محمد افتخارشفیع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نوے کی دہائی میں اردو شعر وادب کی دنیا میں متعارف ہونے والے شاعر ,نقاد اور محقق ڈاکٹر محمدافتخار شفیع 17 اگست 1973 کو ساہیوال کے نواحی قصبے نورشاہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم وقفے وقفے سے ملتان ,ساہیوال اور نورشاہ سے حاصل کی۔گورنمنٹ کالج ساہیوال سے بی اے کیا۔ انھوں نے بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اردو زبان وادب میں ایم اے اور بعد ازاں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ اردو میں ایم فل اور پی ایچ ڈی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کی۔ ان کی متعدد کتب منظر عام پر آئی ہیں۔ افتخارشفیع کی شاعری اور نثر برصغیر کے معروف ادبی پرچوں میں شائع ہوتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے حوالے سے اہل علم انھیں راوی کا دماغ اور اس علاقے کا نمائیندہ شاعر اور ادیب قرار دیتے ہیں۔ ان کی کتابیں مندرجہ ذیل ہیں۔

1.نیلے چاند کی رات۔(شعری مجموعہ).

2.پاکستانی ادب کا منظرنامہ۔(مرتبہ)

3.شہر غزل کے بعد۔.(مرتبہ)..

4.اصناف شاعری۔

5.اصناف نثر۔..

6.ڈاکٹراسلم انصاری شخصیت اورفن۔(بہ سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار اکادمی ادبیات پاکستان)...

7.حفیظ الرحمٰن خان شخصیت اور فن۔..(مرتبہ). 8.کلیات نثر مجید امجد۔.(مرتبہ).

9..اردوادب اور آزادی فلسطین۔..

10.آثار جنوں(مرتبہ)....

11.اردو غزل میں سراپا نگاری(تحقیقی مقالہ پی ایچ ڈی)

12۔شواہدالہام مولاناحا لی

ڈاکٹر محمدافتخارشفیع آج کل گورنمنٹ کالج ساہیوال میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے کام کو خاصی پزیرائی ملی ہے۔ ان کی شخصیت اور فن پر احمد ندیم قاسمی ,وزیرآغا،منیر نیازی،انتظارحسین،شمس الرحمن فاروقی،معین الدین عقیل،اسلم انصاری اور ظفراقبال جیسے مشاہیر کی تحریریں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ پاکستان کی مختلف جامعات میں افتخارشفیع کی ادبی خدمات پر مقالہ جات لکھے گئے ہیں۔ ذیل میں ان کے منتخب اشعار دیے جا رہے ہیں۔

اک یاد شب رفتہ کے مرقد پہ چڑھی یاد ورنہ یہ چراغوں کا دھواں کچھ بھی نہیں ہے ,,,,,,,,,,,, ہجرت کی گھڑی ہم نے ترے خط کے علاوہ بوسیدہ کتابوں کو بھی سامان میں رکھا ,,,,,,,,,,,,,,, قصہ گو تونے فراموش کیا ہے ورنہ اس کہانی میں ترے ساتھ کہیں تھے ہم بھی ,,,,,,,,,,,,,, خاک تہ ہستی میں سمانے کے لیے ہیں ہم لوگ کسی اور زمانے کے لیے ہیں ,,,,,,,,,,,,, آؤ نکلیں شام کی ٹھنڈی سڑک پر افتخار زندگی سے کچھ تو اپنا رابطہ رہ جائے گا ,,,,,,,,,,,,, کمال اے دم وحشت کمال ہو گیا ہے ہمارا خود سے تعلق بحال ہو گیا ہے ,,,,,,,,,,,,, نجانے کون سی رت کی سفیر تھی وہ ہوا درخت رو دیے جس کو سلام کرتے ہوئے

ڈاکٹرافتخارشفیع کی کتب کا مختصر تعارف (نیلے چاند کی رات)

افتخارشفیع کا اولین شعری مجموعہ .یہ 1999میں فکشن ہاوس لاہور سے شایع ہوا۔ اس میں ان کی غزلیں،اورنظمیں شامل ہیں۔ اس کتاب کا دیباچہ ڈاکٹر شمیم حیدر ترمذی کا تحریر کردہ ہے جب کہ وزیر آغا،جعفر شیرازی اور اسلم انصاری کی آرا شامل ہیں۔

(پاکستانی ادب کا منظرنامہ)

پاکستانی ادب کے ترجمان پروفیسرحفیظ الرحمٰن خان کے منتخب مضامین کی ترتیب۔ اس کا دیباچہ ڈاکٹروحیدعشرت اور فلیپ پروفیسر فتح محمد ملک کا تحریر کردہ ہے۔ (شہر غزل کے بعد)

سید علی ثانی گیلانی کے ساتھ ساہیوال ڈویڏن کے شعرا کا انتخاب۔ یہ اس علاقے کے شعری منظر نامے کے حوالے ایک اہم دستاویز ہے۔ (اردو ادب اور آزادی فلسطین)

اردو ادب میں فلسطین جیسے اہم انسانی مسئلے پر لکھی گئی کتاب۔ اس میں اردو کے شعراوادبا کی فلسطینی کاز کو موضوع بنانے والی تحریروں اور فلسطینی شعرا وادبا کی تحریرو ں کے تراجم کا تنقیدی وتحقیقی جائزہ پیش کیا گیاہے۔ اس کتاب کے بارے میں ڈاکٹر معین الدین عقیل اور انتظارحسین کے مضامین اہم ہیں۔ (اردو غزل میں سراپا نگاری) افتخارشفیع کی یہ منفرد کتاب اردو کلاسیکی غزل کے سب سے منفرد اور جمالیات سے بھرپور پہلو یعنی سراپا نگاری کا احاطہ کرتی ہے۔ اس میں محمد قلی قطب شاہ سے داغ دہلوی تک کے شعرا کی سراپا نگاری کو عنوان بنایا گیا ہے۔ اس کتاب کا دیباچہ شمس الرحمٰن فاروقی کا تحریر کردہ ہے۔