محسن انسانیت کی مزدور پالیسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حدیث دل      

اسلام دین رحمت اور دین فطرت ہے۔ یہ ہمیشہ کے لیے ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔ اب نا کوئی دین انے والاہے اور نا کوئی نبی۔ آقائے نامدار آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں اور انہیں کی رسالت   پر نبوت کا خاتمہ بالخیر ہو     چکا  ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور اسلامی تعلیمات بنی  نوع انسان کے لیے حرف آخر ہیں۔ یہ اسلام کا ایک معجزہ    ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے اس دین حنیف مین  زندگی کے وہ نقوش کر دیے ہیں جو تمام مساعل و معاملات پر حاوی ہین اور  جو قیامت تک  ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔ بالکل اسی  طرح اسلام سے قبل مزدور، مزدوری اور محنت و اجرت کے مسائل و معاملات کا مستقبل نظام  نا تہا، اسلام نے ان کی حوصلہ افزائی کی  اور ان کے ساتھ عزت و تکریم کا معاملہ کیا۔ دراصل یہ بھی اسلام کی اوّلیات مین شامل ہے۔

      رسول انسانیت ﷺ پر لاکھوں درود اور سلا م ہوں، جن کے نور کا سورج  کبھی غروب نہ ہو گا، جن کے بے  مثال کردار نے تمام انسانیت  کو ہدایت اور سچائی کی لا زوال روشنی عطا  فرمائی۔اس وقت جب انسانیت ظلمت کے اندہیوروں مے بھٹک رہعی تہی تب اللہ رب العزت نے آپﷺ کو اس دنیا کے لیےرحمت  اور نجات کا باعث بنا کر بہیجا۔روئے زمین  پر  امن  و  انسانیت کے لحاظ سے سب سے شاندار اور مثالی دور عہد نبوی(ﷺ)ہے۔ اس کی مثال سارا زماانا فراہم نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ایک روشن  ستارہ بنایا تہا تا کہ آپﷺ اپنے نور سے اس دنیا مین چہائی ظلمت،نافرمانی اور بربریت تی تاریکی کا خاتمہ کر سکین۔آپﷺ ایک ایسی رحمت کی مانند ہیں جس کے زیر سایہ تمام نوع انسان پناہ لیے ہوئے بلکہ کائنات کا زرہ زرہ آپﷺ کی رحمت و شفقت کے زیر اثر ہے۔عدل و انصاف کا ایسا نظارہ چشمِ فلک نے پھر بھی نہیں دیکھا۔شہنشاہِ کو نین نبی کریمﷺ کی سیرت اور  تعلیمات نے عملی اور قانونی طور پر مزددوروں کے معاملات اور مسائل حل کر دئیےہیں اورتاریخ و سیر میں موجود ہیں۔یہی وجہ ہے  کہ عہد نبوی(ﷺ)خلافت  راشدہ میں آجر اور مستاجر کے لیے کبھی کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا،اور اگر آج بھی ہو جو براہیم سا  ایمان پیدا، آگ کر سکتی ہے اندازگلستان پیدا۔

ہماری  علمی  و تصنیفی تاریخ میں میں مختلف  موضوعات پر ہزاروں لاکھوں کتابیں لکھی  گئیں اور تاریخ و سیر، تزکرہ سوانح،علوم وفانون بلکہ زندگی  کا شاید ہی کوئی ایسا گوشہ  ہو جس پر  تصنیفات کا انبا رنہ ہو، مگر افسوس کہ  اس  مضوع پر مستقل طور پر کوئی کتاب نہیں لکہی گئی حالانکہ یہ موضوع نہ  سرف ہماری معاشی اور معاشرتی زندگی کابہت اہم پہلو ہے بلکہ  اصلاً یہ سیرت نبوی(ﷺ)کا ایک اہم حصہ ہے۔ پون صدی پھلے  حضرۃالاستاٖذ مولانا مجیب اللہ ندویُ نے ایک کتاب"اسلامی قانون محنت واْجرت" لکہی تھی جو پاک و ہند  سے شائع ہوئی۔یے کتاب اس وقت کے حالات کے پاس منظر میں لکھی گئی تھی اور استاد محترم کو بھی جیسا کہ انہوں نے دییباچہ میں لکھا ہے تشنگی  کا احساس بہر حال باقی تھا۔ شاید قدرت نے اس موضوع کا کماحقہ حق ادا کر نے کے لیے تفسیر عباس کا انتخاب کر رکھا تھا۔

ہمارے فاضل دوست،مایہ نازمصنف اور سیرت نگار تفسیر عباس نے سیرت نبوی(ﷺ)کے مختلف گوشوں اورپہلوئون پر کئی بلندپایا کتابیں سپرد قلم کی کتابیںسپرد قلم کی ہیں اور ان  کے قلم سے سرمایئے سیرت میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ درس گاہ صفہْ کا نظام تعلیم و تربیت،  رسول کریم ﷺ کا صبرواستقامت اور دوستی کا نبوی سلیقہ اردو زبان میں ایسی تسنیفات ہیں جن پر خفا کیا جا سکتا ہے۔ان کا مطالعہ وسیع و عمیق ہے فکرو نظیر میں وسعت ہے،دیینی حمیت و غیرت سے  ان کا دل معمور ہے اور واقعہ یہ  ہے کہ وہ عشق رسولﷺ سے سرشار ہیں۔میں اپنے فاضل دوست کو اس تازہ عملی کاوش کے لیے  دلی مبارک بیش کرتا ہوں کہ انہوں نے  وہ  حق  ادا کیا جو برسوں سے امت پر قرض تھا۔

 زیر نظیر کتاب"محسن انسانیتﷺ کی مزدوری پالیسی"نو(9)ابواب  پرمشتمل ہے۔اس میں محنت کشی کا مفہوم،دائرہ  کاراور اسلامی فلسفہ کی تعلیمات قرآن و حدیث کی روشنی میں محنت  کشی  کا مفہوم، دائرہ کار اور اسلامی فلسفہ کی تفصیلات قرآن و حدیث کی روشنی میں پیش کی گئی ہیں۔ اسوہ حسنہ کی روشنی میں اس  کی اہمیت، فضائل،تربیتی اثرات اور نمایاں پہلو بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں آپﷺ کے اسوہَ کو خاص طور پرپیش نظر رکھا گیا ہے۔ایک باب میں عہد نبویﷺمیں محنت کثون کے عمومی پیشوں  کا زکر بھی بڑےسلیقہ اور متانت سے کیا گیا  ہے۔ظاہر ہے یہ صحابہ کرام کا زکر  خیر ہے جو ستاروں کے مانند ہیں  اقع جن کی اتباع صلاح و فلاح کی ضامن ہے۔محنت کش  و مزدور کے حقوق و فرائض  اور عہد رسالت مآبﷺ  میں بہبود مزدور کے لیے جو عملی  اقدامت ہو ئے فاضل مصنف نے  اس کی بھی تفصیل پیش کی ہے۔ اس میں مکی اورمدنی دونوں اداور کا زکر  ہے ۔ بازار اور تجارت کے مسنون آداب اور رزق میں برکت کے اسباب و موانع کا بھی زکر ہے۔ غرض محنت ا مزدوری کے سلسلے کا شاید ہی کوئی ایسا قابل زکر پہلو ہو جسے مصنف نے نہ پیش کیا ہو۔اور خوشی کی بات یہ ہے کہ تمام تفصیلات انہوں نے قرآن و حدیث اور مستند مآخذ  سے پیش کی ہیں۔کتاب کے آخر میں حکومت اسلامی،مزدور قائدین اور ٹریڈ یونیز کے لیے سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔

تفسیر عباس کا اندایز تحریروتصنیف بھی سلیس،شستہ اور شگفتہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر اوَلیت وانفردیت کا درجہ حاصل کر گئی ہےاور واقعی اس کتاب سے مزدوروں کے سلسلہ میں اسلام کی جو پالیسی رہی ہے وہ ارتقائی شکل میں سامنے آجاتی ہے  اور محنت کشوں کے ساماجی تحفظ کے زریں اصول وحدایت  واضح ہو جاتی ہیں۔فاضل مصنف  کے محنت کشوں کے سماجی تحفظ کے زریں اصول و حدایات و اضح ہو جاتی ہیں۔فاضل مصنف کے نتائج فکر پر اگر عملی اقدامات ہوں تو ہماری اور معشرتی زندگی میں مساوات اور عدل و انصاف کا ایک انقلابرپاہوسکتا ہے۔مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب کمیانزم کے حوالہ سے اسلام پر جو الزامات عائد کیے جا تے ہیں ان کا بھی سد باب کر دے گی۔ اللہ تعلیٰ ہمارے فاضل دوست کی  اس  کا وش کو شرف قبولیت بخشے اور اسے تو شہ آخرت  بنائے۔آمین یارب العالمین!

                                                                   سیدمحمد عبد اللہ شاہ ہمدانی