مندرجات کا رخ کریں

مجمع بن زیاد جہنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مجمع بن زیاد جہنی حضرت رسول اکرمؐ کے اصحاب میں سے تھے جنگ بدر و احد میں شریک رہے۔آپ زیاد بن عمرو کے بیٹے تھے۔ واقعہ کربلا کے وقت اگرچہ ضعیف العمر تھے مگر پھر بھی لشکرٍ حسینی میں شامل ہوئے اور شہادت پائی۔ مختلف منابع نے ان کو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور شہید کربلا کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ [1]

نسب[ترمیم]

آپ کا نسب یہ ہے۔ مجمّع بن زیاد بن عمرو بن عدی بن عمرو بن رفاعہ بن کلب بن مودعۃ الجہنی۔ [2]

عہد نبوی[ترمیم]

آپ عہد نبوی میں بہت سی جنگوں میں شریک رہے۔ جنگ بدر و جنگ احد میں بھی شریک تھے۔ [3] [4]

امام حسین کا ساتھ[ترمیم]

جناب مجمع نے کوفہ میں حضرت مسلم بن عقیل کی بیعت کی سب لوگ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کو چھوڑ گئے لیکن حضرت مجمع ان افراد میں سے تھے جو ڈٹے رہے اور کوفہ میں حالات سازگار نہ ہونے کیوجہ سے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے ملحق ہوکر یزیدی ارادوں کو خاک میں ملانے کی خاطر حضرت امام حسین علیہ السلام کاساتھ دیا یہاں تک کہ اپنی جان قربان کردی۔ دشمن کربلا میں اس مجاہد کو آسانی سے شکست نہ دے سکا تو ان کا محاصرہ کر لیا ۔ جس کی وجہ سے بقضائے الٰہی وہ شہید ہو گئے ۔ [5]

مجمع خود جہینہ (مدینہ منورہ کے قریب ایک علاقہ) کے مقامی تھے جب امام حسین علیہ السلام مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے یہاں سے گزرنے لگے تو مجمع دو دوستوں عقبہ بن صلت جہنی و عباد بن مہاجر جہنی اور چند دیگر افراد کے ساتھ امام سے ملحق ہوئے اور آخر تک تا بوقت شہادت امام کے ساتھ تھے۔[6]

منزل زبالہ پر باقی افراد ساتھ چھوڑ گئے مگر یہ تین افراد ساتھ رہے اور پہلے حملے میں خوب دفاع کیا اور لڑے اور تیروں سے چھلنی ہو کر تینوں نے شہادت پائی۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جیسے ذخیرۃ الدارین، حدایق، ابصارالعین، تنقیح المقال، اوروسیلۃ الدارین وغیرہ
  2. کتاب الدوافع الذایتہ نے الاستعیاب سے عبارت نقل کی ہے کہ ہومجمّع بن زیاد بن عمروبن عدی بن عمروبن رفاعہ بن کلب بن مودعۃ الجہنی۔
  3. کتاب الدوافع الذایتہ نے الاستعیاب سے عبارت نقل کی ہے کہ ہومجمّع بن زیاد بن عمرو۔۔۔ شہد بدراً واحد اس کی عبارت کے نقل کرنے کے بعدخود تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اَی انّہ صحابیٌ جلیل بناً علی ذالک۔
  4. تنقیح المقال نے بھی الاصابہ اورالاستعیاب سے اس طرح کی عبارت نقل کی ہے کہ یہ صحابی رسولؐ تھے بدرواحدمیں شریک بھی رہے لیکن ہمارے ہاں موجود الاصابہ میں یہ عبارت موجود نہیں۔
  5. ابصارالعین، ص201
  6. مرضیہ محمدزادہ، شهیدان جاوید، نشر بصیرت، ص 303-304۔
  7. تنقیح المقال فی احوال الرجال، مامقانی، شیخ عبد اللہ، نجف: المطبعہ الحیریہ، 1352 ﻫ ق۔، ج2، ص53؛ ابصار العین فی انصار الحسین (ع)، سماوی، محمد بن طاہر، تحقیق محمد جعفر طبنسی، مرکز الدراسات الاسلامیہ لحرس الثورہ۔، ص201؛ الحدائق الوردیہ، محلی شہید، حمیدالدین احمد بن محمد علی، دمشق: دار اسامہ۔، ص122؛ فرسان الہیجاء، محلاتی، ذبیح اللہ، مرکز نشر کتاب، 1390 ہ ق۔، ج1، ص186؛ ذخیرة الدارین، حائری شیرازی، سید عبد الحمید، نجف: مطبعہ المرتضویہ، 1345 ﻫ ق۔، ص259؛ وسیلۃ الدارین فی انصار الحسین، موسوی زنجانی، بیروت: مؤسسہ اعلمی، 1402 ﻫ ق۔ ص192۔

سانچے[ترمیم]