محمدی بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمدی بیگم
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1879  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 2 نومبر 1908 (28–29 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شملہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر مولوی سید ممتاز علی  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد امتیاز علی تاج  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنفہ، مدیر، حامی حقوق نسواں  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں تہذیب نسواں (اخبار)  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سیدہ محمدی بیگم (پیدائش: 1879ء - وفات: 2 نومبر، 1908ء) اردو زبان کی مصنفہ، خواتین کے اخبار تہذیب نسواں کی مدیرہ تھیں۔ وہ نامور مصنف، مترجم و ناشر مولوی سید ممتاز علی کی بیوی اور انار کلی کے مصنف امتیاز علی تاج کی والدہ تھیں۔ انہوں نے ہندوستان میں حقوقِ نسواں کے لیے انتھک جدوجہد کی۔

حالات زندگی[ترمیم]

محمدی بیگم 1879ء میں پیدا ہوئیں۔ وہ دہلی کی رہنے والی اور سید احمد شفیع اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کی صاحبزادی تھیں۔ والدین روشن خیال تھے، انتہائی قدامت پسند دور میں بھی ذہین بیٹی کو زیورِ تعلیم و تہذیب سے آراستہ کیا۔محمدی بیگم نے ابتدا ہی سے نیک طبیعت، عمدہ عادات، اعلیٰ دماغ اور قوی حافظہ پایا تھا۔ نہایت کم عمری میں لکھنے پڑھنے، سینے پرونے اور کھانے پکانے میں مہارت حاصل کر لی تھی۔ حصولِ علم کا شوق بچپن سے تھا جو وہ آخری عمر تک باقی رہا۔ ان کی شادی 19 برس کی عمر میں مولوی سید ممتاز علی سے ہوئی۔ ممتاز علی خوش قسمت تھے جنہیں محمدی بیگم کی صورت میں ایک مہذب، شائستہ اور روشن خیال بیوی ملی، جس نے ان کی پہلی مرحومہ بیوی سے ہونے والے بچوں کو ماں کا حقیقی پیار، شفقت اور توجہ دی۔ گھر کا سارا انتظام اور ذمہ داری سنبھالی اور جب مولوی ممتاز علی نے عورتوں میں بیداری کی تحریک چلانے کا ارادہ کیا تو اس مشن میں بھی اپنے شوہر سے کسی طرح پیچھے نہ رہیں۔ مولوی ممتاز علی نے اپنی بیوی کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئےعورتوں کے لیے اخبار جاری کرنے کافیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے محمدی بیگم کی ضرروی تعلیم کا بند و بست کیا۔ ان کے لیے کئی ٹیوٹر کھے گئے۔ ایک میم ان کو انگریزی سکھاتی تھی۔ ایک ہندو لیڈی انہیں ہندی پڑھاتی تھی۔ ایک لڑکا انہیں حساب سکھاتا تھا اور خود ممتاز علی انہیں ایک روز عربی اور ایک روز فارسی پڑھاتے تھے۔ یوں وہ عورتوں کے اخبار کی ادارت کے قابل ہوگئیں۔[1] 1898ء میں مولوی ممتاز علی نے محمدی بیگم کی ادارت میں تہذیب نسواں کے نام سے ایک اخبار جاری کیا۔

تہذیب نسواں کے علاوہ محمدی بیگم نے صرف ماؤں کے لیے ایک ماہوار رسالہ مشیرِ مادر کے نام سے 1904ء میں نکالا، جس میں ماؤں کے لیے نہایت مفید ہدایات اور مضامین چھپتے تھے۔ یہ رسالہ زیادہ عرصہ تک جاری نہ رہ سکا۔ اس لیے کہ محمدی بیگم کو تہذیب نسواں کی وجہ سے مہلت ہی نہیں ملتی تھی، تاہم بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کے سلسلے میں وہ جو مشورے اور ہدایات مشیر مادر میں دیتی تھی، اس کا سلسلہ انہوں نے تہذیب نسواں میں شروع کر دیا۔[2]

محمدی بیگم نے اپنی زندگی عورتوں کی خدمت و اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہوں نے 1907ء میں انجمن خاتونانِ ہمدرد کی بنیاد رکھی، تاکہ عورتوں کو آمادہ عمل کیا جا سکے۔ اس انجمن کے تحت ایک دار النسواں بھی تھا جس میں غریب اور نادار خواتین کی ہر ممکن امداد کی جاتی تھی اور انہیں مختلف دستکاریاں سکھا کر روزی کمانے کے قابل بنایا جاتا تھا۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے انجمن تہذیب نسواں قائم کی جس کی وہ صدر مقرر ہوئیں۔ ان ہی کی کوششوں کے نتیجے میں ہندوستان میں لیڈیز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کی ممتاز خواتین نے شرکت کی۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • خانہ داری
  • آدابِ ملاقات
  • نعمت خانہ
  • رفیقِ عروس
  • خوابِ راحت
  • حیاتِ اشرف
  • سگھڑ بیٹی
  • شریف بیٹی
  • چندن ہار
  • آج کل
  • صفیہ بیگم
  • سچے موتی
  • انمول موتی
  • آرسی
  • امتیاز پچیسی
  • تاج پھول

وفات[ترمیم]

شبانہ روز انتھک محنت کی وجہ سے ان کی صحت گرتی چلی گئی اور علاج معالجے کے باوجود صرف 30 سال کی عمر میں 2 نومبر 1908ء کو ان کا شملہ میں انتقال ہو گیا۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مولوی محبوب عالم، اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 1992ء، ص 162
  2. ^ ا ب پ اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ، ص 164