مجذوب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مجذوب کا کلمہ عربی زبان کے لفظ، جذب سے بنا ہے اور اسی وجہ سے اس کے لغوی معنی غرق ہوجانے، جذب ہوجانے والے کے ہی آتے ہیں۔ مزید یہ کہ عربی میں جذب کے مفاہیم کو مدنظر رکھا جائے تو مجذوب کے معنوں میں کشش اور گرویدہ ہوجانے والے کے بھی آجاتے ہیں۔ صوفیت میں یہ اصطلاح کثرت سے دیکھنے میں آتی ہے اور اس سے مراد ایک ایسی شخصیت کی ہوتی ہے کہ جو کسی راہ (مذہب) میں اس قدر غرق ہو چکی ہو کہ جہاں اس کے بعد شعور (consciousness) کی کیفیات باقی نا رہی ہوں۔

تعریف[ترمیم]

دارالافتاء نامی ایک اسلامی موقع آن لائن لفظ مجذوب کی تعریف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ : مجذوب اللہ کے عشق میں مستغرق لوگ ہوتے ہیں، ان لوگوں کا اللہ کے ساتھ کیا راز وابستہ ہے جس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل کام ہے، نیز یہ لوگ اللہ کے عشق میں پاگل ہوتے ہیں، چنانچہ کبھی کبھار بظاہر خلاف شرع تک کہہ ڈالتے ہیں، لیکن کسی دوسرے کو اس بات کی طرف کان نہیں دھرنا چاہیے اور نہ ہی اس کی ترویج و اشاعت کرنی چاہیے،، یہ لوگ اللہ کے ایسے محبوب ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ٹیڑھی سیدھی ہربات کو پسند کرتا ہے، ہمیں ان کے پوشیدہ حالات کا علم نہیں ہے، اس لیے اس سلسلہ میں کوئی لب کشائی نہ کرنی چاہیے[1]

وجوہات بے شعوری[ترمیم]

ویسے تو مجذوب اشخاص کی وجوہات بیشعوری کی متعدد اقسام بیان کی جاتی ہیں جن کو اگر ان کے بنیادی نقطۂ نظر کے حوالے سے دیکھا جائے تو تین بڑی اقسام میں گروہ بندی کی جاسکتی ہے، ایک وہ جو صوفیت میں بیان کی جاتی ہیں اور مانی جاتی ہیں، دوسری وہ جو صوفیت سے نالاں فرقے والے بیان کرتے ہیں اور تیسری وہ کہ جو نفسیات کے نقطۂ نظر سے بیان کی جاسکتی ہیں۔

صوفی نقطۂ نظر[ترمیم]

اردو لغت نامی ایک موقع آن لائن مجذوب کی تصوف کے لحاظ سے کی جانے والی تعریف اس طرح بیان کرتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ جو ایک شے کی ماہیت میں گم ہو اور ترقی اور نہ کر ے اور اس کی لذت میں محو ہو اور بعض صوفیہ کہتے ہیں کہ مجذوب وہ سالک ہے جس کو حق تعالیٰ نے اپنے نفس کے لیے پیدا کیا ہے اور پسند کیا اس کو اپنی انسیت کے لیے اور پاک کیا اس کو کدوراتِ غیرت سے، پس جمع کیا اس نے جمیع نعماد اور مواہب الٰہیہ کو اور فائز ہوا وہ تمامی مقامات پر بلا کلفت و تعب مجاہدات کے۔ (مصباح التعرف)[2]

مجذوب شخصیات کو ولی کی ایک قسم میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو تجلیء الہٰی (یعنی صوفیت میں پایا جانے والا نظریۂ وحدت الوجود) کی تاب نہیں لاپاتے اور ان کا شیشۂ عقل ٹوٹ جاتا ہے، یعنی دماغ کی ادراک، ذکاء اور حسی ادراک جیسی کیفیات ایک عام آدمی کو ان میں ناپید معلوم پڑتی ہیں۔ اس مقام پر آکر ان کی منزلیں روک دی جاتی ہے۔ ان کی باقی زندگی ایسی ہی گزرتی ہے، کبھی ہوش میں ہوتے ہیں اور کبھی ہوش و حواس سے بیگانہ۔ ان لوگوں کو اللہ کا پاگل بھی کہا جاتاہے۔ یہ شریعت و طریقت کی قیدوبند سے آزاد ہوتے ہیں۔ ان کی نقل کرنا بھی جائز نہیں کیونکہ مجذوبوں کی پیروی کرنے سے زندیق ہوجانے کا ڈر ہوتاہے۔ اسی لیے حضرت سخی سلطان باھو نے فرمایاکہ با مرتبہ تصدیق اور نقالیہ زندیق۔ تاہم ان لوگوں کی تعظیم و تکریم بھی ابھی جگہ مسلم ہے اور ان کی گستاخی سے ایمان بھی خطرے میں پڑ سکتاہے کیونکہ ان کی کسی بات کو اللہ کے دربار سے رد نہیں کیا جاتا۔[3] ان کے مراتب و منازل ان کے مجذوب ہونے کے بعد رک جاتے ہیں اور ان کے دنیا سے وصال کرنے کے بعد ان کے مراتب یکدم ستر ہزار گنا بڑھ جاتے ہیں اور اس کے بعد سے ان کی مراتب کا تعین و تکمیل ہوتی ہے[حوالہ درکار]۔

غیر صوفی نقطۂ نظر[ترمیم]

غیر صوفی نقطۂ نظر اس کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ جو تصوف سے گریزاں مکتب فکر کے مسلمان، مجذوب کے بارے میں رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مجذوبیت ایک قسم کی دیوانگی (insanity) کی صورت ہوتی ہے جو صوفی کے اپنے جسم اور دماغ پر حد درجہ نوعیت کے سخت استعمال سے پیدا ہوتی ہے اور صوفیت میں (دیگر صوفیوں کی جانب سے ) اس کیفیت کو معتبر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ کوئی حصولی چیز نہیں بلکہ ایک عطا کی گئی حالت ہے۔[4]

نفسیاتی نقطۂ نظر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دارالافتاء نامی موقع آن لائن پر مجذوب کا بیان۔
  2. اردو لغت میں مجذوب کی تعریف، جو تصوف میں بیان کی جاتی ہے۔
  3. دھوبی گھاٹ، روزنامہ جنگ سے اقتباس۔
  4. احیاء ڈاٹ آرگ کے موقع پر مجذوب کا بیان۔