محسن انسانیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محسن انسانیت سیرت النبی پر اپنے انداز میں لکھی گئی ایک منفرد کتاب ہے۔

مصنف[ترمیم]

اس کتاب کے مصنف اردو زبان و ادب کے مشہور اہل قلم نعیم صدیقی صاحب ہیں۔ یہ کتاب پہلی دفعہ 1960ء میں شائع ہوا۔ کتاب کے ابتدا میں سید ابو الاعلیٰ مودودی کا ایک دیپاچہ اور مولانا ماہر القادری کے تحریر کردہ تقریظ بھی ہے۔ نعیم صدیقی نے سیرت کے موضوع پر قلم اٹھایا اور ان کی اس کتاب ’ محسن انسانیت‘ کو غیر معمولی پزیرائی ملی۔ اس کتاب میں مصنف نے نئی اصطلاحات بھی ایجاد کیں ہیں۔ مثلاً ’معلمانہ انقلاب‘ اور ’ نظام فلاح انسانیت‘ کی اصطلاحات وغیرہ۔

عنوانات[ترمیم]

کتاب میں خاص طرز کے عنوانات تجویز کیے جو پہلے وجود نہ رکھتے تھے۔ کتاب کی تقسیم درج ذیل پر عنوانات کی گئی ہے

  • 1۔ مقدمہ، پیغام، نصب العین اور تاریخی مقام
  • 2۔ محسن انسانیتﷺ، مکی دور۔۔۔ ( مدو جزر)
  • 3۔ محسن انسانیتﷺ مدنی دور ۔۔۔ ( تاریخ موڑ مڑتی ہے)
  • 4۔ تلواروں کی چھاؤں میں
  • 5۔ اور اجالا پھیلتا ہی گیا۔

نمایاں خصوصیات[ترمیم]

  • کتاب میں مستشرقین و معترضین کے نبی کریمﷺ کی ذات پر کیے گئے اعتراضات کا بھی دندان شکن جواب دیا گیا ہے اور مدلل انداز میں باطل نظریات کی تردید کی گئی ہے۔
  • کتاب اس خوبصورت انداز میں لکھی گئی کا قاری اپنے آپ کو دور رسالت میں محسوس کرتا ہے
  • بہت سے من گھڑت اعتراضات کا مدلل جواب اس میں دیا گیا
  • اس کتاب کے آغاز میں ایک کشمیری نوجوان کا ذکر بھی ہے جب وہ مسیحی بننے کا مصمم ارادہ کر چکا تو اس کتاب کے پڑھتے ہی اس ارادے سے مکمل طور پر تائب ہوا [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محسن انسانیت، نعیم صدیقی،الفیصل ناشران وتاجران کتب اردو بازار، لاہور