محمد ادریس کاندھلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد ادریس کاندھلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 20 اگست 1899  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بھوپال  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 جولا‎ئی 1974 (75 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور
دار العلوم دیوبند  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ خلیل احمد انبہٹوی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم، مصنف، معلم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں سیرت مصطفی، معارف القرآن، التعلیق الصبیح علی مشکوۃ المصابیح  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک دیو بندی  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شیخ التفسیر والحدیث مولانا محمد ادریس کاندھلوی معارف القرآن اور سیرت مصطفی کے مصنف ہیں۔ http://www.elmedeen.com/author-187-حضرت-مولانا-محمد-ادریس-کاندھلوی-صاحب

ولادت[ترمیم]

آپ 12 ربیع الثانی 1317ھ بمطابق20 اگست 1899ء میں بھوپال میں پیدا ہوئے۔ آپ کاآبائی وطن کاندھلہ تھا۔ آپ کے والد کا نام مولانا حافظ محمد اسماعیل کاندھلوی تھا ،جو صاحب نسبت بزرگ تھے اور حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے مرید تھے اور محکمہ جنگلات میں افسر کا کام کرتے تھے۔ (علم تفسیر اور اس کا ارتقا،ص:290) آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

آپ نے کاندھلہ میںقرآن مجید حفظ کیا۔ پر دینی تعلیم کے لیے مدرسہ اشرفیہ تھانہ بھون میں داخل ہوئے اور درس نظامی کی ابتدائی کتابیں حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانوی ؒسے پڑھیں۔ پھر مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور میں تفسیر میں تفسیر و حدیث، فقہ کلام، منطق و فلسفہ اور دیگر علوم دینیہ کی تکمیل کی۔ 19 برس کی عمر میں تمام علوم و فنون کی تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ لیکن پھر دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے اور دوبارہ دورہ حدیث سے کیا۔

مشہور اساتذہ[ترمیم]

علمائے دین خلیل احمد سہارنپوری، حافظ عبد اللطیف، مولانا ثابت علی، اشرف علی تھانوی، علامہ انور شاہ کشمیری علامہ شبیر احمد عثمانی، عزیز الرحمٰن عثمانی، میاں اصغر حسین دیوبندی، آپ کے اساتذہ ہیں۔

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد 1921ء میں مفتی کفایت اللہ دہلوی کے مدرسہ امینیہ دہلی میں ایک سال مدرس رہے۔ پھر دار العلوم دیوبند سے وابستہ ہوئے اور تقریباً 9 برس تک درس و تدریس دیتے رہے۔ پھر حیدرآباد، دکن میں تشریف لے گئے جہاں 9 برس تک قیام فرمایا۔ 1939ءمیں دوبارہدارالعلوم میں شیخ التفسیرکے طور ر تعینات ہوئے اور یہاں بیضاوی ،تفسیر ابن کثیر سنن ابی داود اور طحاوی کی مشکل الآثار ڑھائیں۔ آپ دو قومی نظریہ کے زبردست حامی تھے۔ پھر1949ء میں پاکستان تشریف لائے اور 2 برس جامعہ عباسیہ بہاولپور میں شیخ الجامعہ کی حیثیت سے قیام فرمایا۔ پھر لاہور میں جامعہ اشرفیہ میں شیخ الحدیث کے عہدہ پر فائز ہوئے اورتادم زندگی اسی سے وابستہ رہے۔

بیعت و اجازت[ترمیم]

آپ کو روحانی سلسہ اشرف علی تھانوی سے منسلک تھا۔

تصانیف[ترمیم]

آپ کے قلم سے سینکڑون تالیفات منصئہ شہود پر آئیں، جن میں تفسیر معارف القرآن، التعلیق الصبیح علی مشکوۃ المصابیح(عربی)، سیرت مصطفیٰﷺ، الفتح السماوی بتوضیح تفسیر البیضاوی، عقائد اسلام، علم الکلام، خلافت راشدہ، ختم نبوت ،حجیت حدیث ،تحفۃ القاری بحل مشکلات البخاری وغیرہ علمی شاہکار ہیں۔

اہم کارنامے[ترمیم]

  • آپ نے کراچی سے خیبر تک تبلیغی دورے کیے اور اعلائے کلمہ الحق بلند کیا۔ لاکھوں مسلمانوں کی اصلاح فرمائی۔
  • آخری دم تک پاکستان میں نطام اسلام کے نفاذ کے لیے کوشاں رہے۔
  • تحریک ختم نبوتﷺ میں بھر پور ھصہ لیا اور تحریر و تقریر کے ذریعہ قادیانیت کی تردید کرتے رہے۔

وفات[ترمیم]

8رجب المرجب 1394ھ بمطابق28 جولائی 1974ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے[1]آپ کی نماز جنازہ آپ کے بیٹے مولانا محمد مالک کاندھلوی نے پڑھائی

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر معارف القرآن، محمد ادریس کاندھلوی،جلد 1،صفحہ 3تا6، مکتبہ المعارف شہداد پور سندھ پاکستان