محمد اکبر خان بگٹی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد اکبر خان بگٹی
تفصیل=

13ویں گورنر بلوچستان
مدت منصب
15 فروری 1973ء – 3 جنوری 1974ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png غوث بخش بزنجو
احمد یار خان Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
5واں وزیر اعلیٰ بلوچستان
مدت منصب
4 فروری 1989ء – 6 اگست 1990ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جام محمد قادر خان
تاج محمد جمالی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
19ویں سردار بگٹی قبیلہ
Fleche-defaut-droite-gris-32.png نواب محراب خان بگٹی
نواب براہمداغ بگٹی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 12 جولا‎ئی 1927  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بارخان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 اگست 2006 (79 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوہلو  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ڈیرہ بگٹی  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ڈیرہ بگٹی
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
جماعت جمہوری وطن پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ایچی سن کالج  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اکبر بگٹی بچپن میں اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ

اکبر بگٹی پاکستان کے مشہور بلوچ قوم پرست سیاسی رہنما، جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق گورنر و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

نواب محراب خاں کے ہاں ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ اورپھر اس کے بعد آکسفورڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ 1946ء میں اپنے قبیلہ کے 19ویں سردار بنے۔ 1946ء میں انہوں نے حکومت کی خصوصی اجازت سے پاکستان سول سروس اکیڈمی سے پی اے ایس (اب سی ایس ایس) کا امتحان دیے بغیر تربیت حاصل کی۔

اکبر بگٹی

بعد میں وہ سندھ اور بلوچستان کے شاہی جرگہ کے رکن نامزد ہوئے۔ 1951ء میں بلوچستان کے گورنر جنرل کے مشیر مقرر ہوئے۔ وہ 1958ء میں وزیر مملکت کے طور پر وفاقی کابینہ میں شامل رہے۔ 1960ء کی دہائی میں وہ چھوٹی قومیتوں کے حقوق کی علمبردار جماعت [نیشنل عوامی پارٹی] (نیپ) میں شامل ہو گئے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں وہ کچھ عرصہ جیل میں قید بھی رہے۔ جب عطا اللہ مینگل بلوچستان کے وزیراعلیٰ بنے تو نواب بگٹی کے نیپ کی قیادت سے اختلافات ہو گئے۔ 1973ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ کی حکومت کو برخاست کیا تو اکبر بگٹی کو صوبہ کا گورنر مقرر کیا گیا۔ وہ 10 ماہ گورنر رہے لیکن بعد میں ذوالفقار علی بھٹو سے اختلافات کی بنا پر مستعفی ہو گئے۔ 1977ء میں انہوں نے ائیر مارشل اصغر خان کی سربراہی میں قائم تحریک استقلال میں شمولیت اختیار کی۔

اکبر بگٹی کوہلو میں

1988ء میں اکبر بگٹی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ فروری انیس سو نواسی سے اگست انیس سو نوے تک وہ بلوچستان کے منتخب وزیراعلیٰ رہے۔ بے نظیر بھٹو نے بلوچستان کی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ انیس سو ترانوے کے عام انتخابات میں وہ ڈیرہ بگتی سے اپنی نئی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اردو زبان کا بائیکاٹ کیا۔ تاہم انہوں نے 1997ء اور 2002ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

وفات[ترمیم]

نواب اکبر بگتی کی کوہلو کے مری قبیلہ سے رشتہ داری تھی۔ سال 2003ء سے 2006ء تک اکبر بگٹی مری سرداروں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف صوبے کے حقوق کے لیے قوم پرستوں کی قیادت کرتے رہے۔ کوہلو کے پہاڑوں میں کئی مہینوں سے روپوش رہے۔ انہوں نے کوہلو میں پہاڑ میں پناہ لی تھی، 26 اگست 2006ء کو کچھ فوجی اہلکار بھی اس غار میں داخل ہوئے اور اچانک بارود کا دھماکا ہوا جس میں اکبر بگٹی ،ان کے 37 ساتھی اور پاکستان فوج کے 21 اہلکار شہید ہوئے۔[2]

بعد کے حالات[ترمیم]

اکبر بگٹی کے قتل کا الزام اکبر بگٹی کے اقاریب نے پرویز مشرف پر لگایا مشرف نے قتل سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اس قتل کو لے کر پورے بلوچستان میں حالات کشیدہ ہو گئے ،مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور دیگر اشیاء کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی،کوئٹہ سمیت بلوچستان کے شہروں میں احتجاج شروع ہوا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ اکبر بگٹی کی ہلاکت میں پرویز مشرف کا ہاتھ ہے۔ مشتعل مظاہرین نے زیارت میں موجود قائداعظم ریزیڈنسی کو منہدم کیا۔11 جولائی 2012ء کو انسداد دہشت گردی عدالت نے اکبر بگٹی قتل کیس میں سابق فوجی پرویز مشرف سمیت بڑے بڑے وزراء اور سیاسی لوگوں کی گرفتاری وارنٹ جاری کیے کیونکہ اس کیس کی ایف آئی آر میں ان کے نام درج تھے۔13 جون 2013ء کو مشرف کو گرفتار کیا گیا پھر کچھ عرصے بعد ضمانت ہو گئی،لیکن یہ کیس ابھی بھی عدالتوں میں چل رہا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://pakistaniat.com/2006/08/26/1927-2006-nawab-akbar-bugti-killed/
  2. نوائے وقت، آرکائیو شدہ [Date missing] بذریعہ nawaiwaqt.com.pk [Error: unknown archive URL] "گورنر نہ ہوتا تو بتاتا پاکستان کو کون تقسیم کرنا چاہتا ہے: اویس غنی"