محبت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محبت کا لفظ اردو میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ محبت کئی قسموں کی ہو سکتی ہے۔ یہ محبت عام کسی شے سے بھی ہے اور کسی خاص ہستی، شخص یا رشتے سے بھی ہو سکتی ہے۔ یہ معمولی ہو سکتی ہے اور شدید بھی۔ شدید حالت جان دے دینے اور لے لینے کی حد تک ہو سکتی ہے۔ اسے پیار یا عشق بھی کہتے ہیں۔ محبت کی کئی قسمیں ہیں۔ مثلا مذہبی پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن کے لیے پیار، کسی بندے کے لیے پیار۔ وغیرہ وغیرہ

محبت ایک جذبہ محبت ایک جذبہ کا نام بھی ہے جو کسی جاندار یا بے جان چیز کے لیے دل کی گہرائی سے پھوٹتاہے محبت بے لوث ہوتی ہے اگر محبت میں بے لوثی نہ ہو تو وہ محبت پاک نہیں ہوتی ایسی محبت کو محبت نہیں بلکہ فلرٹ کہا جاتا ہے اس قسم کی محبت وقتی ہوتی ہے اور وقت گزاری کے لیے کی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ محبت پانے کا نام نہیں ہے بلکہ کھونے کا نام ہے بقول علامہ اقبال

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

محبت کی اقسام[ترمیم]

محبت کی کئی اقسام ہیں جو درج ذیل ہیں

اللہ سے محبت[ترمیم]

انسان جب سے اس کائنات میں آیا تو اس نے سوچناشروع کیاکہ اس کائنات کوتخلیق کرنے والا کوئی ہے جس نےاس عظیم الشان کائنات کو تخلیق کیا ہے تو انسان کو اللہ سے محبت ہو گئی اور اللہ تعالیٰ سے محبت ہی محبت کا وہ بلند ترین جذبہ ہے جس کے تحت انسان اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتاجس نے اللہ تعالیٰ سے سچی محبت کی اور اللہ کی آزمائشوں سے کامیابی سے گزرا تو سمجھو وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو گیا اور آخرت میں بھی کامیاب ہو گیا۔اللہ سے محبت یکطرفہ نہیں ہوتی جہاں انسان اپنے پیدا کرنے والے اللہ ے محبت کرتا ہے وہاں اللہ بھی اپنے بندوں سے ستر مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے اس کی مثال اس طرح ہے کہ انسان دنیا میں بے شمار غلطیاں اور گناہ کرتا ہے لیکن جیسے ہی انسان اپنے گناہوں کی دل سے معافی مانگتا ہے تو اللہ انسان کی بڑی سے بڑی غلطی اور گناہ کو معاف کردیتا ہے اس کی سب سے بڑی مثال بنی اسرائیل کی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم کہلائی بنی اسرائیل کی قوم مسلسل غلطیوں پر غلطیاں اور گناہ پر گناہ کرتی رہی لیکن یہ اللہ کی انسانوں سے محبت ہی تو تھی کہ وہ ان کے گناہوں کو معاف کرتا رہا۔ مختلف مذاہب میں اللہ سے محبت کی مختلف صورتیں ہیں اللہ کو اس دنیا میں کہیں خدا کے نام سے پکارا جاتا ہے، کہیں اللہ کو رب کہا جاتا ہے، کہیں اللہ کو بھگوان کہا جاتا ہے، کہیں اللہ کو لوگ ایشور کہتے ہیں، کہیں دیوتا سمجھ کر اللہ کی پوجا کی جاتی ہے اور کہیں اللہ کو گوڈ مانا جاتا ہے۔ مسلمان اللہ کو ایک مانتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں سب مذاہب اور عقائد کے لوگ اپنے اپنے نکتہ نظر سے اللہ سے محبت کرتے ہیں یا اس بات کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ سب کسی نہ کسی صورت میں اللہ کو مانتے ہیں اور اس سے محبت کرتے ہیں لیکن راستے جدا ہیں اور زاویہ نگاہ کا فرق ہے یہ انسان کی اللہ سے محبت ہی تو ہے جودنیا کے لوگوں کو ایک رشتہ انسانیت میں جوڑے ہوئے ہے۔

حضرت محمدﷺ سے محبت[ترمیم]

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لوگوں کی ہداہت اور سیدھا راستہ دکھانے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی، انبیا اور رسول بھیجے اور اپنے سب سے پیارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید آپ پر نازل فرمائی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے لیے دین اسلام پسند فرمایا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اللہ کے دین کو تمام تر مشکلات اور تکالیف کے باوجود اس دنیا میں پھیلایا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے مسلمان ہیں۔ مسلمان اپنے پاک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انتہائی عقیدت اور محبت رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اتنی شدید محبت ہے کہ وہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذرا سی بھی توہین بداشت نہیں کرسکتے اگر کوئی رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرے تو مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کیوں نہ ہو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی تو اپنی امت سے بے پناہ محبت کی ہے انہوں نے بھی تو اپنی ہر عبادت میں اور ہر نماز میں رات کی تنہائیوں میں اپنی امت کی بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں مانگی ہیں۔

پیغمروں سے محبت[ترمیم]

اللہ تعلیٰ کو اپنے بندوں سے اتنی زیادہ محبت ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا اور اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہرار انبیا، پیغمر اور رسول علیہ السلام اس دنیا میں بھیجے۔ اس وقت اس دنیا میں تین بڑے مذاہب ہیں جو اپنے نبیوں، پیغمبروں اور رسولوں کی پیروی کرتے ہیں جن میں مسلمان، مسیحی اور یہودی شامل ہیں۔ مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری بنی مانتے ہیں اور ان سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ مسلمان دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار تمام انبیا، علیہ السلام پر ایمان رکھتی ہے اور تمام انبیا کی عزت کرتی ہے اور ان سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتی ہے۔مسیحی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ یہودی حضرت یعقوب علیہ السلام کے پیروکار ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا اس لیے حضرت یعقوب علیہ السلام کے پیروکار بنی اسرائیل کہلائے قرآن مجید میں بنی اسرائیل کا تذکرہ جگہ جگہ موجود ہے اور بنی اسرائیل کی قوم کے بارے میں مکمل معلومات درج ہیں کہ وہ کیسی قوم تھی اس کے علاوہ بنی اسرائیل اور یہودیوں میں نبیوں کا ایک پورا سلسلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ انبیا علیہ السلام بنی اسرائیل اور یہودیوں کی ہدایت کے لیے بھیجے بنی اسرائیل کی قوم اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم کہلاتی تھی اور اس قوم پر اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں نازل کیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور یہودیوں کی ہدایت کے لیے جو انبیا علیہ السلام بھیجے ان میں حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت دائود علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام اور دیگر جلیل القدر انبیا شامل ہیں جن کی بنی اسرائیلی اور یہودی پیروی کرتے ہیں اور ان سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔

مذہب سے محبت[ترمیم]

جب سے یہ دنیا آباد ہوئی اور انسان نے اس دنیا کو اپنا مسکن بنایا یا یوں کہیے کہ انسان کو جنت سے نکال کر اس دنیا میں بھیج دیا گیا اور اسے اچھے اور برے اعمال کرنے کا اختیار دیا گیا اور اس دنیا کو انسان کہ لیے امتحان گاہ اور آزمائش گاہ بنایا گیا اچھے اعمال کرنے کی صورت میں جنت کا اور برے اعمال کرنے کی صورت میں دوزخ کا وعدہ کیا گیاآج تک دنیا میں بے شمار مذاہب نے جنم لیا۔ اسلام مسلمانوں کا مذہب ہے اور مسلمان اپنے مذہب اسلام سے بہت محبت کرتے ہیں۔ مسیحیت مسیحیوں کا مذہب ہے اور وہ اپنے مذہب مسیحیت سے محبت رکھتے ہیں۔ یہودیت یہودیوں کا مذہب ہے اور وہ یہودیت سے محبت کرتے ہیں، ہندو ہندئوں کا مذہب ہے اور وہ ہندو مذہب سے محبت کرتے ہیں۔ بدھ مت بدھوں کا مذہب ہے اور وہ بدھ مت مذہب سے محبت کرتے ہیں۔ سکھ مذہب سکھوں کا مذہب ہے اور وہ اپنے سکھ مذہب سے محبت کرتے ہیں اسی طرح ستارہ پرست، آتش پرست، بت پرست اور دیگر بے شمار مذاہب ہیں جن کے ماننے والے اپنے اپنے مذاہب سے محبت کے دعوے دار ہیں۔دلچسبپ بات یہ ہے کہ ان مذاہب کی اپنے اندر کئی کئی شاخیں، فرقے اور مسالک ہیں جو اپنے فرقوں اور مسالک کے مطابق اپنے فرقوں اور مسالک سے محبت کرتے ہیں اور اس محبت میں آپس میں ایک دوسرے سے جھگڑتے رہتے ہیں۔ مذاہب سے محبت کا یہ عالم ہے کہ ان مذاہب کے ماننے والوں میں اپنے مذہب کی محبت میں شدید اور بہت بڑی لڑائیاں ہوئی ہیں اور آج بھی ہو رہی ہیں۔غرض اس بات کو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ انسان مذہب سے محبت مین جان دیتا بھی ہے اور دوسرے کی جان لیتا بھی ہے۔

وطن سے محبت[ترمیم]

انسان جس ملک میں پیدا ہوتا ہے یا جس ملک میں ہجرت کر کے مستقل قیام کرتا ہے اور اس ملک کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کرتا ہے اور اس ملک کے آئین اور قانون کی پاسداری کرتا ہے وہ ملک اس کا وطن ہوتا ہے۔ انسان کو اپنے وطن کی مٹی اپنے وطن کے پہاڑوں، دریائوں، وادیوں، لہلہاتے کھیتوں، سرسبز میدانوں غرض کے وطن کے ایک ایک گوشے سے محبت ہوتی ہے۔ اپنے وطن کی مٹی میں انسان کو جو سکون ملتا ہے وہ اسے کہیں اور نصیب نہیں ہوتا وہ اپنے وطن کی محبت کے ترانے گاتا ہے گیت لکھتا ہے انسان جہاں کہیں بھی چلا جائے اسے اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو آتی رہتی ہے۔ اپنے وطن کی یاد ہمیشہ ستاتی رہتی ہے یہ انسان کی اپنے وطن سے لازوال محبت ہی تو ہے کہ وہ اپنے وطن کی محبت کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ وطن سے محبت کی سب سے بڑی مثال فوجی جوان ہیں جو اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور وطن سے محبت کی لازوال داستان رقم کرتے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں کو، بہنیں اپنے بھائیوں کو اور بیویاں اپنے شوہروں کو وطن کی محبت میں قربان کردیتی ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں نہ صرف فوجی جوانوں نے وطن کی محبت میں اپنی جانیں قربان کی ہیں بلکہ اپنے بہادر فوجیوں کے شانہ بشانہ ہزاروں شہریوں نے بھی پوری دنیا میں وطن کی محبت میں بے شمار قربانیاں پیش کیں ہیں پاکستان اس کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں ہزاروں لوگ اور فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں لیکن ان کے عزم اور ارادے آج بھی چٹان کی طرح اٹل ہیں یہ وطن سے محبت ہی تو ہے کہ پاکستان کے لوگ آج بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررے ہیں

والدین سے محبت[ترمیم]

بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو اپنی ماں کی گود میں آنکھ کھولتا ہے اور پھر باپ کی شفقت کے سایہ میں پروان چڑھتا ہے اس کی زندگی کے کثیر لمحے ماں باپ کے سایہ میں گزرتے ہیں وہ ماں کی لوری سن کر سوتا ہے اور باپ کی انگلی پکڑ کر دنیا میں چلنا سکیھتا ہے اسے اپنے والدین سے بہت زیادہ محبت ہوتی ہے۔ وہ اپنے خلاف باتوں کو توبرداشت کرلیتا ہے لیکن اپنے والدین کے خلاف کسی سے ایک لفظ بھی نہیں سن سکتا۔ جہاں والدین اس سایہ کو فراہم کرتے ہیں اور اسے زندگی کی ہر دھوپ سے بچاتے ہیں وہیں اولاد بھی اپنے والدین سے محبت اور پیار کا اظہار اپنے رویے سے کرتی ہے بچے کو خاص طور پر اپنی ماں سے بہت ہی پیار ہوتا ہے۔ اور ماں بھی اپنے تمام بچوں سے ایک سا پیار کرتی ہے۔ باپ سے بچہ دنیا میں رہنے کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ جہاں بچے اپنے والدین سے محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں وہیں والدین بھی اپنے بچوں سے پیار کا اظہار کرتے ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ اپنے دوستوں، اپنے رشتہ داروں میں اور اپنے حلقہ احباب میں بچے اپنے والدین کا ذکر کرتے ضرور نظر آتے ہیں خاس طور پر وہ اپنی ماں کو ہر جگہ ضرور یاد کرتے ہیں اسی طرح والدین بھی اپنے بچوں کا ذکر ہر جگہ ضرور کرتے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ والدین اور بچوں کی محبت یکطرفہ نہیں ہوتی یا دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ دونوں طرف ہے محبت کی روشنی پھیلی ہوئی۔ والدین بیمار ہوجائیں تو بچے سخت پریشان نطر آتے ہیں اور ان کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں اسی طرح اگر بچے بیمار ہوجائیں تو والدین کی جان پر بن آتی ہے اور وہ اپنے بچوں کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں۔ رات دن دعائیں علحیدہ کرتے ہیں کہ ان کا بچہ جلد از جلد صحت یاب ہو جائے۔ والدین اور بچوں کی یہ محبت ایک لازوال محبت ہے جو قیامت تک قائم رہے گی۔

رشتے داروں سے محبت[ترمیم]

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے گرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو اسے گودمیں لے کر پیار کرتے ہیں مبارک سلامت کی آوازیں آتی ہیں یہ کون لوگ ہوتے ہیں یہ اس کے رشتہ دار ہوتے ہیں باپ کے رشتہ دار دھدیالی (دادکے) رشتہ دار کہلاتے ہیں جبکہ ماں کے رشتہ دار ننھیالی (ںانکے)کہلاتے ہیں۔ باپ کے رشتے داروں میں دادا، دادی، تایا،تائی، تایا زاد بھائی، تایازاد بہن ، چچا،چچی، چچازاد بھائی، چچا زاد بہن، پھوپھا، پھوپھی، پھوپھی زاد بھائی، پھوپھی زاد بہن شامل ہیں اسی طرح ماں کے رشتے داوں میں نانا،نانی، ماموں، ممانی، ماموں زاد بھائی، ماموں زاد بہن، خالو، خالہ، خالہ زاد بھائی، خالہ زاد بہن شامل ہیں اس کے علاوہ کچھ اور بھی رشتے دار ہوتے ہیں جو ذرا دور کے رشتے دار ہوتے ہیں اور یہی تمام رشتہ دار انسان کی خوشی غمی میں شامل ہوتے ہیں۔ اور انسان کا کافی وقت ان کے ساتھ گزرتا ہے کوئی دادا کے قریب ہوتا ہے تو کوئی نانا سے محبت کرتا ہے، کسی کو تایا سے الفت ہوتی ہے تو کوئی چچا کا دیوانہ ہوتا ہے، کوئی پھوپھی سے ڈھیروں پیار سمیٹ ریا ہوتا ہے تو کوئی ماموں کی آنکھ کا تارا ہوتا تو کوئی ممانی ممانی کرتا نظر آتا، کسی کی زبان خالو خالو کہتے نہیں سوکھتی، تو کسی پر خالہ واری صدقے ہوتی ہے۔ تو کوئی اپنے کزنوں کے بغیر نہیں رہ سکتا کس کس کا ذکر کیا جائے یہ تمام رشتے بہت ہی پیارے اور محبت کے لائق ہوتے ہیں ان رشتوں میں احترام بھی ہوتا ہے اور محبت بھی یاں یہ بات ضرور ہے کہ محبت میں کمی بیشی ہوسکتی کہیں محبت کی شدت کم ہوتی ہے تو کہیں محبت کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک رشتوں کی بہت اہمیت تھی اور رشتہ داروں میں بہت زیادہ محبت پائی جاتی تھی لیکن جب سے خاندانی نظام میں دڑاریں پڑنا شروع ہوئی ہیں رشتوں کی اہمیت میں بھی کمی آئی ہے اور محبت میں بھی کمی آئی ہے۔

کسی خاص فرد سے محبت[ترمیم]

انسان محبت تو بہت سے لوگوں سے کرتا ہے لیکن وہ ایک ایسی محبت بھی کرتا ہے جو کسی ایک خاص فرد کے لیے ہوتی ہے۔ اس محبت میں انسان کی نیند اڑ جاتی ہے ساری رات جاگ کر آسمان پر تارے گنتا ہے کام کاج میں دل نہیں لگتا ہر وقت کسی کا تصور دل میں بسا ہوتا ہے۔ یہ محبت یکطرفہ بھی ہوسکتی ہے اور دو طرفہ بھی یعنی دونوں طرف محبت کی آگ کا دیا روشن ہوتا ہے۔ یکطرفہ محبت کی صورت میں ایک ہی طرف چپکے چپکے محبت کا تیر دل میں پیوست ہوتا ہے اور دوسری طرف کوئی خبر نہیں ہوتی کہ کسی پر کیا گزر رہی ہے اس محبت میں یہ ڈر ہوتا ہے کہ اگر اظہار کر دیا اور جواب انکار میں آیا تو کیا ہوگا۔ چھپ چھپ کر دیدار کیا جاتا ہے۔ بہت دعائیں مانگی جاتی ہیں۔ ملنے کی طلب تو بہت ہوتی ہے لیکن خوف بھی بہت دامن گیر ہوتا ہے۔ یکطرفہ محبت کسی کے دل میں پھوٹتی ہے اور پھر اپنی موت آپ ہی مر جاتی ہے۔ شاذ و ناذر ہی کامیابی ملتی ہے۔ دوطرفہ محبت میں دونوں طرف محبت کی آگ تو بھڑک رہی ہوتی ہے لیکن اس محبت میں عموما ظالم سماج سامنے آجاتا ہے اور اپنی پوری طاقت سے اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ محبت کبھی کامیابی سے اپنی منزل پا لیتی اور اور کھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ لیکن بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں کی وجہ سے اب اس محبت کی کامیابی کا تناسب آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔ اسی محبت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ محبت پانے کا نہیں کھونے کا نام ہے دنیا میں کچھ ایسی بھی محبتیں ہیں جو تاریخ میں امر ہوگئیں اور داستانوں کی زینت بن گئیں ان میں لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، ہیر رانجھا، سسی پنوں، نوری جام تماچی اور مرزا صاحباں۔

آئیڈیل سے محبت[ترمیم]

انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو بہت سے لوگوں کو اس دنیا میں دیکھتا ہے۔ تاریخ پڑھتا ہے تو بہت سے مشہور لوگوں کے کارنامے پڑھتا ہے۔ ان کے کام اور کردار کے بارے میں جانتا ہے کہ انہوں نے زندگی کس طرح گزاری اور زندگی کے مشکل حالات کا مقابلہ کس طرح کیا اور کس طرح کامیابی کی منزل تک پہنچے۔ اسی طرح اپنے اردر گرد کے لوگوں مذہبی رہنماؤں، سیاست دانوں، کھلاڑیوں،سائنسدانوں، اداکاروں، ڈاکڑز، انجینئرز، وکلا اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو دیکھتا ہے کہ وہ کس طرح زندگی کی تمام مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی کی بڑی بڑی منزل تک پہنچے اور شہرت کی بلندیوں کو حاصل کیا تو ان میں سے کسی کو اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے اور اپنے اس آئیڈیل سے محبت کرتا ہے۔ اپنے آئیڈیل جس کو وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں بسائے ہوئے ہوتا ہے اس کے جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی سی چال ڈھال اپناتاہے، اس جیسا لباس پہنتا ہے، اسے جیسے جوتے پہنتا ہے، اس جیسی گفتگو کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے آئیڈیل کی شدید محبت میں گرفتار نظر آتا ہے۔ بعض لوگ ایک ہی آئیڈیل کی محبت میں اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں اور بعض لوگوں کے آئیڈیل حالات اور واقعات بدلنے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں اور کسی کا ساری زندگی کوئی آئیڈیل ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنا آئیڈئل خود ہی کو سمجھتا ہے۔

مناظر سے محبت[ترمیم]

اس دنیا میں بے شمار قدرتی مناظر ہیں جن میں خوبصورت پہاڑ، برف پوش پہاڑ، خوبصورت وادیاں، برف پوش وادیاں، سمندر، خوبسورت آبشاریں، جھیلیں، ٹھنڈے اور گرم پانی کے چشمے، صحرا، ریگستان، خوبصورت آسمان جس پر دن میں سورج طلوع ہوتا ہوا سورج جب شام کو غروب ہوتا ہے تو زمین پر خوبسورت رنگ بکھیر دیتا ہے اور اسی طرح جب رات کو آسمان پر چاند اور ستارے اپنی خوبسورت مدھم روشنی بکھیرتے پیں تو آسمان پرایک عجیب نظارہ پیش کرتے ہیں، اسی طرح جب سورج اور چاند گرہن ہوتے ہیں تو اس کا نظارہ دنیا کے کڑوروں لوگ دیکھنے کو بے تاب ہوتے ہیں یہ تو قدرتی مناظر ہیں جن کی محبت میں انسان گرفتار ہوتا ہے لوگ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے اور لاکھوں ہزاروں ڈالرز اور روپے خرچ کر کے ان مناظر کو ایک نظر دیکھنے کے لیے آتے ہیں لوگوں کی ان مناظر سے محبت ہی تو ہے کہ وہ ان مناظر کو اپنے کیمروں کی انکھ میں قید کرلیتے ہیں۔ ان خوبصورت مناظر کی فلمیں بنائی جاتی ہیں اور جن لوگوں کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے وہ یہ مناظر اپنی ٹی وی سکرین پر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، ان کی تصاویر اپنے گھروں کے ڈرائنگ رومز کی زینت بناتے ہیں اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، یہ تو انسان کی قدرتی مناظر سے محبت کا اظہار ہے اس کے علاوہ انسان نے خود بھی بے شمار مناظر تخلیق کیے ہیں جن کی محبت میں انسان گرفتار ہے ان میں بلند بالا عمارتیں، مساجد، گرجا گھر، مندر اور مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں، اہرام، ہوٹلز، پارک، چڑیا گھر، عجائب گھر، ڈزنی لینڈ اور دیگر بہت سے انسان کے اپنے تخلیق کردہ مناظر ہیں جن سے انسان شدید محبت کرتا ہے ان کو دیکھنے کے لیے دور دور کا سفر کرتا ہے اور اپنا پیسہ خرچ کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ قدرتی مناظر ہو یا انسان کے اپنے تخلیق کردہ مناظر انسان ان کی محبت میں ہمیشہ سے گرفتار ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

پھولوں سے محبت[ترمیم]

پھولوں کی خوبصورتی، دلکش رنگوں اور خوشبو نے انسان کو ہمیشہ اپنی طرف کھینچا اور پھولوں کی کشش کے سحر میں انسان اس طرح سے گرفتار ہوا کہ پھولوں سے اسے شدید محبت اور عشق ہو گیا۔ دنیا میں پھولوں کی بے شمار اقسام ہیں ان میں گلاب، چنبیلی،موتیا، رات کی رانی، گیندا، گل یاسمین، گل نرگس، گل دائودی، گل بہار، للی، نیلوفر،کنول، بنفشہ، سورج مکھی اور بے شمار اقسام کے پھول اس دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ پھوللال، نیلا، پیلا، گلابی،برائون، سبز، آسمانی، کاسنی، کالا، جامنی اور دیگر بہت سے رنگ ہیں جن میں پائے جاتے ہیں پھولوں کے رنگوں کی دلفریب خوبصورتی اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے اس کے علاوہ پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو بھی انسان کے دل و دماغ کو معطر رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ انسان پھولوں سے بہت ہی زیادہ محبت رکھتا، پھولوں کے پودے اپنے گھر کے گملوں اور باغیچے میں لگاتا ہے، پھولوں کو اپنے گھروں میں سجاتا ہے، بڑے بڑے لیڈروں اور بڑے لوگوں پر ان کی آمد کے موقع پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی جاتی ہیں، انسان ایک دوسرے کو تحفے میں پھول پیش کرتا ہے ہے، لڑکیاں کانوں میں موتیا کے پھول پہنتی ہیں اور ہاتھوں میں موتیا کے پھولوں کے گجرے پہنے جاتے ہیں۔ کوئی بھی شادی پھولوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہاں تک کے پھول انسان کی آخری آرام گاہ قبر پر بھی رکھے جاتے ہیں بڑے لوگوں کی قبروں اور مزاروں پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں، پھولوں سے پرفیوم اور عطر کشید کر کے بطور خوشبو انہیں استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح پھولوں سے بہت سی ادویات بنائی جاتی ہیں، غرض انسان کی زندگی پھولوں کے بغیر نامکمل نظر آتی ہے۔ یہ انسان کی پھولوں سے محبت نہیں تو اور کیا ہے کہ پھول انسان کی پوری زندگی پر حاوی نظر آتے ہیں۔ گلاب کے پھول کو محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ پھولوں سے محبت انسان کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے جو اس کے رحم دل اور پر امن ہونے کی نشانی ہے۔

جانوروں سے محبت[ترمیم]

اس دنیا میں بےشمار جانور پائے جاتے ہیں جن سے انسان محبت کرتا ہے۔ مغربی ممالک میں جانوروں سے بہت زیادہ محبت کی جاتی ہے ان ممالک میں کتوں سے بہت زیادہ پیار کیا جاتا ہے شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں کتے نہ پالے جاتے ہوں۔ یہاں کتے کو ساتھی تصور کیا جاتا ہے مغربی ممالک میں جانوروں کے حقوق کا بھی تعین کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا کے ہر خطے میں جانوروں سے بہت زیادہ محبت کی جاتی ہے لوگ خطرناک جانور مثلاً شیر، چیتا، سانپ، ریچھ،مگرمچھ وغیرہ پالتے ہیں ان کا خیال رکھتے ہیں ان سے محبت کا اظہار کرتے ہیں ان کی تربیت کرتے ہیں اور ان کو سدھاتے ہیں۔ کچھ لوگ خوبصورت اور رنگ برنگی مچھلیوں کے شوقین ہوتے ہیں اور انہیں گھروں میں پالتے ہیں۔ تو کچھ لوگ بکری، گائے، بھینس، اونٹ اور بلی وغیرہ پالتے ہیں ان کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔ مسلمان ممالک میں قربانی کے جانوروں کو بہت ہی محبت سے پالا جاتا ہے بچے خاص طور پر ان کا بہت خیال کرتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں لیکن جب انہیں سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے قربان کر دیا جاتا ہے تو دکھ بھی بہت ہوتا ہے یہ محبت کی ایک منفرد مثال ہے جو صرف مسلمانوں میں ملتی ہے۔اسی طرح لوگ پرندوں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں لوگ طوطا، مینا، بلبل، کبوتر، مرغیاں، عقاب،رنگ برنگی چڑیاں وغیرہ پالتے ہیں ان کے دانہ پانی کا بھی بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں اور اپنے پالتو پرندوں سے بہت زیادہ پیار اور محبت کا اظہار کرتے ہیں۔لوگ خاص طور پر بچے چڑیا گھر (Zoo) جانا بہت پسند کرتے ہیں اور وہاں جانوروں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ ان کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ان کے ساتھ سیلفیاں بنواتے ہیں اور جانوروں کے ساتھ بہت خوشی اور محبت سے اپنا وقت گزارتے ہیں۔ جانوروں سے محبت کی بے شمار مثالیں ہیں جنہیں بیان کیا جاسکتا ہے۔ اسان کی جانوروں سے محبت یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ انسان میں رحم کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ دنیا میں جانوروں کے تحفظ کی سوسائیٹیاں جانوروں سے محبت کی وجہ سے ہی قائم کی گئیں ہیں۔