محاصرہ مالاکنڈ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مالاکنڈ کا محاصرہ
Siege of Malakand
بسلسلہ افغان انگریز جنگ
Malakand camp south.jpg
مالاکنڈ جنوبی کیمپ، اگست 1897ء
تاریخ26 جولائی – 2 اگست 1897ء
مقاممالاکنڈ، متحدہ ہندوستان/موجودہ پاکستان34°35′47″N 71°55′52″E / 34.59639°N 71.93111°E / 34.59639; 71.93111متناسقات: 34°35′47″N 71°55′52″E / 34.59639°N 71.93111°E / 34.59639; 71.93111
نتیجہ برطانوی فتح
محارب
Flag of برطانوی راج برطانوی ہند پشتون قبائل
کمانڈر اور رہنما
ولیم ہوپ مائیکل جون،
بنڈن بلوڈ
فقیر سعیداللہ[1]
طاقت
10٬630 26 جولائی1897[2] 10٬000[3]
ہلاکتیں اور نقصانات
173 ہلاک مالاکنڈ کیمپ میں،[4][5]
33 چکدرہ میں ہلاک و زخمی ہوئے،[6]
206 ہلاک مجموعی طور پر
کم از کم 2٬000[7]

مالاکنڈ کا محاصرہ 26 جولائی سے 2 اگست 1897ء تک برطانوی ہند کے شمال مشرقی سرحدی صوبے[8] کے علاقے مالاکنڈ میں برطانوی افواج کے ایک فوجی کیمپ کو اس وقت مقامی پشتون جنگجوؤں کی جانب سے محاصرے کا سامنا کرنا پڑا جب ڈیورنڈ لائن[9] کی وجہ سے بہت سے پشتونوں کی زمین دو ملکوں برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان منقسم ہوکر رہ گئی۔ اس 1519 میل (2445کلومیٹر) سرحدی تقسیم کو افغان انگریز جنگوں کے بعد بنایا گیا جس کا مقصد برطانوی ہند کو روسی اثرات سے بچانا تھا۔
اس کی وجہ سے پشتون متاثرین میں بے چینی پھیلی اور ایک فقیر سعیداللہ نامی برطانوی افواج کے خلاف کھڑا ہوا اور 10٬000[3][10] جنگجوؤں کے ساتھ مالاکنڈ میں برطانوی چھاونی پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں برطانوی افواج کی دفاعی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ بہت سے چھوٹے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے ایک چھوٹی سی چھاونی مالاکنڈ کے جنوب اور ایک چھوٹا قلعہ چکدرہ کے مقام پر واقع تھا اس کے باوجود برطانوی فوجیوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے مسلح پشتون دستہ کو چھ دن تک جنگ میں الجھائے رکھا۔ اس محاصرے کو اس وقت ختم کروایا گیا جب ایک کمک کو جنرل ولیم ہوپ مائیکل جون جو جنوبی مالاکنڈ میں موجود برطانوی افواج کے سربراہ تھے کی مدد کی خاطر بھیجا گیا۔ اس کمک کے ساتھ سیکنڈ لیفٹیننٹ ونسٹن چرچل بھی شامل تھے جنھوں نے بعد میں ایک سرگزشت مالاکنڈ کی زمینی فوج کی کہانی؛ سرحدی جنگ کی ایک قسط کے نام سے لکھی۔

پس منظر[ترمیم]

پاکستانی نقشے میں مالاکنڈ ڈویژن کی نشان دہی گہرے نیلے رنگ سے کی گئی ہے۔)

سلطنت روس اور سلطنت برطانیہ کے درمیان میں کی رقابت جسے آرتھر کنولی نے گریٹ گیم[11] کا نام دیا، انیسویں صدی میں اس رقابت نے افغانستان کا رخ کیا۔ انگریزوں کے خیال میں روس کا پھیلاؤ تاج برطانیہ کا جھومر کہے جانے والے ہندوستان کے لیے خطرے کا سبب تھا۔ ایک کے بعد ایک خانیت کو وسطی ایشیا کے زیر نگین لانے کی وجہ سے برطانیہ کو یہ خطرہ ہو چلا کہ کہیں افغانستان روس کی مداخلت کا اگلا پڑاؤ نا بن جائے۔[12] اسی پس منظر کے تحت برطانیہ نے 1838ء میں پہلی انگریز افغان جنگ لڑی اور شجاع شاہ کے زیر نگیں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ یہ حکومت مختصر المیعاد اور کمزور ثابت ہوئی اور جس کا سارا دم خم برطانوی فوجی امداد پر قائم تھا۔ 1878ء میں جب روس نے افغانستان میں بغیر دعوت نامے کے ایک سفارتی مہم بھیجی تو ان دو عالمی طاقتوں میں چپقلش دوبارہ سر اٹھانے لگی، اوربرطانوی افواج نے افغان بادشاہ شیرعلی خان سے مطالبہ کیا کہ وہ برطانوی سفارتی مہم کو قبول کرے،[13] لیکن افغان بادشاہ نے اس حکم کی تعمیل نہیں کی۔ برطانیہ نے اس حکم عدولی پر 40 ہزار فوجیوں کو سرحد پار حملے کا حکم دیا، جس کی وجہ سے دوسری انگریز افغان جنگ چھڑی۔
افغانوں سے لڑی گئی ان بے نتیجہ جنگوں کے بعد انگریزوں نے 1893ء میں ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ کیا، اس معاہدے کا مقصد افغانستان اور برطانوی ہند (موجودہ خیبر پختونخوا، قبائلی علاقہ جات، پاکستانی بلوچستان) [14][15] کو تقسیم کرنا تھا۔ اسے سر مرٹمر ڈیورنڈ کیوجہ سے یہ نام دیا گیا[15] جو برطانوی ہند کے ایک سیکریٹری خارجہ تھے انھوں نے یہ معاہدہ افغان امیر عبدالرحمٰن خان کے ساتھ کیا، امیر عبد الرحمٰن خان در پردہ برطانیہ سے ملے ہوئے تھے اور افغان عوام انھیں سخت ناپسند کرتے تھے۔ اس معاہدے کا اصل مقصد افغانستان کو ایک بفر زون بنانا تھا تاکہ روسی مداخلت کو برطانوی ہند میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔[15]

مالاکنڈکی زمینی فوج[ترمیم]

مالاکنڈ جنوب میں موجود پشتون مسلح دستے

مالاکنڈ کی برطانوی زمینی فوج نوشہرہ کو بنیاد بنا کر مختلف کارروائیوں کے لیے اسے استعمال کرتی تھی[8]۔ نوشہرہ کا قصبہ دریائے کابل کے جنوب میں راولپنڈی سے ریل کی چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع تھا[16]۔ یہ کیمپ کرنل سکہلاچ کی قیادت میں بطور ہسپتال کے کام کرتا تھا جبکہ دوسرا قلعہ جو 47 میل (76 کلومیٹر) دور مالاکنڈ پاس میں واقع اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھا جسے اس وقت مالاکنڈ ساؤتھ کیمپ کے نام سے جانا جاتا تھا[16]۔ یہ فوج برطانوی سواروں کی ایک ریجمنٹ، ہندوستانی سواروں اور پیادوں کے ایک ایک لشکر پر محیط تھی۔۔[17] ونسٹن چرچل جو بعد میں آنے والے کمک میں شامل تھے [18] اور اس وقت سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز تھے، انھوں نے اس کیمپ کا نقشہ اس طرح کھینچا، ایک بڑی سی پیالی"[19] جس کے کنارے بہت سے دراڑوں کے سبب ٹوٹ چکی ہے اور یہ کنارے دنداندار ہوچکے ہیں۔ اس پیالی کے پیندے میں "جوالا مکھی" کیمپ واقع ہے۔ چرچل کے مطابق یہ کیمپ عارضی طور پر قائم کیا ہوا لگتا تھا جس کا دفاع ناممکن تھا جس کی وجہ اس کا بے حد تنگ ہونا اور پاس کی پہاڑیوں سے بآسانی دیکھا جانا تھا[19] اس کے قریب ہی خار کے میدان میں ایک اور کیمپ شمالی مالاکنڈ کے نام سے قائم کیا گیا تھا جس میں ان اضافی فوجی نفری کو رکھا گیا تھا جنھیں رکھنے کی گنجائش بیس کیمپ میں نہیں تھی۔ ان دو کیمپوں کی حفاظت دو سال تک 1000 سپاہیوں کی ذمہ تھی[10][19] اور یہاں حملے کا کوئی خطرہ نا تھا۔ فوجی آفیسر مع اپنے خاندان کے وہاں رہائش پزیر تھے اور اس کیمپ میں باقاعدگی سے پولو اور نشانہ بازی کے مقابلے منعقد ہوتے رہتے تھے۔۔[20]

جنگ کی ابتدا[ترمیم]

انگریز اور سکھ سپاہیوں کا ایک دستہ۔

1897ء میں مالاکنڈ میں موجود برطانوی فوجیوں کو قریبی پشتون دیہاتوں میں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں کی اطلاعات آنے لگی تھیں۔میجر ڈین جو انگریز پولیٹیکل ایجنٹ تھے نے برطانوئی فوجیوں کے ساتھ ٹھہرے پشتون سپاہیوں [21] میں موجود بے چینی محسوس کی۔ اور اس نے ان مشاہدوں کی اطلاع 23 جوالائی 1897ء کو اپنے آفیسروں کو دی لیکن اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی [21]۔[22]جولائی کے ماہ میں مالاکنڈ بازار میں ایک مذہبی رہنما فقیر سعیداللہ[23][24] جس کا پیشہ درزی کا تھا کے متعلق یہ افواہیں اڑ رہی تھیں کہ وہ جہاد [25][26] کے ذریعے انگریزوں کا صفایا کر دے گا۔ انگریزوں نے اس فقیر کو عظیم فقیر[25][27] اور "پاگل فقیر" یا پاگل ملا کے نام دئے اسی طرح پشتونوں نے بھی اسے ملا مستون اور لیونی کے [24] القابات نوازے جس کے معنی انگریزوں کے دئےگئے القابات کے ہم معنی ہیں۔
26 جولائی کو جب انگریز آفیسر مالاکنڈ کے شمالی کیمپ میں پولو میچ کھیل رہے تھے تو مقامی تماشائیوں نے ایک مسلح پشتون دستے کو اس مقام تک آتے دیکھا جو وہاں سے جلد فرار ہو گئی۔ میجر ڈین نے بریگیڈئیر جنرل مائیکل جوہن کو مسلح پشتون دستوں آس پاس کے علاقوں میں موجودگی کی اطلاع اس طرح دی "حالات نے بہت خاموشی سے خطرناک رخ اختیار کر لیے ہیں"اور مردان (32 میل(51 کلومیٹر) دور) سے ایک کمک بھیجنے کی درخواست کی اور اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے لیفٹیننٹ پی۔ الائٹ-لوکہارٹ 1:30 بجے دوپہر وہاں سے روانہ ہوئے ۔۔[28] 9،45 بجے برطانوئی کیمپ کو ایک ٹیلی گراف کے ذریعے یہ حتمی اطلاع دی گئی کہ فقیر خار کے علاقے سے ہوتا ہوا مالاکنڈ کی جانب رواں ہے۔ ٹیلی گراف نے یہ اطلاع بھی دی کہ لیویز فوج اور ناہی مقامی لوگ اس لشکر کے خلاف مزاحمت کریں گے اور یہ کہ کیمپ کے مشرق میں موجود پہاڑیوں پر مسلح پٹھانوں نے ڈیرا ڈال رکھا ہے[29] اس کے فوراً بعد ہی ٹیلی گراف کی لائنیں کاٹ دی گئیں تھیں۔[30]

مالاکنڈ شمالی اور مالاکنڈ جنوبی[ترمیم]

26 اور 27 جوالائی کی رات[ترمیم]

جنوبی کیمپ[ترمیم]

26 جولائی کی رات کو قریب 10:00 بجے ایک پیغامبر یہ اطلاع لایا کے دشمن کی فوجیں خار کے گاؤں پہنچ چکی ہیں جو مالاکنڈ سے محض تین میل کے فاصلے پر ہیں[30]۔ اس اطلاع پر کیمپ میں فوراً جنگ کا نقارا بجایا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل مک رائے جن کے کمان میں 45ویں سکھ ،اکتیسویں پنجاب کی دو یونٹیں، نمبر 8 ماونٹین بیٹری کی دو بندوقیں اور 11 ویں بنگال لانسر کا ایک دستہ تھا کو یہ حکم ملا کہ وہ چار میل دور اندرہ پاس پر اپنا مقام سنبھالیں؛لیکن اس سے قبل پشتون دستوں نے جنوبی کیمپ پہنچ کر انگریزوں کو حیران کر دیا۔۔[31] انھوں نے آتے ہیں کیمپ پر بندوقوں سے فائرنگ شروع کردی۔[29] مک روئے نے فوراً میجر ٹیلر کی قیادت میں کچھ لوگوں کو ہوشیاری سے کیمپ کے داہنی راہداری سے جاکر دشمن کی قوت اور مقام کی جانکاری کے لیے بھیجا[32] ؛مک رائے اپنی مختصر سے گروپ کو لے کر ایک تنگ ندی کے پاس ٹہھرا اور اس امید پر کہ وہ یہاں رک کر دشمن کو روک لیں گے[33]مک رائے نے 20 آدمیوں کے ساتھ پشتون قبائلیوں پر فائرنگ شروع کردی لیکن انھیں پچاس قدم پیچھے ہٹ کر حملے کو روکنا پڑآ کیونکہ میجر ٹیلر کی موت ہوچکی تھی جبکہ مک رائے کے گردن پر چوٹ آئی تھی[34] بحر حال 2 بجے دوپہر تک لیفٹیننٹ بارف کی قیادت میں ایک کمک پہنچ گئی جس نے انھیں پشتون حملے کو پیچھے دھکیلنے میں مدد کی[34]۔[35]جرنل میکل جوہن نے جو تاثرات اپنے سے اعلی حکام تک بھیجیں وہ یوں تھی۔

"اس میں کوئی شک نہی کہ ندی کے پاس ایک مختصر سی جماعت نے اپنے سے کئی گنا بڑی جماعت کو کمک کے پہنچنے تک کمال مزاحمت سے روکے رکھا جس کے سبب کیمپ محفوظ رہا،اور میں اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل ملک رائے اور میجر ٹیلر کے کردار کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں"[36]

ایمند ولیم کوسٹیلوبعد میں برگیڈئیر جنرل کے عہدے پر پہنچے۔

جبکہ دوسری طرف تین جگہوں سے پشتون حملہ آوروں نے کامیابی کے ساتھ کیمپ پر حملہ کر دیا اور 24 ویں پنجاب انفنٹری کی صفیں تیزی سے روندیں گئیں۔ پشتون نشانہ بازوں نے رات بھر اونچی جگہوں سے انگریزوں کو جانی نقصان پہنچایا بازار اور ملحقہ عمارتوں پر پشتونوں نے قبضہ جما رکھا تھا۔ 24 ویں ریجمنٹ کے دیگر یونٹوں نے صبح دس بجے تک لیفٹیننٹ کلیمو کی قیادت میں ان جگہوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا لیکن انھیں بھی ان نشانہ بازوں کی وجہ سے پیچھے ہٹنا پڑا[36]۔ پشتون دستے دیگر کئی مقامات میں بھی گھس بیٹھے تھے۔ لیفٹیننٹ والٹنگ جو چند گورروں کی کمان کر رہے تھے کی نگرانی میں اسلحے کا ذخیرہ تھا لیکن ان کے زخمی ہونے کی وجہ سے یہ ذخیرہ بھی ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ میکل جوہن نے چند سرنگ کھودنے والے سپاہیوں اور 24 ویں کے کیپٹن ہولینڈ،کلیمو اور لیفٹیننٹ مینلے کے ساتھ اسلحے کے زخیرے کو دوبارہ قبضے میں لانے کا ارادہ کیا ۔[37]اس مہم میں ہولینڈ اور جنرل زخمی ہوئے اور انکا گروپ بری طرح منتشر ہوا انھوں نے دو بار ناکام کوشش کی لیکن تیسری بار وہ اس مہم میں کامیاب ٹہھرے۔گھات لگائے پشتونوں کی فائرنگ سے بہت سے انگریز آفیسر زخمی ہوئے اور 24 ویں کی قیادت کلیمو کی سپرد کی گئی۔ 27، جولائی کی رات دس بجے لفٹیننٹ ایمند ولیم کوسٹیلو نے ایک حوالدار کو فائرنگ کی زد سے بچایا جس پر انھیں بعد میں وکٹوریہ کراس دیا گیا۔[38]
رات کے بڑھتے ہی قریب کے قلعے سے ایک انگریز کمک پہنچ گئی جسے ابتک پشتونوں نے نظر انداز کر رکھا تھا۔ رات 4:15 تک حملہ آور اپنے زخمیوں اور ہلاک شدگان کے ساتھ پیچھے ہٹ گئے۔ دوسری طرف بہت سے انگریز آفیسر زخمی اور 2 سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

شمالی کیمپ[ترمیم]

ایک ہندوستانی سپاہی 24 ویں اور 31 ویں پنجاب نے اس جنگ میں اپنی بہادری کے عوض انعام وصول کئے۔[39]

جنگ کی پہلی رات کو شمالی مالاکنڈ کے فوجی کیمپ میں زیادہ لڑائی دیکھنے میں نہیں آئی حالانکہ یہ کیمپ زیادہ دشمن کے لیے کھلا تھا گورے فوجی محض فائرنگ کرنے اور صفیں درست کرنے میں لگے رہے۔[40]اس کی وجہ سے میکل جوہن نے ایک دستے کو آس پاس کے علاقے کی ریکی کرنے کا حکم دیا جبکہ میجر گبز جو فوجیوں کے کمانڈر تھے انھوں نے اسی وادی کے بہت سے قبائلی لوگوں پر حملہ کیا۔ بعد ازاں انھیں اپنے فوجیوں کو سمیٹ کر جنوبی کیمپ میں منتقل ہونے کا حکم ملا۔[41]

27 جولائی[ترمیم]

شمالی کیمپ سے آنے والی کمک27 ویں تاریخ کو صبح 8:30 بجے پہنچی[42] اتفاقاً اسی دوران میں پشتونوں کو بھی کمک حاصل ہو گئی۔11 ویں بنگال لانسر کو نوشہرہ میں جب اس صورت حال کی خبر ہوئی تو انھوں نے 38 ڈوگروں، 35 سکھوں، جبکہ نمبر ایک کے ساتھ کے انگریز موانٹین بیٹریز کے ساتھ کیمپ کو دوبارہ قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران مالاکنڈ جنوبی کیمپ میں کلیمو کی قیادت میں 24 ویں نے تازہ پشتون حملوں کو پسپا کر دیا جن کے ایک یونٹ نے پشتون علم بردار کو بھی گرفتا ر کیا۔[43]
رات ساڑھے ساتھ بجے برطانوی کمک لیفٹیننٹ لوکہارٹ کی قیادت میں پیادے کورپس آف گائڈ سے مدد کو پہنچے۔45 ویں سکھ جنھیں 100 گائڈ اور دو توپوں کی مدد حاصل تھی گھوڑوں پر سوار کیمپ میں داخل ہوئے ان کے پیچھے 31 ویں پنجاب انفنٹری کے دستے درمیان میں موجود تھے جبکہ کلیمو کی قیادت میں 24ویں نے جوبی مالاکنڈ کے شمالی حصے میں پڑاو سنبھالا۔31 ویں پنجاب کے صوبیدار سید احمد شاہ بازار کے آس پاس کے علاقے میں جگہ سنبھالی اگرچہ پورے بازار کو فتح نہی کیا جا سکا تھا۔[43] رات 8:00 بجے پشتونوں نے با یک وقت انگریز وں کے تمام مقامات پر حملے شروع کردئے اس دوران میں " گولیوں کے ہزاروں راونڈ فائر کیے گئے " جبکہ بہت سے حملوں کو پسپا بھی کیا گیا۔[44]صوبیدار سید احمد شاہ نے اپنی جگہ کا کئی گھنٹے دفاع کیا لیکن پشتونوں نے ان کی دفاع کی حد بندی کو روندھ ڈالا اور کئی سپاہی قتل ہوئے جبکہ بچ جانے والے سپاہیوں اور ان کے رہنما کو ایوارڈ آف میرٹ دئے گئے۔24 ویں نے جو کئی حملے روکے تھے اس کے ساتھ ان کے وکٹوریہ کراس حاصل کرنے والے کوسٹیلو کو کو اپنے کندھے پر زخم بھی برداشت کرنا پڑا۔ پہاڑوں اور پتھروں کی اوٹ میں چھپ کر نشانہ لینے والوں کے خطے کے باوجود کلیمو نے حملہ آوروں کو دو میل پیچھے دھکیل دیا۔ اس رات گوروں کے 12 سپاہی جان سے گئے ساتھ میں کوسٹیلو بھی زخمی ہوا۔[45]

28 جولائی[ترمیم]

28 جولائی کے دن بھر پشتون نشانہ باز مالاکنڈ کے جنوبی کیمپ کے پاس کی پہاڑیوں میں بیٹھے کیمپ کا نشانہ لیتے رہے۔ چھاؤنی کے جراح لیفٹیننٹ جے۔ ایچ۔ ہوگو نے اس دن کئی زخمیوں کا علاج کیا جس میں ایک آفیسر بھی تھے جن کا تعلق گائڈ سے تھا۔28/29 کی راتوں کے حملوں کے علاوہ صرف دو سپاہی مارے گئے اور ایک لیفٹیننٹ فورڈ شدید زخمی ہوا۔ چرچل لکھتا ہے کہ باوجود فائرنگ کے زد میں ہونے کہ ہوگو نے لیفٹیننٹ فورڈ کو بچایا[45]۔

29-31 جولائی[ترمیم]

29 جوالائی کی صبح تک انگریزوں نے کافی حد تک مواصلات کو بحال کر لیا تھا اور انھوں نے مدد کے لیے آنے دستوں کو ہلو گراف کے ذریعے پیغام بھیجتے ہوئے صبح 8:00 بجے کہا "رات بھر شدید لڑائی ہوئی"۔ آج کی رات مزید شدید لڑائی کا امکان ہے۔ تم لوگ ہماری مدد کو کب پہنچو گے اور اپنے ساتھ کیا لا رہے ہو؟۔[46] ادھر پشتون رات کو ایک اور حملے کی تیاری کر تے رہے جبکہ انگریزوں نے بازار اور اس سے ملحقہ علاقے کو تباہ کر دیا جسے پہلے ان کے 31 ویں کے صوبیدار سید احمد شاہ اور ان کے ساتھیوں نے گنوا دیا تھا۔ درختوں کو زمینی فائرنگ کو موثر بنانے کے لیے کاٹ دیا گیا تھا تاہم اس سے پشتون نشانہ بازوں کو بھی کافی آسانی ہو گئی[5]۔29 تایخ کو دوپہر 4:00 میجر بیٹسن 11 بنگال لانسر کے ہمراہ پہنچے جنھیں دو دن قبل نوشہرہ سے نکلنے کا حکم ملا تھا دوسری طرف 35 ویں سکھوں اور 38ویں ڈوگروں کو اس وقت مالاکنڈ جنوبی کے قریبی درے پر رکنا پڑا جب شدید گرمی سے ان کے 19[45] -20 سپاہی مر گئے[47]
30 جولائی کے 2:00 بجے دوپہر کو پشتونوں نے ایک اور دھاوا بول دیا جس میں کوسٹیلو اور پشتون فقیر دونوں زخمی ہوئے؛اس میں ایک انگریز سپاہی بھی ہلاک ہوا[5]۔ اسی شام مزید حملوں کو 45 ویں سکھوں نے روکا۔ اگلی صبح 31 جولائی کو 35 ویں سکھوں کے باقی ماندہ دستے بھی کرنل رئینڈ کی قیادت میں جنوبی مالاکنڈ میں پہنچے جنھوں نے 243 خچروں پر 291،600 گولیوں کے راونڈز اپنے ساتھ لائے تھے۔[48]لیکن اب ان کی توجہ قریب کے برطانوی قیام گاہ چکدرہ کی جانب مڑ گئی کیونکہ موجودہ کیمپ پر پشتونوں نے حملے کرنے ختم کر دئے تھے۔ چرچل کے مطابق مالاکنڈ جنوب کے محاصرے کی لڑائی کے دوران میں تین برطانوئی آفیسر ہلاک ہوئے جبکہ تین ذخمی ہوئے تھے،سپاہیوں کے عہدے کے تین آفیسر ہلاک ،7زخمی اسی طرح غیرکمیشن یافتہ آفیسروں میں 153 لوگ ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔[5]

چکدرہ کی بازیابی[ترمیم]

انگریزوں کے زیر انتظام چکدرہ کے قلعے پر پشتون جنگجوں حملہ کرتے ہوئے

28 جولائی کو میجر - جرنل بنڈن بلوڈ[21] کو "6800 سنگینیں، 700 نیزے یا شمشیریں جن کے ساتھ 24 بندوقیں بھی تھیں " دئے گئے اور انھیں مالاکنڈ اور آس پاس کے علاقوں پر قابض رہنے کا حکم ملا اور یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ شاید ملحقہ علاقے کے قبائلیوں کے ساتھ بھی لڑائی کی ضرورت ہو[49]۔[50]جولائی 1897 کو بلوڈ نوشہرہ میں کمان سنبھالنے پہنچا [21] اور یکم اگست کو اسے اطلاع ملی کہپٹھان جنگجوں چکدرہ کے قلعے پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا فوجی قلعہ تھا جس میں 200 افراد قیام ہزیر تھے۔[51] اور انھوں نے اسی دوران میں ہی انگریز فوجیوں کو اپنی مدد کے لیے کہا تھا[52]بلوڈ اسی دن کی شام کو مالاکنڈ پہنچا۔ اسی دوارن جب نوشہرہ سے بلوڈ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چکردرہ کے لیے نکلا تھا میکل جوہن مالاکنڈ جنوبی سے 45 ویں ،24 ویں اور نمبر 8 بیٹریز کے بندوقوں کے ہمراہ نکلنے کی تیاری کر رہا تھا۔ کیپٹن بالڈون کی قیادت میں آنے والے فورس آف گائڈز کو پشتون مسلح دستے سے مدبھیڑ کا سامنا کرنا پڑا ۔[53] جس میں دو انگریز آفیسر، ایک سپاہیوں کا آفیسر زخمی ہوا جبکہ دیگر 16 ارکان ہلاک و زخمی ہوئے[54][55]
اس ناکام کوشش کے بعد، بلوڈ نے آتے ہی رائڈ کو مالاکنڈ جنوبی کے فوجیوں کا کمانڈر مقررکیا جبکہ ریسکیو فوجیوں کی کمان میکل جوہن کو سونپی گئی۔ اس ریسکیو فوج میں ایک ہزار پیادہ فوج ،11 ویں بنگال لانسر کے دو دستے ،دو گائڈز کے گھڑ سوار دستے،پچاس خندق کھودنے والے دو توپیں اور ایک ہسپتال کا عملہ شامل تھا[49]۔[56] اس حصے نے یکم اگست کی رات کو باجود پشتون حملوں کہ آرام کیا۔ اگلے دن فوج کے اس حصے نے مالاکنڈ کے "پیالی"[57] نما جنوبی کیمپ کو پشتون نشانہ بازوں سے جو اب بھی اطراف کے اونچے پہاڑیوں پر موجود تھے سے بچنے کے لیے اسے چھوڑ کر شمالی مالکنڈ کے کیمپ جانے کا فیصلہ کیا۔2 اگست کے دوپہر 4:00 بجے جب برطانوئی فوجی کوچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے تو کسی حد تک ان کے حوصلے پست تھے۔ لیکن مختلف فحربوں سے کیے گئے ان کے حملوں کی وجہ سے وہ پشتونوں کے دائرے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے جس پر پشتونوں کو بھی کافی حیرانی ہوئی[54]۔11 ویں بنگال اور گائڈز کے گھڑ سواروں نے چکدرہ کے قلعے کی جانب کا سفر جاری رکھا جبکہ 45 ویں سکھوں نے قریب کے پشتون ٹہھراؤ کے مقامات پر حملہ کیا۔ دو اگست کی لڑائی میں برطانیوں کو 33 جانوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

بعد از واقعہ[ترمیم]

وہ مقام جہاں چرچل نے میدان کارزار کا مشاہدہ کیا۔

مالاکنڈ کے زمینی فوج کی مہمات مالاکنڈ جنوب،شمال اور چکدرہ کے محاصرے کے بعد بھی جاری رہی۔ اس محاصرے کے کچھ ہی عرصے بعد، برطانوئی چھاونی کے دو برگیڈ کو مالاکنڈ جنوب کے چھاونی سے کچھ میل دور ایک جگے پر تعینا ت کیا گیا تاکہ جنوبی کیمپ میں بہت زیادہ ہوئی تعداد کو کم کیا جا سکے۔ اس نئے کیمپ والوں کو زیادہ دشمن کیجانب سے پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑا اور 5 اگست 1897 تک محض چند اکا دکا فائرنگ ہوتی رہی بلاآخر سعیداللہ 8 اگست کو اپنی باقی ماندہ جنگجوں کو لیے شبقدر کے علاقے میں موجود برطانوئی پڑاؤ پر حملے کے لیے روانہ ہوا جو پشاور سے قریب ہی واقع تھا۔ ان حملوں کو ان پشتون لیویز اہلکاروں کی ہمدردی بھی حاصل ہو گئی جن کے ذمہ چترال کو جانے والی برطانوی فوجی رسد کی حفاظت تھی ۔[58] اس رسد کی حفاظت کو خطرے میں پڑتا دیکھ کر 14 اگست کو انگریز افواج نے میکل جوہن کی قیادت میں مزید پشتون علاقوں میں پیش قدمی کی اور انھوں نے کئی ہزار قبائلیوں سے مڈ بھیڑ کی[59] جس کے سبب پشتون جنگجوں دو حصوں میں بٹ کر لنداکئی [60] کے مقام تک پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہو گئی ان جھڑپوں میں انگریزوں کے دو آفیسر اور 11 سپا ہی جان سے ہاتھ دو بیٹھے [61]
مالاکنڈ کا محاصرہ ونسٹن چرچل کی زندگی کی پہلی اصلی لڑائی تھی،اس واقعہ کو اس نے روزنامہ ٹیلی گراف[18] کے مختلف شماروں میں سلسلہ وار بیان کیا جس پر انھیں فی مضمون5 پاؤنڈ اسٹرلنگ ملا کرتے تھے ؛ ان مضامین کو بعد میں جمع کر کے ایک کتاب مالاکنڈ کی زمینی فوج کی کہانی کی صورت میں شائع کیا گیا اور اسی سے چرچل کی سیاسی اور ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔[62] چرچل اس کتاب کے ابتدائے میں لکھتا ہے کہ "یہ کام یقینا میری زندگی کے ابتک کے کاموں میں سے ایک اہم کام ہے۔ اس کی پزیرائی سے میں دنیا یقینا اپنی ممکنہ کامیاب زندگی کا اندازہ کر پاؤں گا"[18]۔"مالاکنڈ کے محاصرے اور پشتونوں کے خلاف لڑی جانے والی تمام جنگوں کے متعلق چرچل کہتا ہے کہ وہ دور ایک اہم " تبدیلیوں" کا دور تھا۔[63]دفتر جنگ نے مالاکنڈ 1897 میں لڑنے والے ان برطانوئی اور ہندوستانی فوجیوں کو انڈیا میڈل سے نوازا۔[64][65] اس میدان جنگ کو چرچل کی یادداشت کی اشاعت کے بعد سے سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا اور تقسیم ہند کے بعد اسے پاکستانی فوج عسکری سطح پر استعمال کرتی رہی۔ لیکن 2006 میں پاکستانی حکومت نے اسے غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی کھول دیا۔[10]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. Edwards p. 263. (Spain. 177, Easwaran p. 49) (جنھیں پشتون ملا مستون کہتے تھے(Beattie p. 171)، and by the برطانیہ کے نزدیک "عظیم ملا"، "پاگل ملا" (Hobday p. 13)، یا "پاگل فقیر"، (Elliott–Lockhart p. 28)
  2. Gore p. 403
  3. ^ ا ب بہت سوں کے نزدیک 50٬000–100٬000 وہ قبائلی جو محاصرے کے وقت موجود تھے (Wilkinson–Latham p. 20, Gore p. 405) جبکہ کچھ کے خیال میں 10٬000 for the actual siege (Easwaran p. 49)
  4. Elliott–Lockhart p. 63
  5. ^ ا ب پ ت Churchill p. 48
  6. Churchill p. 53
  7. Elliott–Lockhart p. 83
  8. ^ ا ب Nevill p. 232
  9. Lamb p. 93
  10. ^ ا ب پ Isambard Wilkinson (2006-12-01)۔ "پاکستان asks tourists to Churchill's battlefield"۔ London: Daily Telegraph۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-07-17۔
  11. Hopkirk p. 1
  12. Hopkirk p. 72
  13. Curzon p. 426
  14. Hussain p. 240
  15. ^ ا ب پ Lamb p. 94
  16. ^ ا ب Churchill p. 11
  17. Elliott–Lockhart p. 27
  18. ^ ا ب پ "Winter 1896–97 (Age 22) - "The University of My Life""۔ Sir Winston Churchill۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-03-17۔
  19. ^ ا ب پ Churchill p. 13
  20. Churchill p. 14
  21. ^ ا ب پ ت Elliott-Lockhart p. 55
  22. Churchill p. 27
  23. Spain p. 177
  24. ^ ا ب Beattie p. 171
  25. ^ ا ب Elliott-Lockhart p. 28
  26. Beattie p. 137
  27. Hobday p. 13
  28. Churchill p. 29
  29. ^ ا ب Churchill p. 31
  30. ^ ا ب Elliott-Lockhart p. 31
  31. Elliott–lockhart p. 30
  32. Elliott-Lockhart p. 32
  33. Churchill p. 34
  34. ^ ا ب Elliott-Lockhart p. 33
  35. Churchill p. 35
  36. ^ ا ب Churchill p. 36
  37. Churchill p. 39
  38. Churchill p. 40
  39. Ben Tottenham (2007-01-03)۔ "Photograph collection"۔ BBC News۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-05-31۔
  40. Elliott-Lockhart p. 40
  41. Churchill p. 41
  42. Churchill p. 44
  43. ^ ا ب Churchill p. 45
  44. Churchill p. 46
  45. ^ ا ب پ Churchill p. 47
  46. Hobday p. 18
  47. Elliott–Lockhart p. 53
  48. Hobday p. 22
  49. ^ ا ب Churchill p. 51
  50. Raugh p. 222
  51. Hobday p. 32
  52. Churchill p. 54
  53. Elliott–Lockhart p. 56
  54. ^ ا ب Churchill p. 52
  55. Hobday p. 30
  56. Elliott–Lockhart p. 59
  57. Elliott–Lockhart p. 58
  58. Elliott–Lockhart p. 80
  59. Elliott–Lockhart p. 90
  60. Elliott–Lockhart p. 93
  61. Elliott–Lockhart p. 100
  62. Jablonsky p. 300
  63. Churchill p. 191
  64. "United Kingdom: India Medal 1895–1902"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-05-31۔
  65. Joslin p. 30

کتابیات[ترمیم]

اشاعتی کام

ویب سائٹ