محفوظ ہم بستری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یونانی فلم کے لیے، محفوظ ہم بستری (فلم) ملاحظہ فرمائیں۔
کنڈوموں کو محفوظ ہم بستری کے دوران مرد حضرات کے ذَکَر کو ڈھانکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دانتیلے باندھوں کو نسوانی فرج یا دبر کو محفوظ ہم بستری کے دورانفرج لبی یا دبر لبی کے لیے ڈھانکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
نسوانی کنڈوموں کو اوپر، نیچے اور وصول کنندہ شراکت داروں کی جانب سے محفوظ ہم بستری کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔

محفوظ ہم بستری ایک جنسی کارروائی ہے جس کے شرکا ایک دوسرے کو جنسی امراض جیسے کہ ایڈز/ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔[1] اسے محفوظ تر ہم بستری اور باحفاظت ہم بستری بھی کہا جاتا ہے، جب کہ غیر محفوظ یا بے حفاظت وہ جنسی کارروائی ہوتی ہے جس میں کوئی حفاظتی پہلو نہ ہو، خصوصًا کنڈوم کا استعمال۔

کچھ ذرائع میں محفوظ تر ہم بستری کی اصطلاح واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرنے کے لیے مستعمل ہوتی ہے کہ یہ کوششیں اگر چیکہ مرض کے پھیلاؤ کو کم کرتی ہیں مگر یہ مکمل طور پر اس خطرے کو دور نہیں کرتی ہیں۔ جنسی طور منتقل معتدی امراض (ایس ٹی ڈی) کو جنسی طور منتقل امراض (ایس ٹی ڈی) پر طبی ذرائع میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ وہ معانی اور مطالب کی وسعت ہے؛ ایک شخص متاثر ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر دوسروں کو متاثر کر سکتا ہے، جب کہ وہ خود مرض کی کوئی علامت کا مظاہرہ نہیں کرتا۔[2]

محفوظ ہم بستری کا طرز عمل 1980ء کے اواخر میں زیادہ اہمیت حاصل کر گیا تھا، جس کی وجہ ایڈز کی وبا تھی۔ محفوظ تر ہم بستری کا فروغ جنسی تعلیم کے مقاصد میں سے ایک ہے۔ محفوظ تر ہم بستری کو تخفیف ضرر حکمت عملی کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کا مقصد خطرات میں کمی لاتا ہے۔[3][4] یہ خطرے کی کمی قطعی نہیں ہے؛ مثلًا کنڈوم پہن کر کام انجام دینے والے شراکت دار کا ایچ آئی وی-سیرو پازیٹیو حاصل کرنے کا خطرہ چار سے پانچ گنا کم ہو جاتا ہے۔[5]

حالاں کہ کچھ محفوظ ہم بستری کی کوششوں کو ضبط حمل کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ضبط تولید کی زیادہ تر شکلیں معتدی جنسی امراض سے تحفظ فراہم نہیں کرتی ہیں۔ علٰی ہذا القیاس کچھ محفوظ ہم بستری کی شکلیں، جیسے کہ شراکت دار کا انتخاب اور کم خطرے کا جنسی برتاؤ حمل کے روکنے میں مؤثر نہیں ہے مگر اسے کسی بھی آزادانہ جنسی ملاپ سے پہلے سوچا جاتا ہے تاکہ ایڈز کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Compact Oxford English Dictionary, Oxford University Press, 2009, ماخوذ 23 ستمبر 2009
  2. "Sexually transmitted diseases (STDs)?"۔ PLWHA/National AIDS Resource Center۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مارچ 2013۔ "Sometimes the terms STI and STD are used interchangeably. This can be confusing and not always accurate, so it helps first to understand the difference between infection and disease. Infection simply means that a germvirus, bacteria, or parasite—that can cause disease or sickness is present inside a person's body. An infected person does not necessarily have any symptoms or signs that the virus or bacteria is actually hurting his or her body; they do not necessarily feel sick. A disease means that the infection is actually causing the infected person to feel sick, or to notice something is wrong. For this reason, the term STI—which refers to infection with any germ that can cause an STD, even if the infected person has no symptoms—is a much broader term than STD." 
  3. "Global strategy for the prevention and control of sexually transmitted infections: 2006–2015. Breaking the chain of transmission"۔ عالمی ادارہ صحت۔ 2007۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 نومبر 2011۔ 
  4. Chin، H. B.; Sipe، T. A.; Elder، R.; Mercer، S. L.; Chattopadhyay، S. K.; Jacob، V.; Wethington، H. R.; Kirby، D. et al۔ (2012). "The Effectiveness of Group-Based Comprehensive Risk-Reduction and Abstinence Education Interventions to Prevent or Reduce the Risk of Adolescent Pregnancy, Human Immunodeficiency Virus, and Sexually Transmitted Infections". American Journal of Preventive Medicine 42 (3): 272–294. doi:10.1016/j.amepre.2011.11.006. PMID 22341164. http://www.ajpmonline.org/article/S0749-3797(11)00906-8/abstract. 
  5. Vittinghoff، E; Douglas، J; Judson، F; McKirnan، D; MacQueen، K; Buchbinder، SP (1999). "Per-contact risk of human immunodeficiency virus transmission between male sexual partners". Am J Epidemiol 150 (3): 306–11. doi:10.1093/oxfordjournals.aje.a010003. PMID 10430236. http://aje.oxfordjournals.org/cgi/reprint/150/3/306.