محمد اسحاق دہلوی
ظاہری ہیئت
| محمد اسحاق دہلوی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 4 نومبر 1783ء [1] دہلی [1] |
| وفات | 20 جولائی 1846ء (63 سال)[1] مکہ [1] |
| مدفن | جنت المعلیٰ |
| عملی زندگی | |
| استاذ | شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، شاہ عبد القادر الدہلوی |
| تلمیذ خاص | سید نذیر حسین دہلوی ، احمد علی سہارن پوری |
| پیشہ | محدث |
| درستی - ترمیم | |
شاہ محمد اسحاق (1200ھ-1262ھ) شاہ عبد العزیز دہلوی کے نواسے تھے۔ درس حدیث، اجازت و اسناد اور علوم دینیہ کی اشاعت میں شاہ عبد العزیز کے جانشیں ہوئے، شاہ عبد العزیز نے ان کو اپنا جانشین بنایا اور اپنی تمام کتابیں اور گھر وغیرہ ہبہ کر دیا، ان کے وفات کے بعد ان کی مسند درس پر بیٹھے اور 1239ھ سے لے کر 1258ھ تک دہلی میں مسند حدیث کو رونق بخشی پھر جب حجاز کی طرف ہجرت فرمائی تو اس مسند کی جانشینی شاہ عبد الغنی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کے حصہ میں آئی نیز اسی دہلی میں آپ کے دوسرے شاگرد میاں نذیر حسین نے بھی اپنی درس حدیث کا آغاز کیا۔
شاہ صاحب 1258 سے 1262ھ تک حجازشریف میں حدیث کی تدریس و خدمت میں سرتا پا غرق و منہمک رہے، حجاز مقدس میں بھی ہندوستان کے صدہا علما نے ان سے حدیث کا درس پڑہنے کی سعادت حاصل کی۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 https://ia801304.us.archive.org/22/items/ShahWaliullahsContrihutionToHadithLiteratureACriticalStudy/Shah%20Waliullah's%20Contrihution%20to%20Hadith%20Literature%20-%20A%20Critical%20Study.pdf
- ↑ ابو الحسن علی ندوی: تاریخ دعوت و عزیمت، حصہ پنجم، مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، صفحہ 379-380۔
| پیش نظر صفحہ شخصیت سے متعلق موضوع پر ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں مزید اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کرسکتے ہیں۔ |