محمد انواراللہ فاروقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد انواراللہ فاروقی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 10 مارچ 1848  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1917 (68–69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہی مسلک حنفی
عملی زندگی
پیشہ عالم،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں جامعہ نظامیہ،  آصفیہ کتب خانہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

شیخ الاسلام امام محمد انواراللہ خان فاروقی اسلامی یونیورسٹی جامعہ نظامیہ کے بانی ہیں۔ آپ کا اصل نام محمد انوار اللہ خان بہادر تھا اور نظام کی جانب سے "فضیلت جنگ" کا لقب عطا کیا گیا تھا۔

پیدائش[ترمیم]

امام محمد انوار اللہ فاروقی 4 ربیع الثانی 1265ھ کو ناندیڑ میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ حمل کے دوران میں انہوں نے محمدﷺ کی خواب میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے زیارت کی۔[حوالہ درکار]

خاندانی پس منظر[ترمیم]

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، امام محمد انوار اللہ فاروقی دوسرے خلیفہ اسلام حضرت عمر فاروق کی نسل سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب یہ ہے:

محمد انوار اللہ ولد ابو محمد شجاع الدین ولد قاضی سراج الدین ولد بدرالدین ولد ب رہان الدین ولد سراج الدین ولد تاج الدین ولد قاضی عبد الملک ولد تاج الدین ولد قاضی محمد کبیرالدین ولد قاضی محمود ولد قاضی کبیر ولد قاضی محمود ولد قاضی احمد ولد قاضی محمد ولد یوسف ولد زین العابدین ولد نور الدین ولد شمس الدین ولد شریف جہان ولد صدر جہان ولد اسحاق ولد مسعود ولد بدر الدین ولد سلیمان ولد شعیب ولد احمد ولد مھمد ولد یوسف ولد شہاب الدین علی (فرخ شاہ کابلی) ولد شیخ اسحاق ولد شیک مسعود ولد عبد اللہ اصغر ولد عبد اللہ اکبر ولد عبد الفتح ولد اسحاق ولد ابراہیم ولد ناصر ولد عبد اللہ ولد عمر ولد خطاب

آپ کے دادا فرخ شاہ کابلی (کابل، افغانستان سے ) خاندان کے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہندوستان میں رہائش اختیار کی۔ فرید الدین گنج شکر اور امام ربانی شیخ احمد سرہندی اسی نسل سے ہیں۔

خاندان[ترمیم]

امام محمد انوار اللہ فاروقی نے 1289ھ میں مولوی حاجی امیر الدین صاحب کی بیٹی سے شادی کی۔  ان کی زوجہ 26 رمضان 1304ھ میں وفات پا گئیں۔ ان کی وفات کے بعد امام  صاحب نے دوبارہ شادی نہیں کی۔

امام صاحب کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ان کے پہلے فرزند عبد الجلیل 1292ھ میں پیدا ہوئے اور 1295ھ میں وفات پا گئے۔ ان کے دوسرے فرزند عبد القدوس 1297ھ میں پیدا ہوئے اور 1307ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

جب آپ سات سال کے ہوئے تو آپ کے والد نے آپ کو حفظ قرآن کے لیے حافظ امجد علی (نابینا) کے سپرد کر دیا۔ 11 سال کی عمر میں امام صاحب نے حفظ قرآن مکمل کر لیا۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ آپ نے فقہ اور منطق مولانا عبد الحلیم فرنگی محلی اور مولانا عبد الحی فرنگی محلی سے پڑھی۔ فقہ کی کچھ تعلیم آپ نے مولوی فیاض الدین اورنگ آبادی سے بھی حاصل کی۔ آپ نے تفسیر قرآن کی تعلیم شیخ عبد اللہ یمنی سے حاصل کی اور حدیث کی سند تکمیل بھی ان ہی سے حاصل کی۔

ملازمت اور استعفٰی[ترمیم]

1285ھ میں امام صاحب بطور کلرک بھرتی ہو گئے۔ قریباً ڈیڑھ سال بعد آپ کو ایک غلط اندراج کرنے کے لیے کہا گیا جس کے جواب میں آپ نے اپنا استعفٰی پیش کر دیا۔ ان کے افسر نے وعدہ کیا کہ ائندہ اس طرح کا کوئی بھی کام ان کو نہیں دیا جائے گا۔ تاہم امام نے احتجاجاً استعفی دے دیا۔

قیام جامعہ نظامیہ[ترمیم]

19 ذوالحجہ 1292ھ کو مولوی مظفر دین کے گھر پر ایک مجلس مشاورت منعقد ہوئی جس میں حیدرآباد میں ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت کا خیال ظاہر کیا گیا جو علوم اسلامی کی اعلیٰ اور خصوصی تعلیم مہیا کرے گی۔ یہ تجویز منظور کر لی گئی۔ علما کی ایک بڑی تعداد نے یہ خیال ظاہر کیا کہ امام انوار اللہ فاروقی کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نظر نہیں آتی جو اس طرح کے ادارے کی سربراہی کر سکے۔ اس طرح امام ادارے کے سربراہ مقرر کر دیے گئے۔[1]

بطور نظام تقرری[ترمیم]

مولوی زمان خان شہید کی شہادت کے بعد ان کے بھائی  محترم نواب میر محبوب علی خان کے استاد مقرر ہوئے۔ تاہم ان کی اس کے علاوہ بھی دوسری ذمہ داریاں تھیں۔ اس وجہ سے انہوں نے امام انوار اللہ فاروقی اور سید اشرف حسین کا نام تجویز کیا اور عدالت سے اس کی منظوری لے لی۔

شروع میں امام نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعد ازاں استخارہ کرنے کے بعد اسے قبول کر لیا۔ اس طرح امام انوار اللہ فاروقی 1295ھ میں چھٹے نظام کے اطالیق مقرر ہوئے۔

حج[ترمیم]

امام انوار اللہ فاروقی نے تین مرتبہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس شہروں کا سفر اختیار فرمایا۔ پہلا سفر 1294ھ، دوسرا 1301ھ اور تیسرا 1305ھ میں کیا۔ تیسری مرتبہ امام نے وہاں تین سال تک قیام فرمایا۔ اس دوران میں ضروریات زندگی کی تکمیل کے علاوہ وہ  اپنا تمام وقت عبادت یا کتب خانوں میں کتابوں کے مطالعہ میں گزارتے۔ ان کی کتاب "انوار احمدی" اس زمانہ ہی کی تصنیف ہے۔

امام نے کئی اہم اسلامی  کتب کی نقول اپنے ذاتی خرچ پر تیار کروائی۔ ان میں سے اہم ترین کنز العمال (ذخیرہ حدیث 9 جلدیں)، جامع مسند امام اعظم، سنن بہیقی ہیں اور ان کے علاوہ دیگر کتب بھی ہیں۔

اس سفر میں ان کی بہن اور بیٹا وفات پا گئے۔ امام خود بہت بیمار ہو گئے اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ بالآخر مدینہ کے علما اور صوفیا  خصوصاً  حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے اصرار پر امام انوار اللہ فاروقی نے حیدرآباد واپس جانے کا ارادہ کر لیا۔

بطور ساتویں نظام تقرری[ترمیم]

مقدس شہروں سے واپسی کے بعد امام انوار اللہ فاروقی کی تقرری ساتویں نظام محترم نواب میر عثمان علی خان کے اطالیق کے طور پر ہو گئی۔

بطور وزیر مذہبی امور[ترمیم]

ساتویں نظام کی تاج پوشی کے بعد امام انوار اللہ فاروقی نے اپنا تمام وقت علوم اسلامی کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ تاہم نظام نے ان کو دکن کے صدر الصدور کے عہدہ کے لیے قائل کر لیا۔ اگرچہ امام نے اعتراض کیا کہ وہ سرکاری ملازمت کی عمرکی حد (55 سال) سے تجاوز کر چکے ہیں، نظام نے انہیں بتایا کہ اس عہدہ کے لیے ان سے زیادہ مناسب کوئی اور شخصیت نہیں ہے۔

بعد میں امام مذہبی امور کے وزیر بنا دیے گئے۔

وفات[ترمیم]

1336ھ میں امام  کی پیٹھ پر کچھ پھوڑے نکل آئے۔ کوئی علاج نہ کروایا گیا اور خدشہ تھا کہ یہ سرطان تھا۔ بالآخر اطباء نے تصدیق کر دی کہ یہ یقیناً سرطان ہے۔ نظام کے حکم پر ماہر اطباء کو بلایا گیا جو اسی نتیجہ پر پہنچے۔  جراہی کی گئی۔

ایک طویل جراحی کے بعد پھوڑا نکال دیا گیا۔ ڈاکٹر نے امام کو مکمل صحت یابی پر مبارکباد دی۔  امام  نے  ڈاکٹر  کا  شکریہ  ادا  کیا  اور  بعد  از  نماز  مغرب  دوبارہ معائنہ کے  لیے کہا۔

جب امام  بستر  پر  لیٹے  تو  ان  کا  چہرہ  زرد  تھا۔ انہوں  نے  کلمہ  طیبہ  کی  تلاوت  شروع  کر  دی۔  جب جمادی الاول کے آخری  دن  کا  سورج  غروب  ہوا  تو  امام  نے  وفات  پائی۔

امام محمد انوار اللہ فاروقی کو جامعہ نظامیہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ ہر سال 29 جمادی الاول کو امام کا عرس منایا جاتا ہے۔ جامعہ نظامیہ کی تقریب تقسیم اسناد بھی اسی دن منعقد کی جاتی ہے۔

تصانیف[ترمیم]

امام محمد انوار اللہ فاروقی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ انہوں نے درج ذیل کتاب تصنیف کیں:

  • مقاصد الاسلام (گیارہ جلدیں)
  • افادۃ الافہام (گیارہ جلدیں)
  • انوار اللہ الودود فی مسئلہ وحدت الوجود
  • الکلام المرفوع فی مایۃ  علاقہ بالحدیث الموضوع
  • افضل الافہام جلد اول و دوم
  • انوار الحق
  • انوار احمدی (مقام مصطفی کے نام سے تلخیص شائع ہوئی ہے)
  • حقیقت الفقہ جلد اول و دوم
  • کتاب العقل
  • انوار التمجيد فى ادلة التوحيد

بطور صوفی[ترمیم]

امام صاحب نے تصوف کے تمام سلاسل طیبہ کی ابتدائی تعلیم اور  سند خلافت اپنے والد محترم سے حاصل کی۔

بعد ازاں  مکہ  مکرمہ  و  مدینہ  منورہ  کے  سفر  کے  دوران میں  آپ  حاجی  امداد اللہ  مہاجر  مکی  سے  بیعت  ہوئے  اور  ان  کی  معیت  میں  منازل  سلوک  طے  کیں۔

حاجی  امداداللہ  مہاجر  مکی  نے انہیں کسی خواہش کے اظہار کے بغیر  تمام  سلاسل  طریقت  کی  اسناد  اجازت عطا فرمائیں اور دکن میں اپنے مریدین کو روحانی معاملات میں ان سے راہنمائی لینے کی تاکید کی۔ تاہم امام صاحب نے کبھی کسی کو مرید بننے  کے لیے نہیں کہا۔ اگر کبھی کسی نے مرید بننے کی خواہش ظاہر کی تو آپ عاجزی سے فرما دیا کرتے: "میں اس قابل نہیں ہوں۔ کسی قابل شخص سے بیعت ہو جائیے۔" اگر وہ شخص اصرار کرتا تو آپ اسے اپنے سلسلہ میں بیعت فرما لیا کرتے۔

عموماً امام سلسلہ قادریہ میں مریدین کو بیعت کرتے تھے تاہم اگر کوئی مرید کسی اور سلسلہ میں بیعت ہونا چاہتا تو امام محترم اس کی خواہش کا احترام کرتے تھے۔ اس صورت میں امام روزانہ کے اوراد و وظائف بھی بتایا کرتے تھے۔   اگر  کوئی علوم روحانیہ و باطنیہ  اور  عرفان  الہی  سے زیادہ شغف  رکھنے والا ہوتا تو امام اس کو فتوحات مکیہ کے اسباق میں شمولیت کا کہتے تھے۔

منسوب کرامات[ترمیم]

شیخ کے ایک طالب علم مولوی عبد الصمد ایک رات محو خواب تھے اور امام مطالعہ میں مشغول تھے۔ اچانک مولوی عبد الصمد نے بے چینی محسوس کی اور بیدار ہو گئے۔ امام نے ان سے پینے کے لیے پانی لانے کی درخواست کی۔ وہ پانی پلانے کے بعد دوبارہ سونے کے لیے چلے گئے۔

اگلے  دن درس کے بعد امام نے اپنے کچھ منتخب طلبہ کو بتایا کہ پچھلی رات انہوں نے کچھ پیاس محسوس کی، لیکن کوئی شخص بھی ایسا موجود نہ تھا جو پانی لا کر دے سکے۔ تب امام نے اپنی قلبی توجہ سوئے ہوئے شخص پر مرکوز کی جو جاگ اٹھا اور ان کے لیے پانی لے آیا۔

امام کی ایک شاگردہ نجیبہ خاتون جو خود بھی ایک عظیم صوفیہ تھیں۔ انہوں نے حضرت محی الدین عربی کی عظیم تصنیف  فتوحات مکیہ کے کچھ اسباق میں الگ کمرے میں بیٹھ کر  شمولیت کی۔ وہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے حضرت غوث اعظم کو کئی مرتبہ اسباق میں شمولیت کرتے دیکھا۔

وہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ امام کتاب میں موجود ایک نکتے کی صحیح وضاحت نہ کر پا رہے تھے۔ آپ بار بار رک جاتے تھے۔ حضرت نجیبہ خاتون فرماتی ہیں کہ انہوں نے وہاں سے سیدھا کعبہ کی جانب جاتا ہوا ایک راستہ دیکھا جہاں پیغمبر پاک محمدﷺ تشریف فرما تھے اور درس دے رہے تھے۔ پیغمبر پاکﷺ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا: براہ مہربانی آپ انتظار فرمائیے۔ اس وقت میرا بیٹا انوار اللہ فاروقی متن کی تشریح میں مشکل کا شکار ہے۔ پیغمبر پاک ﷺ نے اپنی خصوصی قلبی توجہ امام محمد انوار اللہ فاروقی پر مرتکز کی۔ ان کی توجہ سے جب نکتے کی وضاحت ہو گئی، پیغمبر پاکﷺ بہت خوش ہوئے اور اپنے شاگردوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Islamic Studies, Orientalists And Muslim Scholars By S. Abul Hasan Ali Nadwi Aka Ali Miyan