محبوب خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محبوب خان
Mehboob Khan
Image illustrative de l'article محبوب خان

معلومات شخصیت
پیدائشی نام محبوب خان رمضان خان
پیدائش سنہ 1906[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
Bilimora   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 مئی 1964 (57–58 سال)[3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
شریک حیات فاطمہ
سردار اختر
عملی زندگی
پیشہ فلم ڈائریکٹر، پروڈیوسر
تصنیفی زبان ہندی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
Filmfare Award for Best Director (عن عمل:مدر انڈیا) (1958)
فنون میں پدم شری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر

پیدائش: 1907 انتقال:28 مئی 1964ء


ابتدائی زندگی[ترمیم]

محبوب خان (1907ء-1964ء) کے اجداد افغانستان سے ہندوستان آئے اور پھر یہیں رچ بس گئے۔

بھارتی فلمی صنعت کے افسانوی فلمساز۔ گجرات کے شہر بلیمورا میں پیدا ہوئے۔ محبوب خان کا جلوہ گاہ اور فلم کا جنون اس حد تک بڑھا کہ وہ گھر سے بھاگ کر ممبئی آ گئے۔ یہاں انہوں نے امپریل فلم کمپنی سے اپنے پیشہ کی ابتداء کی۔ فلمی دنیا میں وہ دور مار دھاڑ اور طلسماتی فلموں کا دور تھا۔

فلمی زندگی[ترمیم]

محبوب خان نے بھی اپنی ابتدائی فلمیں اسی انداز میں بنائیں۔ جن میں ججمنٹ آف اللہ، علی بابا اور ہمایوں شامل تھیں لیکن یہ ان کی منزل نہیں تھی۔ وہ فلموں کو بامقصد ذریعہ کے طور پر دیکھتے تھے اور اسی لیے انہوں نے فلم ’ایک ہی راستہ‘ اور اس کے بعد چند ایسی فلمیں بنائیں جن میں سماج کے سلگتے مسائل، امیروں کے ذریعہ غریبوں کا استحصال اور سماج میں عورت کے مقام کو اجاگر کیا۔ ’جاگیردار‘، ’بہن‘، ’روٹی‘، ’تقدیر ‘اور ’عورت‘ ایسی ہی فلمیں تھیں۔ ممبئی فلم نگری میں سب سے پہلی رنگین فلم ’آن‘ محبوب خان نے ہی بنائی ۔

فلم امر[ترمیم]

فلم ’امر‘ میں دلیپ کمار، مدھو بالا اور نمی جیسے اداکار شامل ہوئے۔ نوشاد کی موسیقی میں بنی فلم کے نغمے بہت مقبول ہوئے لیکن فلم کو مقبولیت حاصل نہیں ہوئی کیونکہ فلم میں دلیپ کمار کا کردار منفی دکھایا گیا تھا۔ محبوب خان نے اس دور میں ایسی ہمت دکھائی جب ناظرین ہیرو کا منفی کردار پسند نہیں کرتے تھے۔

مدر انڈیا[ترمیم]

مدر انڈیا کا پوسٹر

محبوب خان کی ’مدر انڈیا‘ کو شاہکار فلم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ فلم کئی معنوں میں بھارتی فلمی صنعت کی یادگار فلم ثابت ہوئی۔ مدر انڈیا وہ پہلی فلم تھی جو غیر ملکی زبان کی فلموں کی حیثیت سے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی۔ فلم کے ذریعہ پہلی مرتبہ سنیل دت کو متعارف کرایا گیا تھا۔

فلم میں بھارت کے دیہات کی صحیح تصویر پیش کی گئی ہے۔ محبوب خان چونکہ دیہات میں رہ چکے تھے اس لیے انہیں وہاں کے تہوار، رہن سہن بول چال ہر بات سے واقفیت تھی اور یہی وجہ ہے کہ فلم نے ایک شاہکار کا روپ لے لیا۔

مدر انڈیا کے بعد محبوب خان نے ’سن آف انڈیا‘ بنائی جو زیادہ متاثر کن ثابت نہیں ہوسکی۔ اس فلم کے دو سال بعد اس صدی کے عظیم فلمساز محبوب خان اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

صد سالہ تقاریب[ترمیم]

2007ء میں صد سالہ یوم پیدائش پر حکومت ہندوستان نے ان کے نام سے ڈاک ٹکٹ منسوب کیا۔

  1. ذکر شدہ : مربوط مقتدرہ ملف — ربط : جی این ڈی- آئی ڈی — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ذکر شدہ : National Library of Australia — National Library of Australia: http://trove.nla.gov.au/people/1452567 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — https://doi.org/10.13039/501100001074
  3. ذکر شدہ : انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیسآئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm0006371 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015
  4. ذکر شدہ : ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145776758 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: open data platform — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. درآمد شدہ از: ڈیٹا کتابیات فرانس — حوالہ یو آر ایل: http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb145776758 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — ذیلی عنوان: open data platform — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ