محمد اسماعیل کٹکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مناظرِ اسلام، مولانا

محمد اسماعیل کٹکی
Ismail Katki.jpg
صدر جمعیت علمائے اڈیشا (ثالث)
پیشروبالترتیب:
سید فضل الرحمن قاسمی[1]، ایڈیٹر ہفت روزہ مسلم گزٹ، کٹک[2]
محمد برکت اللہ کٹکی[1]
جانشینسید سراج الساجدین کٹکی قاسمی، سابق مہتمم جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ و سابق رکن مجلسِ عاملہ، دار العلوم دیوبند[1]
امیر شریعت اڈیشا (اول)
عہدہ سنبھالا
1964ء سے 2005ء
جانشینسید سراج الساجدین کٹکی قاسمی
رکنِ مجلسِ شوری، دار العلوم دیوبند
عہدہ سنبھالا
1992ء سے 2005ء[3]
ذاتی
پیدائش1914ء
رسول پور، سونگڑہ، ضلع کٹک، صوبہ بہار اڑیسہ، برطانوی ہند
وفات20 فروری 2005(2005-20-20) (عمر  91–92 سال) سونگڑہ، ضلع کٹک، اڑیسہ
مدفنجامعہ اسلامیہ مرکز العلوم کی 'مدنی مرکز المساجد' کی بائیں جانب
مذہباسلام
اولادمحمد احمد میاں قاسمی (بیٹے)
محمد محمود میاں (بیٹے)
محمد غانم قاسمی (پوتے)
فقہی مسلکحنفی
تحریکتحفظ ختم نبوت
قابل ذکر کامیادگارِ یادگیر، قادیانی اسلام، ذرا غور کریں
اساتذہحسین احمد مدنی
مرتضی حسن چاند پوری
محمد میاں دیوبندی
محمد ابراہیم بلیاوی
اصغر حسین دیوبندی
محمد شفیع دیوبندی
قاری محمد طیب
بانئجامعہ اسلامیہ مرکز العلوم، سونگڑہ، کٹک

محمد اسماعیل کٹکی (1914ء - 20 فروری 2005ء) ایک ہندوستانی دیوبندی عالم، مقرر، مناظر اور محافظِ ختمِ نبوت تھے۔ بھارت میں خصوصاً ریاست اڈیشا میں تحریک تحفظ ختم نبوت پر ان کی بے بہا خدمات ہیں۔ وہ جمعیت علمائے اڈیشا کے تیسرے صدر اور امارت شرعیہ اڈیشا کے پہلے امیر تھے۔ سونگڑہ، ضلع کٹک میں ان کے زیر اہتمام جامعہ مرکز العلوم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

ولادت و تعلیم[ترمیم]

ولادت[ترمیم]

اسماعیل کٹکی کی پیدائش 1914ء کو رسول پور سونگڑہ، ضلع کٹک، صوبہ بہار و اڑیسہ (موجودہ صوبہ اڈیشا) میں ہوئی۔[4][5]

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم اپنی پھوپھی ”سیدہ خاتون“ کے پاس ہوئی۔[4][6] اس کے بعد ہدایۃ النحو تک کی تعلیم؛ فاضلِ دیوبند محمد عمر قاسمی کٹکی کے قائم کردہ مدرسہ؛ ”مدرسہ اسلامیہ، سونگڑہ“ میں ہوئی۔[7]

جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی میں[ترمیم]

متوسط و اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ جامعہ قاسمیہ مدرسہ شاہی مرادآباد پہنچے اور وہیں پر شرح وقایہ تک کی تعلیم حاصل کی اور وہاں محمد میاں دیوبندی، محمد اسماعیل سنبھلی، عبد الحق مدنی اور قدرت اللّٰہ قدرت جیسے جبالِ علم اساتذہ سے اکتسابِ فیض کیا۔[6][7]

دار العلوم دیوبند میں[ترمیم]

اس کے بعد وہ دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں ان کا داخلہ ہوگیا۔[6][8]

دورۂ حدیث سے ان کی فراغت[ترمیم]

دورۂ حدیث سے ان کی فراغت؛ 1353ھ بہ مطابق 1934ء میں ہوئی، صحیح البخاری؛ حسین احمد مدنی سے پڑھی۔[9][10]

مناظرہ کی مشق و تمرین[ترمیم]

دار العلوم دیوبند سے فراغت کے بعد مزید چھ ماہ انھوں نے عظیم مناظر مرتضی حسن چاند پوری کے پاس رہ کر مناظرہ پر مشق و تمرین کیا اور ان سے مناظرہ کے اصول و ضوابط سیکھے، زمانۂ طالب علمی ہی میں وہ ایک کامیاب مناظر بن چکے تھے۔[5][8]

دار العلوم دیوبند میں ان کے اساتذہ[ترمیم]

ان کے اساتذۂ دار العلوم میں حسین احمد مدنی، محمد ابراہیم بلیاوی، محمد طیب قاسمی، رسول خان ہزاروی، محمد شفیع دیوبندی، اصغر حسین دیوبندی، اعزاز علی امروہوی، نبیہ حسن دیوبندی اور عبد السمیع دیوبندی شامل تھے۔[6][8] نیز انھوں نے مرتضی حسن چاند پوری سے فن مناظرہ کی تربیت لی۔[6][8]

تدریس و دیگر خدمات[ترمیم]

سرکاری ملازمت[ترمیم]

تعلیم سے فراغت کے بعد کوراپٹ، اڈیشا میں 1947ء تک اسکول کی سرکاری ملازمت میں مشغول رہے۔[5][4]

انجمن تبلیغ الاسلام سے وابستگی اور جامعہ مرکز العلوم کا قیام[ترمیم]

1946ء ہی میں وہ حسین احمد مدنی کے ایما پر اڈیشا ہی میں تحفظ ختم نبوت کی ایک تحریک ”انجمن تبلیغ الاسلام“ سے منسلک ہوکر سرگرمِ عمل ہوچکے تھے، یہ تحریک 1945ء میں سونگڑہ ہی کے اہل فکر افراد نے قائم کی تھی۔[5] انھیں کے انتظام میں 1946ء میں باقاعدہ جامعہ مرکز العلوم قائم کیا گیا اور وہ تدریسی و اصلاحی خدمات میں مشغول ہوگئے۔[5]

میدانِ مناظرہ میں[ترمیم]

فراغت کے بعد سے لے کر نوے کی دہائی تک انھوں نے نوے سے زائد مناظرے کیے،[8] جن میں ردِّ قادیانیت پر ہونے والے مناظروں میں 1958ء کا مناظرۂ بھدرک، 1963ء کا مناظرۂ یادگیر[11]، 1988ء کا مناظرۂ کتہ گوڑم اور ردِّ بریلویت پر ہونے والا 1979ء کا مناظرۂ بارہ بٹی اسٹیڈیم مشہور ہے۔[5] آٹھ سو سے زائد افراد ان کے ہاتھ پر مشرف با اسلام ہوئے[8] اور ان کی وعظ و تقریر اور اظہارِ حق و ابطالِ باطل سے لاتعداد مسلمانوں کا ایمان مضبوط و مستحکم ہوا۔[10] قادیانیوں کے مشہور مناظرین مفتی صادق، سرور شاہ، محمد حنیف کشمیری، غلام احمد مجاہد اور محمد سلیم وغیرہ کو بار بار عبرت ناک شکست دی۔[8] بریلوی مناظرین میں ارشد القادری اور حبیب الرحمن بھدرکی سے بھی ان کا اپنے رفقا کے ساتھ مناظرہ ہوا اور کامیاب بھی رہے۔[5]

بعض اداروں، مجلسوں یا تنظیموں کی صدارت یا رکنیت[ترمیم]

  • 1964ء سے وفات تک یعنی 2005ء تک 41 سال وہ امارتِ شرعیہ، اڈیشا کے پہلے امیر رہے۔[5][6]
  • انھوں نے اپنی وفات تک تقریباً نصف صدی تک جمعیت علمائے اڈیشا کے تیسرے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔[5]
  • 1986ء میں ”کل ہند مجلسِ تحفظِ ختم نبوت کا انھیں نائب صدر منتخب کیا گیا تھا۔[10][12]
  • 1992ء میں وہ مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند کے رکن بنائے گئے اور اپنی وفات یعنی 2005ء تک 14 سال اس عہدہ پر فائز رہے۔[3]
  • وہ رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دار العلوم دیوبند کی طرف سے اڈیشا (سابق نام: اڑیسہ) کے صوبائی صدر بھی رہے ہیں۔[13]
  • وہ کانگریس کے حامی تھے اور اخیر عمر تک اسی سے منسلک رہے اور تحریک آزادی میں بھی سرگرم رہے۔[4]
  • جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے رکن بھی تھے۔[7]

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ میں سے بعض مشاہیر کے نام درج ذیل ہیں:[5][14]

نام تعارف حوالہ
سید محمد سراج الساجدین کٹکی قاسمی جمعیت علمائے اڈیشا کے چوتھے صدر، امارت شرعیہ اڈیشا کے دوسرے امیر اور مجلسِ عاملہ، دار العلوم دیوبند کے رکن (یہ اسماعیل کٹکی کے وہ قابل اعتماد شاگرد تھے، جنھیں انھوں نے اپنے نائب کے طور پر منتخب کر لیا تھا[4])
عبد الحفیظ کٹکی مظاہری صدر مجلس تحفظ ختم نبوت، اڈیشا۔
محمد جلال الدین کٹکی قاسمی جمعیت علمائے اڈیشا (الف) کے پہلے صدر؛ بانی و مہتمم جامعہ اسلامیہ دینیہ (ارشد العلوم)، کنی پاڑہ، سبلنگ، کٹک اور امارت شرعیہ اڈیشا کے تیسرے امیر۔
محمد منظور احمد کٹکی قاسمی سابق چیئرمین اردو اکیڈمی، کٹک، اڈیشا۔
سید کفیل احمد قاسمی چیئرمین شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔
محمد علی کٹکی قاسمی مہتمم جامعہ سراج العلوم عرفانیہ، سات بٹیہ، کٹک و نائب صدر جمعیت علمائے اڈیشا (الف)
عبد السبحان قاسمی نیاگڑھی اڈیشا کے اڈیہ بولے جانے والے علاقوں؛ جیسے: نیا گڑھ وغیرہ میں ان کی بے بہا دینی خدمات ہیں۔
عبد المنان قاسمی، اسریسر و متوطن بھوبنیشور سابق رکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے اڈیشا (الف)
عبد الستار قاسمی کاکٹ پوری
محمد فاروق قاسمی امارت شرعیہ اڈیشا کے چوتھے امیر، مہتمم جامعہ اشرف العلوم کیندرا پاڑہ اور صدر رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ برائے صوبہ اڈیشا
اشرف علی قاسمی مہتمم مدرسہ قاسم العلوم، بشن پور، بالوبیسی، ضلع جگت سنگھ پور و سابق جنرل سیکریٹری جمعیت علمائے اڈیشا (میم)
محمد ابو سفیان قاسمی نائب صدر جمعیت علمائے اڈیشا (الف)۔
محمد غفران قاسمی، بالو بیسی سابق عبوری صدر جمعیت علمائے اڈیشا (الف) و مہتمم مدرسہ فرقانیہ، بالوبیسی۔
سید انظر نقی قاسمی استاذ حدیث و ناظم شعبۂ تعلیمات جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ، اڈیشا
محمد ارشد قاسمی مہتمم مدرسہ حسینیہ، راورکیلا اور جمعیت علماء اڈیشا (الف) کے دوسرے صدر
نور اللہ قاسمی جدو پوری خلیفہ مولانا سید اسعد مدنی
سید شمس تبریز قاسمی سفیر دار العلوم دیوبند [15]
عنایت اللہ ندوی استاذ دار العلوم ندوة العلماء، لکھنو و مصنفِ ”بین الاقوامی معلومات“
محمد نور الامین صدیقی مہتمم مدرسہ دار العلوم حسینیہ، مدنی نگر، چڑئی بھول، ضلع میوربھنج
سید نقیب الامین برقی قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیت علماء اڈیشا (الف) و مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ، کٹک
محمد زعیم الاسلام قاسمی استاذ حدیث جامعہ مرکز العلوم، سونگڑہ، کٹک۔
شاہ عالم قاسمی گورکھپوری نائب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت و استاذِ شعبۂ تحفظ ختم نبوت دار العلوم دیوبند

ان کے علاوہ بھی ان کے تلامذہ کی کثیر تعداد ہے۔[5]

وفات[ترمیم]

ان کا انتقال 91 یا 92 سال کی عمر میں 11 محرم 1426ھ بہ مطابق 20 فروری 2005ء کو تقریباً رات گیارہ بجے سونگڑہ، کٹک میں ہوا۔[5][6] ان کی وفات پر دار العلوم دیوبند کی مجلس عاملہ کی میٹنگ (منعقدہ 18 جمادی الاخری 1426ھ بہ مطابق 25 جولائی 2005ء بہ روز پیر) میں افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔[16] ان کی وفات کے موقع پر دار العلوم دیوبند کی دار الحدیث تحتانی میں ایک دعائیہ نشست کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں سابق مہتمم دار العلوم دیوبند اور موصوف کے شریکِ درس مولانا مرغوب الرحمن بجنوری، نائب مہتمم قاری عثمان منصورپوری، نائب مہتمم مولانا عبد الخالق مدراسی اور دیگر اساتذہ و طلبۂ دار العلوم دیوبند نے شریک ہوکر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے ان کے لیے ایصالِ ثواب کیا تھا۔[6]

تصانیف[ترمیم]

ان کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:[5][11]

  • یادگارِ یادگیر (مطبوعہ: 1965ء)
  • قرآنِ قادیانی (مطبوعہ: 2 فروری 1956ء)
  • اسلامِ قادیانی
  • ذرا غور کریں (یہ کتاب اسماعیل کٹکی کی تحریروں پر مشتمل ہے، جو شاہ عالم گورکھپوری کی ترتیب دی ہوئی ہے۔)
  • قادیانی کاہیں کی مسلمان ناہانتی؟ یعنی قادیانی کیوں مسلمان نہیں ہیں؟ (اڈیہ زبان میں)[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ مفتی سید نقیب الامین برقی قاسمی. "جمعیت علمائے اڈیشا". سیکریٹری رپورٹ بہ موقع اجلاس منتظمہ جمعیت علمائے اڈیشا (ایڈیشن 20 جمادی الاولی 1443ھ بہ مطابق 25 دسمبر 2021ء). جامعہ مرکز العلوم سونگڑہ، تبلیغ نگر، کود، کٹک: صدر دفتر جمعیت علمائے اڈیشا (الف). صفحہ 3. 
  2. حقانی القاسمی. "سید فضل الرحمن قاسمی". دار العلوم دیوبند ادبی شناخت نامہ. 1 (ایڈیشن مئی 2006ء). جامعہ نگر، نئی دہلی: آل انڈیا تنظیم علمائے حق. صفحہ 108. 
  3. ^ ا ب محمد اللّٰہ قاسمی. "قادیانیت کی ہندوستان واپسی اور دار العلوم دیوبند کی خدمات" - "اراکینِ مجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند". دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن اکتوبر 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 322،323،758. 
  4. ^ ا ب پ ت ٹ مولانا سید علی اشرف کٹکی قاسمی. "مناظر اسلام حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی، رکن شوری سے ایک انٹرویو". آئینۂ دار العلوم (ایڈیشن 28 صفر 1417ھ بہ مطابق 15 جولائی 1996ء). دار العلوم دیوبند. 
  5. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ محمد روح الامین میُوربھنجی (5 دسمبر 2021). "مناظر اسلام مولانا محمد اسماعیل کٹکی قاسمی رحمہ اللّٰہ: حیات و خدمات". بصیرت آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 05 دسمبر 2021. 
  6. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ نور عالم خلیل امینی (ربیع الاول-ربیع الثانی 1426ھ م اپریل -مئی 2005ء). إلى رحمة الله.١. الشيخ السيد محمد إسماعيل الكتكي (بزبان عربی) (ایڈیشن 2005). مجلہ الداعی، دار العلوم دیوبند. اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2021. 
  7. ^ ا ب پ محمد سلمان منصورپوری. "حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی". ذکر رفتگاں. 2 (ایڈیشن اپریل 2020). لال باغ، مراد آباد: المرکز العلمی للنشر و التحقیق. صفحہ 16-17. 
  8. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج کٹکی، محمد اسماعیل. "قاطع قادیانیت مناظر اسلام سید محمد اسماعیل کٹکی امیر شریعت اڑیسہ از عثمان منصور پوری". ذرا غور کریں. دیوبند: مرکزی دفتر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت، دار العلوم دیوبند. 
  9. مولانا طیب قاسمی ہردوئی. دار العلوم ڈائری لیل و نہار: فیضانِ شیخ الاسلام نمبر (ایڈیشن 2015ء). دیوبند: ادارہ پیغامِ محمود. 
  10. ^ ا ب پ کٹکی، سید محمد اسماعیل. "عرض ناشر از عثمان منصور پوری (21 ذو الحجہ 1426ھ)". ذرا غور کریں. دیوبند: کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت، دار العلوم دیوبند. 
  11. ^ ا ب مولانا اللّٰہ وسایا صاحب، پاکستان (18 محرم الحرام 1433ھ بہ مطابق 14 دسمبر 2011ء). "عرض مرتب". (جلد نمبر 40) احتساب قادیانیت (ایڈیشن 2005). عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، ملتان، پاکستان. اخذ شدہ بتاریخ 05 اکتوبر 2021. 
  12. مولانا شاہ عالم گورکھپوری. تفاسیر قرآن مجید اور مرزائی شبہات (جلد اول) (ایڈیشن نومبر 2022ء۔ اشاعت دوم نومبر 2005ء). دیوبند: شاہی کتب خانہ. صفحہ 23. 
  13. شوکت علی قاسمی بستوی. "اجلاس دوم مجلس عاملہ رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دار العلوم دیوبند". رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دار العلوم دیوبند کی تیرہ سالہ خدمات (ایڈیشن مئی 2007ء). دیوبند: مرکزی دفتر رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ دار العلوم دیوبند. صفحہ 106-107. 
  14. "مناظر اسلام حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکی رحمۃ اللّٰہ علیہ: حیات و خدمات (تجدید شدہ)". www.ramin014007.blogspot.com. محمد روح الامین میوربھنجی. 27 نومبر 2021. اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2021. 
  15. https://darululoom-deoband.com/safeers/?p=417
  16. مولانا شوکت علی قاسمی بستوی (رجب‏، شعبان 1426ھ بہ مطابق ستمبر 2005ء). دارالعلوم دیوبند میں مجلس عاملہ رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کا اہم اجلاس (بزبان عربی) (ایڈیشن 2005). ماہنامہ دار العلوم دیوبند. اخذ شدہ بتاریخ 03 جنوری 2022. 

مزید دیکھیے[ترمیم]