محمد اسد خان ملتانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمداسد خان ملتانی المعروف اسد ملتانی کا شمار برصغیر پاک وہند کے معروف شعرا اردو و فارسی گو میں ہوتا ہے ۔

ولادت و تعلیم[ترمیم]

آپ 13 دسمبر 1902 ء کو ملتان کے علمی ادبی پٹھان شیرانی خاندان کے یہاں اپنے آبائی گھر طاقِ اسحاق میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد غلام قادر خان یوں تو ضلع ملتان کے دفتر میں ایک کلرک تھے مگر آپ کو علمِ نجوم میں ملکہ حاصل تھا۔علامہ اقبال کے گرویدہ تھے تاہم اقبال سے محبت جناب اسد ملتانی کو ورثے میں ملی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم چرچ مشن ہائی اسکول سے حاصل کی۔ جو بعد ازاں ایمرسن کالج کے نام سے مشہور ہوا۔1921 میں گورنمینٹ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کیا۔ اُن دنوں علامہ اقبال وہاں فلسفے کے پروفیسر کے طور پر تعینات تھے۔ اسی دور سے جناب ِ اسد کا علامہ اقبال سے فکری اور روحانی تعلق پیدا ہوا۔ اور انہیں اپنے فلسفہء شعر کے بارے میں کہنا پڑا
شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا
ہے اگر جُرم تو بیشک اسد اقبالی ہے
بقول خضر تمیمی علامہ اقبال جناب اسد ملتانی کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ "آیندہ پنجاب سے دو نوجوانوں سے مقصدی شاعری کی روایات باقی نظر آتی ہیں۔ ایک ایم ڈی تاثر دوسرے اسد ملتانی۔ علامہ اقبال کی وفات پر ایک طویل مرثیہ لکھا۔ جس کے پیش لفظ میں غلام احمد پرویز لکھتے ہیں "اقبال کا مرثیہ درحقیقت عالمِ اسلام کی بیکسی اور یتمی کا مرثیہ ہے۔ اور اسے وہی شخص لکھ سکتا تھا جس کی انگلیاں نبضِ ملٹّ پر اور نگاہیں رفتارِ زمانہ پر ہوں۔ جس کا دماغ حقایقِ قرانی سے منور اور قلب دردِ ملّی سے لبریز ہو۔ یہ توفیق حلقہء اقبال ہی کے کسی رندِ سرشار کا حصہ تھی اور ظاہر ہے جنابِ اسد سے بڑھ کر اس سعادت کا مستحق اور کون ہو سکتا تھا ۔" علامہ اقبال اور اسد ملتانی کے روحانی اور وجدانی تعلق کو اقبالیاتِ اسد ملتانی میں اس کے مولف پروفیسر جعفر بلوچ نے بہت عمیق مطالعے اور تحقیق کے بعد یکجا کیا ہے۔ جعفر بلوچ لکھتے ہیں ۔ "حضرت اسد ملتانی اپنے شاعرانہ مقام و مرتبے کے لیحاظ سے اُن چار پانچ شاعروں میں شمار ہونے کے مستحق ہیں جنہوں نے حضرت علامہ اقبال کے بعد علم و ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ قومی اور ملّی شاعری کے حوالے سے حضرت حفیظ جالندھری اور حضرت ماہرالقادری کے ہم مرتبہ اور ہم رُتبہ قرار دیے جا سکتے ہیں ۔" جناب ماہر القادری اپنی کتاب کاروانِ حجاز میں جناب اسد ملتانی کے بارے میں رقمطراز ہیں ۔"ہمارے لیے وجہ ء کشش ان کے اسلامی افکار اور انکی سادگیء کردار ہے۔ اسد ملتانی اقبال کے فیض یافتہ ہیں شاعر ہیں اور بلند پایہ شاعر ہیں ،ایک زمانے میں انکی شاعری کا یہ رنگ بھی تھا ۔ رہیں نہ رند ،یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہر ہے دوچار دس کی بات نہیں
مگر اب انکی شاعری سو فیصدی مقصدیت رکھتی ہے۔ اسد ملتانی کی شاعری حالی ،اکبر ،اقبال کے سلسلہ افکار کی ایک کڑی ہے۔ اسد ملتانی میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ واضح فکر اور سُلجھا ہوا دماغ رکھتے ہیں ،بات خوب جچی تُلی کہتے ہیں۔ مطالعہ بھی خاصا وسیع ہے "

جناب اسد ملتانی ،مولانا حسرت موہانی کے اعزاز میں منعقد ایک نشت میں کلام پڑھ رہے ہیں ۔اسد تصویر میں مولانا حسرت موہانی ۔اسد صاحب کے عقب میں جگر مراد آبادی،مجید لاہوری نمایاں ہیں

خدمات[ترمیم]

1922 میں ملتان سے روزنامہ شمس کا اجرا کیا۔ اور ایک پرنٹنگ پریس بھی ذاتی طور پر خریدی گئی۔ جو مطبع الشمس کے نام سے مشہور ہوئی۔ پنجاب یونیورسٹی سے 1924 میں بی اے کیا اور ملتان میں اسلامیہ ہائی اسکول میں بطور انگلش ٹیچر مامور ہوئے۔ 1926 میں انڈین پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد دہلی میں وائسرائے ہند کے پولیٹیکل دفتر میں بطور سپریڈیڈینٹ مقرر ہوئے۔ قیام ِ پاکستان تک دہلی ہی میں مقیم رہے بعد ازاں کراچی چلے آئے اور بحثیت سینیئر فارن افسر آپکی خدمات حکومتِ پاکستان نے وزراتِ خارجہ امور میں بطور اسٹینٹ سیکرٹری حاصل کر لیں ،بعد ازاں وزارت ریاست میں ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر فایض رہے ۔1955 میں وہ ریٹائر ہونا چاہتے تھے اور واپس اپنے وطن ملتان آکر علمی ادبی امور سمبھالنا چاہتے تھے مگر اسلام آباد کے دار الخلافہ بننے پر آپکی مدت ملازمت میں توسیع ہو گئی۔ جناب اسد ملتانی نے دہلی میں 1926میں ملتانی ادیب دوستوں کی مجلس قائم کی 1934 بزمِ اردو شملہ کا آغاز کیا جس کے تحت ہندوستان کے طول و عرض میں بہت بڑے مشہور مشاعرے منعقد کیے گئے۔ اس بزم کے صدر ملک غلام محمد تھے جو پاکستان کے گورنر جنرل کے عہدے پر فایض رہے،تنویر علی سیکرٹری تھے اور چار برس تک جناب اسد ملتانی اسے معتمد عمومی رہے۔ قیام ِ پاکستان کے بعد گورنر جنرل غلام محمد کے مشورے پر کراچی میں اقبال اکیڈیمی قائم کی۔ اسد ملتانی نائب صدر اور ممتاز حسن صدر تھے۔ اور میٹروپول ہوٹل کراچی میں پہلا یومِ اقبال منایا گیا۔ قومی و ملیّ شاعری کیساتھ ساتھ آپ نے مختلف اہم موضوعات پر مقالے پر تحریر کیے۔ جن میں رعدیہ
زبان کا اثر مذہب پر
اردو الفاظ کا صیح تلفظ اور املا
قائد اعظم کا اصل وطن
غالب کا غیر مطبوعہ شعر
جگر کا شعر
خواجہ فرید
بہت نمایاں ہیں جو برعظیم کے جرایئد میں اشاعت پزیر ہوچکے ہیں

وفات[ترمیم]

اسلام آباد آمد کے سترہ دن بعد 17 نومبر 1959 ء کو حرکت ِ قلب بند ہونے کے سبب خالق ِ حقیقی سے جا ملے۔ انہیں ملتان میں ان کے آبائی قبرستان حسن پروانہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کے قریبی دوست مولانا احتشام الحق تھانوی کراچی سے خصوصی طور پر نمازِ جنازہ پڑھانے ملتان تشریف لائے۔ جناب اسد ملتانی کی آخری نظم بھی پاکستان ہی کے لیے تھی۔ جو سات اکتوبر کے عنوان سے ماہِ نو میں شایع ہوئی ۔

جناب اسد ملتانی کی آخری نظم

اولاد و گھرانہ[ترمیم]

جناب ِ اسد ملتانی کی اولادِ نرینہ کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔ وفات کے وقت تین بیٹیاں اور دو بیٹے حیات تھے۔ اب سب کی وفات ہوچکی ہے۔ ان کی اہلیہ حفصہ خانم غلیزئی 23 دسمبر 1989 ء کو عہدِ پیری میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ ان کی منجھلی صاحبزادی محترمہ فرزانہ شیرانی اردو اور سرایئکی کی شاعرہ اور افسانہ نگار تھیں۔ محض اڑتالیس برس کی عمر میں 24 رمضان المبارک 1995 کو کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہو کر وفات پا گیئں۔بہاولپور میں مدفن ہے۔ ان کی بڑی صاحبزادی محترمہ شائستہ خانم شیرانی بہت اعلیٰ علمی ادبی ذوق رکھتیں تھیں۔ جن کے شوہر ملک کے معروف و ممتاز ناول نگار مظہر کلیم ایم اے نے جاسوسی ادب میں ابنِ صفی کے بعد کا رہائے نمایاں سر انجام دیے ہیں۔ محترمہ شایستہ خانم شیرانی کی کم و بیش ساٹھ برس کی عمر میں دل کے عارضے سے وفات ہوئی۔ ملتان میں مدفن ہے۔ جناب اسد ملتانی کے نواسے گل زیب خاکوانی بھی اردو اور سرایئکی زبان کے شاعر اور ڈراما نگار ہیں

جنابِ اسد ملتانی کا کلام ان کی حیات میں یکجا نہ ہو پایا البتہ دو کتابچے ضرور شائع ہوئے۔ ایک مرثیہ اقبال جو علامہ اقبال کی وفات پر شائع ہوا دوسرا تحفہء حرم جو 1954 میں سفرِ حج پر لکھی جانے والی اردو اور سرائیکی نعتوں اور حمدیہ کلام پر مشتمل ہے۔ جبکہ ان کا کلام ان کی حیات میں روزنامہ زمیندار لاہور۔ معارف اعظم گڑھ۔ طلوعِ اسلام ۔فاران۔ ماہِ نو اور نمکدان میں اشاعت پزیر رہا ۔[1][2][3][4][5][6]

=

آسان نسخے

کلامِ اسد ملتانی[ترمیم]

جنابِ اسد ملتانی کی ایک مشہور نظم آسان نسخے جس کے اشعار کچھ یوں ہیں آسان نسخے

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے
۔۔۔۔۔ اگر تجھہ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر انڈے کی زردی
۔۔۔۔۔ اگرمعدے میں ہو تیرے گرانی
تو جھٹ پی سونف یا ادرک کا پانی
۔۔۔۔۔ اگر خوں کم بنے بلغم زیادہ
تو کھا گاجر، چنے ،شلغم زیادہ
۔۔۔۔۔ جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ
تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ
۔۔۔۔۔ جو ہو پیچش تو پیچ اس طرح کس لے
ملا کر دودھ میں لیموں کا رس لے
۔۔۔۔۔ جگرکے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعفِ جگر ہو کھا پپیتا
۔۔۔۔۔ جگر میں ہو اگر گرمی، دہی کھا
اگر آنتو ں میں خشکی ہے تو گھی کھا
۔۔۔۔۔ تھکن سے ہوں اگرعضلات ڈھیلے
تو فورا دودھ گرما گرم پی لے
۔۔۔۔۔ جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تومصری کی ڈلی ملتان کی چوس
۔۔۔۔۔ زیادہ گر دماغی ہے تیرا کام
تو کھا تو شہد کے ہمراہ بادام
۔۔۔۔۔ اگر ہو دل کی کمزوری کا احساس
تومربہ آملہ کھا اور انناس
۔۔۔۔۔ جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی کے غرارے
۔۔۔۔۔ اگر ہے درد سے دانتوں کے بے کل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مل
۔۔۔۔۔ اگر گرمی کی شدت ہو زیادہ
تو شربت ہی بجائے آبِ سادہ
۔۔۔۔۔ جو ہے افکارِ دنیا سے پریشاں
نمکدان پڑھہ نمکداں پڑھہ نمکداں}}

ماہنامہ ’’ نمکدان‘‘ کراچی، فروری مارچ 1955 میں پہلی بار شایع ہوئی۔ مگر سوژل میڈیا پر یہ بات پہلی مرتبہ سامنے آئی کی مختلف لوگوں نے اسے اپنوں ناموں سے یا نا معلوم شاعر کا کہ کر شایع کرتے رہے۔ کلیات ِ اسد ملتانی میں یہ نظم شایع ہوئی اور اس کی تفصیل بھی۔ چونکہ لوگوں نے کلیات اسد ملتانی نہیں پڑھا اس لیے اس کی درستی نہیں کر سکے۔ مگر حال ہی میں معروف صحافی جناب اسلم ملک نے پہلی بار پختہ ثبوت کیساتھ سوشل میڈیا پر اپنی ایک تحریر کے ذریعے لوگوں کو باور کرایا کہ اس مشہور نظم کے خالق کوئی اور نہیں جناب اسد ملتانی ہیں ۔ اسی طرح اسد ملتانی کی سرایئکی نظم۔ اسحور دا ویلہ۔ جو تحفہء حرم میں شامل ہے زیادہ تر لوگوں کو معلوم نہیں کہ یہ سرایئکی نظم جسے سالہا سال ملتان کے مولود پڑھنے والے اور رمضان المبارک میں سحری کے اوقات میں جگانے والے یہ نظم گا کر پڑھتے تھے یہ نظم اسد ملتانی کی ہے جس کا مطلع اور مقطع کچھ یوں ہے جس کا اعنوان تھا۔ اے ویلحا ہنڑ اسحور دا اے اے ویلھا ہنڑ اسحور دا ہے
گھر گھر جلوہ کوہِ طور دا ہے
اُٹھی جلتی اسد خاں دیر نہ کر
تھوڑا وقت تے پینڈا دور دا ہے

متفرقات[ترمیم]

بھید کھُل جاتا ہے بیچارگی ء دولت کا
جب کسی قصر سے ماتم کی صدا آتی ہے
فرحت آبادِ محبت ہے اسد گھر میرا
رات دن گلشنِ جنت کی ہوا آتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپوا
جھومر کے تماشے میں جو بن بن کے اداکار
بیگم کوئی جھومی کوئی تھرکی کوئی ناچی
گردوں نے پکارا کہ اگر ہیں یہی اطوار
غیرت کو سمندر میں ڈبو دے گا کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رنگ آہی نہیں سکتا ،پاکیزہ جمالی کا
بیباک نگاہوں کے روندے ہوئے چہروں پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر شخص بنا لیتا ہے اخلاق کا معیار
خود اپنے لیے اور زمانے کے لیے اور
ہاتھی کی طرح دانت ہیں اربابِ ہوسّ کے
کھانے کے لیے اور دکھانے کے لیے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیال کو بھی اسیرِ نگاہ کرتا ہے
مری نظرمیں مصورّ گناہ کرتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کے لطف سے قائم ہے زندگی ورنہ
کوئی قدم بھی ہمارا عدم سے دور نہیں
پتے کی بات کہی خضر نے کہ منزلِ دوست
نظر سے دور ہے لیکن قدم سے دور نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر میں حضرتِ اقبال کا پیرو ہونا
ہے اگر جُرم تو بیشک اسد اقبالی ہے

غزلیں[ترمیم]

رہیں نہ رند، یہ واعظ کے بس کی بات نہیں
تمام شہ رہے دوچار دس کی بات نہیں
ہیں کچھ طیور فضائے چمن کے زندانی
فقط اسیری ء دام و قفس کی بات نہیں
نگاہِ دوست سے ہوتی ہے دل کی نشو و نما
یہاں مقابلہ ء خار و خس کی بات نہیں
پسندِ خاطرِ اہلِ صفا ہے میری غزل
کہ اس میں کوئی ہوا و ہوسّ کی بات نہیں
نگاہ بھی نہیں اُٹھتی بلندیوں کی طرف
طلب کا ذکر نہیں ،دسترس کی بات نہیں
اسد یہ کام ہے صد گونہ سینہ کاوی کا
حیات صرف شمارو نفس کی بات نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسرارِ کاینات کا محرم بنا دیا
ساقی نے جام دے کے مجھے جم بنا دیا
میں اس کی جستجو میں ہوں جس کے خیال نے
دل کو مرے محیطِ دوعالم بنا دیا
افسانہء حیات سُنایا جو شمع نے
بزمِ طرب کو حلقہء ماتم بنا دیا
اگلے جہاں میں شیخ تجھے مل چکا بہشت
جب اس جہاں کو تونے جہنم بنا دیا
تنگ آگیا ہوں میں دلِ حساس سے اسد
اس نے تو مجھ کو دردِ مجسم بنا دیا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. چند ناقابلِ فراموش شخصیات۔ مولف منشی عبد الرحمان خان ملتان
  2. تذکرہء شعرا فزندگانِ علامہ سیماب اکبر آبادی
  3. اقبالیاتِ اسد ملتانی مولف پروفیسر جعفر بلوچ۔ اقبال اکادیمی لاہور
  4. اسد ملتانی فکرو فن۔ پروفیسر اعبدالباقی۔ مطبع داراثقافت ملتان
  5. محمد اسد خان ملتانی فکرِ اقبال کا نمایندہ شاعر مولف پروفیسر مختار ظفر مطبع بیکن بکس ملتان
  6. کلیات ِ اسد ملتانی مرتب شوکت حسین بخاری ۔