مندرجات کا رخ کریں

محاصرۂ گولکنڈہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محاصرۂ گولکنڈہ (1687ء)
سلسلہ دکن میں مغلیہ فتوحات

مغلیہ شہنشاہ اورنگ زیب کی تقریباً 1760ء کی مصوری جس میں وہ محاصرۂ گولکنڈہ کے دوران دکھائے گئے ہیں۔
تاریخ28 جنوری – 22 ستمبر 1687 (1687-01-28 – 1687-09-22) (7 مہینے، 3 ہفتے اور 4 ایام)
مقامگولکنڈہ
نتیجہ مغلیہ فتح
سرحدی
تبدیلیاں
مغلیہ سلطنت نے سلطنتِ گولکنڈہ کو اپنے ساتھ ضم کر لیا اور اس کے نتیجے میں صوبۂ حیدرآباد تشکیل پایا۔
مُحارِب
مغلیہ سلطنت سلطنتِ گولکنڈہ (قطب شاہی خاندان)
کمان دار اور رہنما
اورنگ زیب
قلیچ خاں 
فیروز جنگ
صف شکن خاں
اعظم شاہ
روح اللہ خاں
انوپ سنگھ
ابو الحسن قطب شاہ  (جنگی قیدی)
شیخ نظام حیدرآبادی (دھوکا دیا)
طاقت

~50،000 پیادہ فوج
~50،000 گھڑ سوار دستہ

~100 فصیل شکن توپیں

محاصرۂ گولکنڈہ (1687ء) آٹھ ماہ طویل فوجی محاصرہ تھا جو قلعۂ گولکنڈہ (موجودہ ریاست تلنگانہ، بھارت) پر کیا گیا۔ اس محاصرے کی قیادت مغلیہ شہنشاہ اورنگ زیب نے خود کی اور ان کا ہدف سلطنتِ گولکنڈہ تھی جس پر اس وقت ابو الحسن قطب شاہ حکومت کر رہے تھے۔ یہ مغلوں کی جانب سے قلعۂ گولکنڈہ کا دوسرا محاصرہ تھا؛ پہلا حملہ 1656ء میں شہزادہ اورنگ زیب نے اپنے والد شاہ جہاں کے عہد میں کیا تھا جو ناکام رہا۔ یہ واقعہ سلطنتِ گولکنڈہ کے زوال کا نقطۂ عروج ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد یہ سلطنت مغلیہ سلطنت میں ضم کر لی گئی۔ محاصرۂ گولکنڈہ کو برصغیر کے جنوب میں مغلیہ سلطنت کی توسیع کے آخری بڑے مراحل میں شمار کیا جاتا ہے۔

محاصرہ نہایت طویل اور دشوار تھا جس کی ایک وجہ قلعے کی مضبوطی، موسمی حالات اور مغلیہ انتظامیہ کے اندرونی اختلافات تھے۔ آخرکار فتح چھل کپٹ کے ذریعے حاصل ہوئی۔ اس محاصرے نے علاقے میں قحط، خشک سالی اور وبا کو مزید بڑھا دیا۔

پس منظر

[ترمیم]

پانچویں مغلیہ بادشاہ شاہ جہاں کے دورِ حکومت میں مغلیہ سلطنت نے خطۂ دکن میں اپنی جنوبی سرحد کو مستحکم کر لیا تھا۔ سلطنتِ احمد نگر تقریباً 1633ء میں ختم کر دی گئی اور 1636ء تک شاہ جہاں نے دکن کی باقی دو آزاد سلطنتوں یعنی بیجاپور اور گولکنڈہ کے ساتھ خراجی معاہدے طے کیے۔[1] شہزادے اور سپہ سالار کی حیثیت سے اورنگ زیب ان سلطنتوں کو براہِ راست مغلیہ سلطنت میں شامل کرنے کے حامی تھے۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے 1656ء میں گولکنڈہ کا محاصرہ کیا لیکن شاہ جہاں نے اس محاصرے کو ختم کر کے گولکنڈہ کے حاکم عبد اللہ قطب شاہ کے ساتھ صلح کر لی۔[2] اس کے بعد عبد اللہ قطب شاہ نے قلعے کی فصیل کو مزید مضبوط کیا جس کا نیا حصہ آج ”نیا قلعہ“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔[3]

عبد اللہ قطب شاہ کے بعد 1672ء میں ابو الحسن قطب شاہ تخت نشین ہوئے۔[2] 1682ء میں اورنگ زیب (جو اب بادشاہ بن چکے تھے) نے اپنے بیٹے شہزادہ محمد اکبر کی بغاوت کو دبانے کے لیے دکن میں لشکر کشی کی۔ بغاوت کے خاتمے کے بعد اورنگ زیب نے دکن کی سلطنتوں کو مغلیہ سلطنت میں شامل کرنے کا ارادہ پختہ کیا اور 1685ء تا 1686ء کے دوران بیجاپور کا کامیاب محاصرہ کیا۔[4] گولکنڈہ دکن کے خطے میں طاقت اور دولت کا مرکز تھا، جہاں زرخیز زمینیں، قیمتی ہیروں کی کانیں اور اہم تجارتی راستے موجود تھے۔ یہی عوامل غالباً اورنگ زیب کی اس سلطنت کو فتح کرنے کی ضد کی بنیاد بنے۔[5] معاصر تاریخی ماخذ ”مآثر عالمگیری“ کے مطابق اورنگ زیب نے گولکنڈہ کے حاکم ابو الحسن پر کئی الزامات عائد کیے جن میں ان کی شیعہ فرقہ کی وابستگی، ہندو رسومات کی حمایت اور مغلیہ حدود میں مرہٹوں کی لوٹ مار کی پشت پناہی شامل تھی۔[6]

ابتدا

[ترمیم]

1685ء میں بیجاپور کے محاصرے کے دوران اورنگ زیب نے ابو الحسن کا ایک پیغام روک لیا جس میں انھوں نے یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مرہٹہ فوج کے ساتھ مل کر مغلوں کے خلاف ایک بڑی مسلح قوت روانہ کریں گے۔ اس پر اورنگ زیب بر افروختہ ہوئے اور انھوں نے اپنے بیٹے شہزادہ معظم (شاہ عالم) کو قطب شاہی شہر حیدرآباد پر چڑھائی کے لیے روانہ کیا۔ شاہ عالم کی فوج نے سلطنت کے سرحدی قصبے ملکھیڈ میں قطب شاہی افواج کو شکست دی اور بغیر کسی خاص مزاحمت کے حیدرآباد میں داخل ہو گئی، جہاں شاہی محلات کو آزادانہ طور پر لوٹا گیا۔ سلطان فرار ہو کر قلعہ گولکنڈہ میں محصور ہو گیا۔

شہزادہ معظم نے براہِ راست فتح کی بجائے سلطان سے مصالحت کو ترجیح دی جسے اورنگ زیب نے غداری سمجھا اور عارضی طور پر معظم کو دربار سے نکال دیا۔ تاہم آخرکار اورنگ زیب اسی نتیجے پر پہنچے جس کی تجویز معظم نے دی تھی اور انھوں نے سلطان کو مغلیہ فوج کے انخلا کے بدلے شرائط پیش کیں۔ ان شرائط میں شامل تھا کہ چند متنازع علاقے مغلیہ سلطنت کے حوالے کیے جائیں، ایک بڑی رقم بطور تاوان ادا کی جائے اور سلطنت کے برہمن وزیروں اکنّا و مادنّا کو برطرف کیا جائے۔ سلطان نے ان شرائط کو قبول کیا اور معظم اپنی فوج سمیت سلطنت کی سرحد پر واپس چلے گئے۔ مگر اگلے چند مہینوں میں سلطان نے وزیروں کو برطرف کرنے کا کوئی اقدام نہیں کیا۔ اس بڑھتے ہوئے دباؤ کے نتیجے میں سلطنت گولکنڈہ کے اُمرا نے مارچ 1686ء میں اکّنّا و مادنّا کے قتل کی سازش کی نیز قلعے کے ہندو محلے کے دیگر افراد کو بھی قتل کر دیا تاکہ اورنگزیب کے مطالبات کو کسی حد تک پورا کیا جا سکے۔ اس کے باوجود، 14 جنوری 1687ء کو اورنگزیب نے بیجاپور کے محاصرے کے خاتمے کے بعد گلکندا کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تاکہ اسے مکمل طور پر سلطنت میں شامل کر لے۔[7][8]

اکتوبر 1685ء میں شمالی کورومَنڈل کے خطے میں بارش نہ ہونے کے باعث فصلوں کی تباہی کے آثار ظاہر ہونے لگے جو 1687ء تک پورے کورومَنڈل میں قحط، خشک سالی اور وبائی امراض کی شکل اختیار کر گئے۔ اس صورت حال نے گولکنڈے کے محاصرے کے وقت مغلیہ فوج کے لیے خوراک کی فراہمی کو نہایت دشوار بنا دیا۔[9]

محاصرہ

[ترمیم]

تیاریاں

[ترمیم]

اورنگ زیب کے سپہ سالار غازی الدین خاں فیروز جنگ[10] شہنشاہ کے لشکر سے آگے بڑھ کر گولکنڈے کی جانب روانہ ہوئے۔ انھوں نے سلطنت کی سرحد پر ایک قلعہ فتح کیا اور بغیر کسی مزاحمت کے حیدرآباد میں داخل ہو گئے کیونکہ گولکنڈے کے سلطان اپنی باقی ماندہ افواج کے ساتھ قلعہ گولکنڈہ میں پناہ لے چکے تھے۔ یہ قلعہ شہر حیدرآباد سے دو کوس مغرب میں ایک پہاڑی پر واقع تھا۔[11][7] اس کا محیط چار میل تھا[12] اور اس کے گرد ایک خندق بنی ہوئی تھی۔ قلعے میں خوراک اور بارود کا بڑا ذخیرہ موجود تھا اور اندر کھیت بھی تھے جن میں فصلیں اگائی جاتی تھیں۔ اورنگ زیب کی فوج پچاس ہزار پیادوں، تقریباً اتنی ہی تعداد میں سواروں اور سو کے قریب توپوں پر مشتمل تھی۔[13] ان توپوں میں سے ایک مشہور توپ ’اژدہا پیکر‘ (یعنی اژدہا نما)[14] تھی جو 1647ء میں تیار کی گئی لوہے و کانسی کی توپ تھی اور 33.5 کلو گرام وزنی گولا داغ سکتی تھی۔[15] یہ توپ مغل توپ ’فاتح رہبر‘کی نقل تھی جسے اورنگ زیب محاصرے کے لیے ساتھ لائے تھے۔[16][17] مغلیہ فوج نے اپنی خیمہ گاہ ’فتح میدان‘ میں قائم کی جو حیدرآباد کی فصیل کے باہر واقع ایک کھلا میدان تھا اور قلعے سے تقریباً ڈیڑھ میل کے فاصلے پر محاصرے کا مرکزی مرکز تھا۔[18][19]

مسلح محاصرہ

[ترمیم]
گولکنڈہ قلعے میں محفوظ ایک ”بان“ جو غالباً مغلوں کے محاصرے کے دوران ان کے خلاف استعمال کے لیے تیار کیا گیا اور بارود سے بھرا ہوا تھا۔ یہ کلکتہ کے وکٹوریہ میموریل میں موجود ہے۔

مغلیہ افواج نے 28 جنوری کو قلعے پر باضابطہ کارروائی شروع کی۔[11] جنوری کے آخر تک قلعے کا پورا گھیراؤ مکمل کر لیا گیا[20] اور مختلف حصے مختلف جرنیلوں کے ماتحت تقسیم کیے گئے۔[21] مغل افسر قلیچ خاں (جو غازی الدین خاں کے والد تھے) نے براہِ راست قلعے پر حملہ کیا مگر قلعے سے ہونے والی زنبورک گولہ باری کے باعث پسپا ہونا پڑا۔ ان کے دائیں کندھے پر توپ کا گولا لگا جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور تین دن بعد چل بسے۔[22] 7 فروری کو مغلیہ افواج نے خندق کے کنارے تک خندقیں کھودنے اور توپوں کے مورچے بنانے کا کام شروع کیا تاکہ قلعے کی دیواروں کے برابر بلندی حاصل کی جا سکے مگر قلعے سے مسلسل گولہ باری اور بان برسانے کے باعث یہ پیش رفت سست رہی۔[20][11] اسی دوران قلعے سے باہر قطب شاہی سپہ سالار شیخ نظام حیدرآبادی نے 40 ہزار سواروں کے ساتھ مغلوں کے خلاف جوابی کارروائی کی لیکن مغلیہ فوج نے اسے شکست دے دی جس سے قطب شاہی افواج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ محاصرے کے ابتدائی دو ہفتوں میں مغلوں کی ایک بڑی کامیابی تھی جس کے بعد قلعے کی جانب سے مزید مزاحمت کی کوئی سنجیدہ کوشش نہ کی گئی۔[20] مئی 1687ء میں شیخ نظام مغلوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور انھیں ’مُقرَّب خاں‘ کا خطاب دیا گیا۔[23]

محاصرے کی مشکلات اور مغل اندرونی اختلافات

[ترمیم]

جب خندقوں پر کام جاری تھا تو اورنگزیب کو اپنے ہی دربار میں محاصرے کی حکمت عملی پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔[20] غازی الدین خاں نے شہزادہ معظم کی ایک بڑی سازش کا انکشاف کیا[24] جس میں ان کے سسر، بیوی اور بیٹے بھی شریک تھے۔ شاہ عالم در پردہ سلطان ابو الحسن سے صلح کی بات چیت کر رہے تھے اور مغلیہ فوج کی جنگی تدبیریں سلطان کو پہنچا رہے تھے نیز خفیہ طور پر خوراک بھی قلعے میں بھجوا رہے تھے۔[20][8] 21 فروری کو[25] اورنگ زیب نے اپنے بیٹے کو فوری طور پر نظر بند کر دیا اور انھیں 1695ء میں رہا کیا گیا۔ ان کے اہلِ خانہ کو دکن سے ہٹا دیا گیا اور ان کے کئی ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا۔[8] اورنگ زیب کو دربار کے قاضی القضاہ قاضی عبد اللہ کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا جنھوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ برصغیر کی واحد دوسری مسلم سلطنت کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کا خون بہانا شرعاً درست نہیں۔[20]

جون کے آغاز تک خندقوں پر کام جاری رہا[20] مگر جرنیلوں کے درمیان رقابتوں کے سبب کارکردگی متاثر ہونے لگی۔[26] میر آتش (توپ خانے کے افسر) صف شکن خاں نے سپہ سالار غازی الدین خاں کی مخالفت میں عہدہ چھوڑ دیا جس کے بعد کمزور قیادت کے باعث پیش رفت رک گئی۔[27] پچھلے سال کے قحط کے باعث مغلیہ فوج خوراک کی شدید کمی کا شکار تھی کیونکہ حیدرآباد میں فصلوں کی کاشت محاصرے کے باعث رک گئی تھی۔ مانسون کی بارشوں نے حالات مزید بگاڑ دیے، ندی منجیرہ کے طغیانی میں آنے سے لشکر ڈوب گیا اور لاشوں سے پھیلنے والے امراض نے وبا کی شکل اختیار کر لی۔[9][20] اس ابتری کے باوجود اورنگ زیب نے ہمت نہ ہاری۔ مغل توپیں قلعے کی موٹی دیواروں پر بے اثر تھیں اس لیے محاصرے والوں نے قلعے کے نیچے تین سرنگیں کھودیں جن میں مجموعی طور پر 37 ہزار پاؤنڈ بارود بھرا گیا۔ 20 جون کی صبح پہلی سرنگ کو اڑانے کا حکم دیا گیا مگر قلعے والوں نے دو سرنگیں پہلے ہی دریافت کر کے ناکارہ بنا دی تھیں۔ پہلی دھماکا خیز سرنگ الٹی پھٹ گئی اور ایک ہزار سے زیادہ مغل سپاہی ہلاک ہوئے۔ دوسری سرنگ کا بھی یہی انجام ہوا جب کہ تیسری سرنگ اگلے روز پھٹی ہی نہیں۔[20][12] قلعے کے محافظوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغل خیمہ گاہوں پر حُقّہ (دستی بم) پھینک کر جوابی حملہ کیا۔[11]

تسلیم و سقوط

[ترمیم]

ان ناکامیوں کے بعد اورنگ زیب نے حکم دیا کہ قلعے کے گرد مٹی اور لکڑی کی ایک دیوار تعمیر کی جائے تاکہ اسے مکمل طور پر محصور کر دیا جائے۔[28] 5 جولائی کو[29] انھوں نے گولکنڈہ کے الحاق کا سرکاری اعلان کیا اور اسے ’دار الجہاد‘ کا لقب دیا۔[28] جب فوج کا حوصلہ پست ہو چکا تھا 10 جولائی کو شہزادہ اعظم اور بخشی روح اللہ خاں تازہ کمک کے ساتھ پہنچے مگر خوراک کی قلت مزید بڑھ گئی۔ اعظم کو زخمی غازی الدین خاں کی جگہ سپہ سالار مقرر کیا گیا۔[30] چند مہینوں تک اورنگ زیب نے صبر سے کام لیا کیونکہ قلعے کے اندر موجود لوگ خوراک اور مدد سے کٹ چکے تھے اور ان کی شکست یقینی ہو چکی تھی۔ 21 ستمبر 1687ء کو گولکنڈے کے ایک امیر سر انداز خاں نے سلطنت سے غداری کرتے ہوئے مغلوں کو قلعے کے پچھلے دروازے سے داخلے کا موقع دیا۔ روح اللہ خاں کی قیادت میں مغل دستہ اندر گھس گیا اور قلعے کا مرکزی دروازہ کھول دیا گیا۔ اس طرح آٹھ ماہ طویل محاصرہ ختم ہوا۔[28][11][12][31] شہزادہ اعظم کی قیادت میں مغل فوج فاتحانہ انداز میں قلعے میں داخل ہوئی جس کے بعد اورنگ زیب نے اس دروازے کو ’فتح دروازہ‘ کا نام دیا۔[31][32]

نتائج و اثرات

[ترمیم]

سیاسی تبدیلی

[ترمیم]
قلعہ گولکنڈہ کی موجودہ باقیات جہاں پر مڈ بھیڑ ہوئی تھی۔

قلعہ فتح ہونے کے بعد سلطان ابو الحسن قطب شاہ (تانا شاہ) کو گرفتار کر کے مغل شاہی کیمپ (’اُردو‘) میں لایا گیا۔[33] بعد ازاں انھیں دولت آباد کے قلعے میں قید کر دیا گیا جہاں وہ تین سال بعد وفات پا گئے۔[34][35] کامیاب محاصرے کے بعد اورنگ زیب نے گولکنڈہ کے قبضہ شدہ قلعے میں ایک درباری اجلاس منعقد کیا جس میں شہزادہ معظم (اعظم شاہ)، ان کے بیٹے بیدار بخت اور محاصرے کے دوران فوجی کمان سنبھالنے والے اکتیس امرا کو انعامات اور خلعتیں عطا کی گئیں۔ ان میں سے کئی وہ سابق قطب شاہی عہدے دار تھے جو محاصرے سے پہلے یا دورانِ جنگ مغلوں سے جا ملے تھے، جیسے محمد ابراہیم (جنھیں بعد میں ”محبّت خاں“ کا خطاب دیا گیا)۔ انھیں مغلیہ دربار میں بلند ترین منصب عطا ہوا اور وہ مغلیہ حیدرآباد کے صوبہ دار (گورنر) مقرر ہوئے۔[36][33] راجپوت حکمراں انوپ سنگھ (جنھوں نے گولکنڈہ پر آخری حملے میں حصہ لیا) کو ”مہاراجہ“ کا خطاب دیا گیا اور انھیں ماہی مراتب کا شاہی اعزاز ملا اور ان کا منصبدار درجہ بڑھا کر 3500 کر دیا گیا۔[3][37] گولکنڈہ کے خزانے سے ساٹھ ملین روپے سے زائد مال و دولت برآمد ہوا جسے شمال کی سمت کی مغلیہ دار الحکومتوں کو اونٹوں پر لادھ کر بھجوا دیا گیا۔[33][36] سابق سلطنتِ گولکنڈہ کو (جو اب مغلیہ صوبہ حیدرآباد بن چکی تھی) چار ماہ کے اندر نئے انتظامی ڈھانچے کے ساتھ منظم کیا گیا تاکہ علاقے کو مغلیہ نظامِ حکومت میں ضم کیا جا سکے۔[38] محاصرے نے سابق سلطنت میں شدید غذائی قلت اور وسائل کی کمی پیدا کر دی تھی، اس لیے نئی انتظامیہ کے لیے معیشت کی بحالی ایک بڑا ہدف تھا۔[9]

قلعۂ گولکنڈہ

[ترمیم]

محاصرے نے قلعۂ گولکنڈہ کو خاصا نقصان پہنچایا۔[39] مشرقی جانب واقع محلاتی حصے کو غالباً مغل قبضے کے فوراً بعد آگ لگا دی گئی۔[40] تاہم مؤرخ رچرڈز کے مطابق مغلوں نے قلعے کے ساتھ نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا؛ باشندوں کو محفوظ رکھا گیا اور املاک کو کم نقصان پہنچایا گیا۔[38] اورنگ زیب کی حکمت عملی یہ تھی کہ مفتوحہ قلعوں کو منہدم کرنے کی بجائے مرمت کر کے مغلیہ عملے کے حوالے کیا جائے۔[41] مغلوں نے اپنے لائے ہوئے بعض دو دھاتی توپوں کو گولکنڈہ کے قلعے میں نصب کیا، جنھوں نے پرانی لوہے کی توپوں کی جگہ لی۔ ان میں ”اژدہا پیکر“، ”فتح رہبر“، ”قلعہ کُشا“ اور ”آتش بار“[42] جیسی توپیں شامل تھیں، جو آج بھی قلعۂ گولکنڈہ میں موجود ہیں۔[3][16] 1695ء میں مغلیہ صوبائی انتظامیہ نے قلعے کی دیواروں کی مرمت اور مضبوطی کے لیے 80،000 روپے خرچ کیے۔[41][43]

ما حاصل

[ترمیم]

اورنگ زیب کی فتوحات میں گولکنڈے کی تسخیر ایک بڑی کامیابی تھی جس سے مغلیہ سلطنت اپنی جنوبی ترین حد تک پھیل گئی اور برصغیر میں واحد مسلم سلطنت کے طور پر ابھری۔[33] یہ مہم دراصل دکن میں مغل توسیع کا نقطۂ عروج تھی جو شہنشاہ اکبر کے زمانے میں شروع ہوئی تھی اور اورنگ زیب کی چالیس سالہ خواہش کی تکمیل بھی تھی۔[38][44] تاہم گولکنڈے کے محاصرے سے حاصل ہونے والی زمین اور دولت شاید اس انتظامی اور مالی بوجھ کے برابر نہ تھی جو اس مہم نے سلطنت پر ڈال دیا۔ مغلیہ تاریخ کے ماہرین کی ایک نمایاں رائے یہ ہے کہ گولکنڈے کی تسخیر نے جاگیرداری بحران کو جنم دیا۔ اس بحران کی وجہ یہ تھی کہ مغلیہ دربار نے دشمن افواج کے افسروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے جو انعامی زمینیں (جاگیریں) دینے کا وعدہ کیا وہ نئی مفتوحہ زمینوں کی آمدنی سے کہیں زیادہ تھیں۔ نتیجتاً جاگیروں کی طلب ان کی رسد سے بڑھ گئی، جس سے جاگیردار طبقے میں بے اطمینانی پھیل گئی۔ اگرچہ دشمن کو صلح کے ذریعے زیر کرنا مغلیہ روایت تھی لیکن اورنگ زیب کی دکن کی مہمات نے سلطنت کے وسائل کو پہلے سے کہیں زیادہ کھینچ لیا۔ یہی جاگیرداری بحران اورنگ زیب کی وفات کے بعد مغلیہ سلطنت کے جلد زوال کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔[45] گولکنڈے اور بیجاپور کی فتوحات سے دکن میں وہ استحکام پیدا نہ ہو سکا جس کی اورنگزیب کو امید تھی۔ وہ شمال کی مغلیہ دار الحکومت دہلی کبھی واپس نہ لوٹے اور اپنی وفات تک دکن میں مرہٹوں کے خلاف لڑتے رہے۔[33] گولکنڈے کے علاقوں پر مغلیہ اقتدار وسطِ اٹھارھویں صدی عیسوی تک قائم رہا جس کے بعد صوبہ حیدرآباد نظامِ حیدرآباد کے زیرِ انتظام خود مختار ریاست بن گیا۔[46]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Streusand (2011), p. 228.
  2. ^ ا ب Richards (1975a), p. 35-38.
  3. ^ ا ب پ Michell (Morelle), p. 227.
  4. Richards (1975a), p. 45-46.
  5. Chaudhuri (2022), p. 107.
  6. Richards (1975a), p. 47-48.
  7. ^ ا ب Richards (1975a), p. 46-48.
  8. ^ ا ب پ Faruqui (2012), p. 305-207.
  9. ^ ا ب پ Chaudhuri (2022), p. 109-120.
  10. Sarkar (1930), p. 308.
  11. ^ ا ب پ ت ٹ Roy (2011), p. 37.
  12. ^ ا ب پ Tracy (2000), p. 409.
  13. Richards (1975a), p. 48-49.
  14. Steingass (1892), p. 45.
  15. Roy (2011), p. 30.
  16. ^ ا ب Balasubramaniam (2005), p. 412-416.
  17. Bilgrami (1992), p. 174 & 180.
  18. Kugle (2016), p. 137.
  19. Bilgrami (1992), p. 35 & 110.
  20. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح Richards (1975a), p. 49-50.
  21. Sarkar (1930), p. 312.
  22. Sarkar (1930), p. 307.
  23. Seshan (2012), p. 30 & 36.
  24. Faruqui (2012), p. 298.
  25. Sarkar (1930), p. 309-310.
  26. Roy (2011), p. 43.
  27. Sarkar (1930), p. 312, 315, 321.
  28. ^ ا ب پ Richards (1975a), p. 49-51.
  29. Lal (1923), p. 297.
  30. Sarkar (1930), p. 321-322.
  31. ^ ا ب Sarkar (1930), p. 323.
  32. Bilgrami (1992), p. 109.
  33. ^ ا ب پ ت ٹ Richards (2010), p. 222-227.
  34. Richards (1975a), p. 67-68.
  35. Michell (1999), p. 18.
  36. ^ ا ب Richards (1975a), p. 54-55.
  37. Hooja (2009), p. 904.
  38. ^ ا ب پ Richards (1975a), p. 52-53.
  39. Khalidi (2009), p. 14.
  40. UNESCO (2010).
  41. ^ ا ب Richards (1975a), p. 85-86.
  42. Steingass (1892), p. 13.
  43. Richards (1970), p. 137.
  44. Richards (1975).
  45. Streusand (2011), p. 283-285.
  46. Leonard (1971), p. 569–570.

کتابیات

[ترمیم]