق مناط[ترمیم]

تحقیق مناط کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ کوئی متفق علیہ یا نص سے صراحتہً ثابت شدہ قاعدہ شرعی موجود ہو، مجتہد کسی خاص واقعہ میں دیکھتا ہے کہ اس میں یہ قاعدہ موجود ہے یا نہیں؟ مثلاً محرم کے لیے قرآن مجید نے یہ قاعدہ مقرر کر دیا ہے کہ اگر وہ شکار کرے تو اسی کے مثل بطور جزاء ادا کرے [37] اب مجتہد متعین کرتا ہے کہ گائے کا مثل کون سا جانور ہے، جنگلی گدھے کا مماثل کس پالتو جانور کو سمجھا جائے، یہ تحقیق مناط کی پہلی صورت ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ نص میں کوئی حکم علت کی صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہو یا اس حکم کے لیے کسی خاص بات کے علت ہونے پر اجماع ہے، مجتہد کسی غیر منصوص صورت یا اس صورت میں جس کے متعلق صراحۃً فقہا کا اجماع موجود نہیں ہے، وہ یہ دیکھتا ہے کہ یہ علت یہاں پر پائی جاتی ہے یا نہیں؟ جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے جھوٹے کو فرمایا کہ ناپاک نہیں ہے، اس لیے کہ یہ بلی ان مخلوقات میں سے ہے جن کی تم پر بہت زیادہ آمدورفت ہوتی رہتی ہے۔[38]

اب مجتہد غور کرتا ہے کہ کیا چوہے وغیرہ میں بھی یہی علت پائی جاتی ہے؟ اور کیا کتے بھی اس زمرہ میں آتے ہیں؟ عام فقہا چوہے اوراس قسم کے بلوں میں رہنے والی مخلوق کو تو اس حکم میں رکھتے ہیں، کتوں کو اس حکم میں داخل نہیں مانتے، مالکیہ کا خیال ہے کہ یہ علت کتوں میں بھی ہے، اس لیے اس کا جھوٹا بھی پاک ہے اور اس کے جھوٹے برتنوں کو دھونے کا حکم قیاس کے خلاف امر تعبدی (بندگی کے طور پر حکم بجا لانا) ہے، چوری کی سزا ہاتھ کا کاٹا جانا ہے؛ لیکن کیا جیب کترا اور کفن چور پر بھی چور کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ گواہ کے لیے عادل ہونا ضروری ہے؛ لیکن فلاں اور فلاں شخص عادل کے زمرہ میں آتا ہے یا نہیں؟ نشہ حرام ہے، لیکن فلاں فلاں مشروبات کیا نشہ آور اشیاء کے زمرہ میں داخل ہیں یا نہیں، یہ سب تفصیلات "تحقیق وانطباق تحقیق مناط" سے متعلق ہیں۔[39]

مجتہد کا دائرہ کار[ترمیم]

احکام کی علتوں کو دریافت کرنا اور ان کو پیش آمدہ مسائل پر منطبق کرنا اگرچہ مجتہد کا بنیادی کام ہے، لیکن اس سے یہ سمجھنا غلط ہے کہ اس کو صرف اتنا ہی کرنا ہے؛ بلکہ اس کا کام مجمل نصوص کی مراد کو پہونچنا اور مشترک المعنی الفاظ کے مصداق کی تعیین کرنا بھی ہے، عربوں کے استعمال اور محاورات کے مطابق شارع کی تعبیرات سے معنی اخذ کرنا بھی اس کا فریضہ ہے، حدیثوں کے معتبر یا نامعتبر ہونے کی تحقیق بھی اس کی ذمہ داری ہے، متعارض دلیلوں میں ترجیح و تطبیق سے بھی اس کو عہدہ برآہونا ہے، اس کے علاوہ اخذ و استنباط اور بحث و تحقیق کے نہ جانے کتنے دشوار گزار مراحل سے مجتہد کو گزرنا پڑتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. التقریر
  2. اصول الفقہ، لابی زہرہ:30
  3. اصول الفقہ، لابی زھرہؒ:369
  4. فتح القدیر
  5. عقدالجید:34
  6. الاحکام للآمدی، الباب الاول فی المجتہدین: 1/415
  7. ^ ا ب المستصفی، فی ارکان الاجتہاد: 2/382
  8. المستصفی، فی ارکان الاجتہاد: 2/383
  9. عقدالجید، باب بیان حقیقۃ الاجتہاد: 1/4
  10. البحر المحیط، باب الثانی المجتھد الفقیہ:4/490
  11. ارشاد الفحول، الشروط الواجب توفرھا فی المجتھد: 2/206
  12. شرح الکوکب المنیر، باب فی بیان احکام المستقل ومایتعلق بہ: 4/461
  13. الابہاج: 4/16
  14. المستصفی:2/384۔ المحصول: 6/23
  15. ارشاد الفحول: 2/207
  16. ارشاد الفحول: 2/207۔ المستصفی:2/384
  17. تیسیرالتحریر:4/90
  18. ^ ا ب المستصفیٰ: 2/387
  19. المستصفیٰ: 2/387۔ ارشاد الفحول:2/207
  20. المستصفی:2/384
  21. ^ ا ب پ کشف الاسرار:4/22
  22. ابوداؤد، حدیث نمبر:3119
  23. المستصفی: 2/266
  24. المحصول :6/23
  25. المستصفی:2//386
  26. الاحکام: 1/416
  27. الموافقات: 3/ 335
  28. رسم المفتی:181 زکریا بکڈپو
  29. کتاب الفروق:2/229
  30. اعلام الموقعین:3/78
  31. نشر العرف
  32. شرح الکوکب المنیر: 4/200
  33. الموافقات: 3/229
  34. مذکرۃ اصول الفقہ: 1/53
  35. النساء:22
  36. مسلم، باب تحریم الجمع الخ، حدیث نمبر:2514
  37. المائدہ:95
  38. ابوداؤد، باب سؤر الھرۃ، حدیث نمبر: 68
  39. اصول الفقہ لابی زھرہ