مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مجلس شوری دار العلوم دیوبند کی اہم اور مرکزی اہمیت کی حامل انجمن ہے جو دار العلوم کے تمام کاموں کی نگرانی اور رہنمائی کی ذمہ دار اور ایک باختیار مجلس اعلی ہے۔ اس کی تشکیل قیام دار العلوم کے ساتھ ہی عمل میں آگئی تھی۔ اس مجلس کا نظم و نسق شروع ہی سے امرھم شوری بینھم کے شورائی اصول پر قائم ہے۔ اس مجلس شوریٰ کے قیام کا نتیجہ یہ نکلا کہ انتظامات میں بڑی وسعت کے ساتھ جمہوری انداز قائم ہوا۔ ارباب مشورہ کے لیے جن صفات سے متصف ہونا ضروری ہے ان کی نسبت محمد قاسم نانوتوی نے اپنے تحریر کردہ دستور العمل کی تیسری دفعہ میں یہ ہدایت کی ہے:

مشیران مدرسہ کو ہمیشہ یہ بات ملحوظ رہے کہ مدرسہ کی خوبی اور خوش اسلوبی ہو، اپنی بات کی پچ نہ کی جائے، خدا نخواستہ جب اس طرح کی نوبت آئے گی تو اہل مشورہ کو اپنی مخالفت رائے اور اوروں کی رائے کے موافق ہونا ناگوار ہو تو پھر اس مدرسہ کی بنیاد میں تزلزل آجائے گا۔ القصہ تہ دل سے بر وقت مشورہ اور نیز اس کے پس و پیش میں خوش اسلوبی مدرسہ ملحوظ رہے، سخن پروری نہ ہو اور اس لیے ضروری ہے کہ اہل مشورہ اظہار رائے میں کسی وجہ سے متامل نہ ہوں اور سامعین بہ نیک نیت اس کو سنیں یعنی یہ خیال رہے کہ اگر دوسرے کی بات سمجھ میں آجائے گی تو اگرچہ ہمارے مخالف ہی کیوں نہ ہو بدل و جان قبول کریں گے اور نیز اسی وجہ سے یہ ضرور ہے کہ مہتمم امور مشورہ طلب میں اہل مشورہ سے ضرور مشورہ کیا کرے، خواہ وہ لوگ ہوں جو ہمیشہ مشیر مدرسہ رہتے ہیں یا کوئی وارد و صادر جو علم و عقل رکھتا ہو اور مدرسوں کا خیر اندیش ہو اور نیز اس وجہ سے ضرور ہے کہ اگر اتفاقاً کسی وجہ سے اہل مشورہ سے مشورہ کی نوبت نہ آئے اور بقدر ضرورت اہل مشورہ کی مقدار معتد بہ سے مشورہ کیا گیا ہو تو پھر اس وجہ سے ناخوش نہ ہو کر مجھ سے کیوں نہ پوچھا۔ ہاں اگر مہتمم نے کسی سے نہ پوچھا تو پھر اہل مشورہ معترض ہوسکتا ہے۔

دار العلوم کی مجلس شوری ایک طرف تو چندہ دینے والوں کی نمائندگی کرتی ہے، اسے چندہ دہندگان کے وکیل کی حیثیت حاصل ہے اور دوسری جانب دار العلوم کے آمد و صرف اور اہم انتظامی امور کے متعلق کثرت رائے سے اپنے فیصلے صادر کرتی ہے۔ دار العلوم دیوبند کا ایک دستور اساسی ہے اور دار العلوم کی تمام کارروائیاں اور ضروری فیصلے اسی دستور کی روشنی میں طے پاتے ہیں۔ مجلس شوری انتظامی آئین و ضوابط وضع کرتی ہے۔ دار العلوم دیوبند کے جملہ اوقاف اور جائدادیں اس کی تولیت و نگرانی میں ہیں اور یہی مجلس دار العلوم کے مسلک کی حفاظت اور ملازمین کے عزل ونصب کی ذمہ دار ہے۔ مجلس شوری کا اجلاس سال بھر میں کم ازکم دو مرتبہ لازمی ہے۔ ہنگامی مسائل میں اس سے زائد نشستیں بھی ہوتی ہیں۔

ضابطہ رکنیت[ترمیم]

دستور کی رو سے مجلس شوری میں کم ازکم گیارہ اراکین کا عالم ہونا ضروری ہے۔ بقیہ دس رکن ایسے غیر عالم حضرات ہو سکتے ہیں جو انتظامی اور تعلیمی امور میں بصیرت و مہارت رکھتے ہوں۔ مہتمم اور صدر مدرس اہنے منصب کے لحاظ سے شوری کے رکن رہتے ہیں۔ انعقاد اجلاس کے لیے اراکین کی کم ازکم ایک تہائی تعداد کا شریک اجلاس ہونا ضروری ہے۔[1]

مجلس شوری کے اولین اراکین[ترمیم]

مجلس شوریٰ اپنی ابتدا میں یعنی قیام کے وقت حسب ذیل سات اراکین پر مشتمل تھی:

سابقہ اراکین شوری[ترمیم]

قیام دار العلوم کے بعد سے ہندوستان کی جو شخصیات مجلس شوریٰ کی رکن رہیں، ان کے نام حسب ذیل ہیں:

موجودہ اراکین شوریٰ[ترمیم]

مجلس عاملہ[ترمیم]

مجلس شوری کے ماتحت 1345ھ / 1927ء سے ایک مجلس عاملہ قائم ہے جس کا اجلاس ہر تیسرے مہینہ ہوتا ہے۔ اس مجلس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجلس شوری کے کاموں میں اعانت و امداد بہم پہنچائے اور مجلس شوری کے تفویض کردہ اختیارات کے مطابق دار العلوم دیوبند کے انتظامی امور کو عملی جامہ پہنائے۔

کثرت رائے یا اتفاق رائے[ترمیم]

دار العلوم کی مجلس شوری اور مجلس عاملہ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اگرچہ فیصلے کے لیے کثرت رائے کا ضابطہ رکھا گیا ہے مگر ان کے فیصلے کثرت رائے کی بجایے بالعموم اتفاق رائے سے طے ہوتے ہیں۔ کسی مسئلہ میں اتفاق رائے نہ ہو سکنے کے واقعات معدودے چند ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]