محمد احمد مصباحی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد احمد مصباحی (ولادت 1371ھ مطابق 1952ء) ایک بھارتی سنی عالم دین ہیں۔ احمد مصباحی اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بھیرا میں پیدا ہوئے۔ اب یہ گاؤں اتر پردیش کے ضلع مئو میں ہے۔ آپ کے والد کا نام محمد صابر اشرفی ہے۔ آپ اس وقت اہل سنت کے مرکزی ادارے جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ کے ناظم تعلیمات ہیں۔ آپ نے خدمت خلق کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں اور دے رہے ہیں۔ [تعلیم] آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنی والدہ اور مدرسہ اسلامیہ رحیمیہ جو آپ کے گاؤں میں واقع ہے، سے حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لیے مدرسیہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیر آباد کا سفر کیا۔ وہاں پانچ سال گزارنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا سفر کیا۔ آپ نے جامعہ اشرفیہ سے 1389ھ مطابق 1969 ء میں فراغت حاصل کی۔

تصنیفات[ترمیم]

علامہ محمد احمد مصباحی کی کتابیں

  • 1، حدوث الفتن و جہاد اعیان السنن، عربی
  • 2، تدوین قرآن
  • 3، امام احمد رضا اور تصوف
  • 4، معین العروض
  • 5، تنقید معجزات کا علمی محاسبہ
  • 6، رشتہ ازدواج اسلام کی نظر میں
  • 7، امام احمد رضا کی فقہی بصیرت جد الممتار کے آئینے میں
  • 8، فرائض و آداب متعلم معلم
  • 9، خلفائے راشدین اور اسلام کا نظام اخلاق۔
  • تصحیح، تقدیم، تحشیہ، ترجمہ۔
  • 1، معانقہ عید
  • 2، جمل النور فی نھی النساء عن زیارةالقبور
  • 3، جد الممتار اول
  • 4، جد الممتار ثانی
  • 5، فتاویٰ رضویہ جدید۔اول، سوم، چہارم، نہم کی عربی و فارسی عبارتوں کا ترجمہ
  • 6، براءت علی از شرک جاہلی
  • 7، مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید
  • 8، رسوم شادی
  • 9، تقدیر و تدبیر
  • 10، الکشف شافیا حکم فونوجرافیا عربی۔
  • 11، مدارک التنزیل پر عربی حاشیہ

تقدیم۔1، امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات از، علامہ یاسین اختر مصباحی اسلام اور امن عالم، بزم اولیاء، سنت کی آئینی حیثیت از، علامہ بدر القادری مضامین۔شیخ عزالدین بن عبد السلام، صاحب ہدایہ، تعارف جد الممتار، طالبان علوم نبویہ کی ذمہ داریاں، تعارف امام احمد رضا فاضل بریلوی، امام احمد رضا کے فتاوی کی ایک خصوصیت، مدارس اسلامیہ میں تعلیمی انحطاط-اسباب اور علاج، ثانوی مدارس کی تعلیم، اہل سنت کی تصنیفات، علامہ فضل حق خیرآبادی-ایک فلسفی یا زبردست اسلامی متکلم، تصوف اور اعداے تصوف، اس کے علاوہ مجلس برکات سے شائع ہونے والی ہر کتاب پر آپ نظر ثانی فرماتے ہیں۔