محمد باقری
| سردار (آئی آر جی سی) | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| محمد باقری | |||||||
| (فارسی میں: محمد باقری) | |||||||
| مناصب | |||||||
| چیف آف جنرل اسٹاف [1] | |||||||
| برسر عہدہ 28 جون 2016 – 13 جون 2025 | |||||||
| |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 3 نومبر 1960ء تہران، ایران | ||||||
| وفات | 13 جون 2025ء (65 سال)[2] تہران، ایران | ||||||
| وجہ وفات | فضائی حملہ | ||||||
| قاتل | اسرائیلی فضائیہ | ||||||
| طرز وفات | قتل | ||||||
| شہریت | |||||||
| بہن/بھائی | |||||||
| عملی زندگی | |||||||
| پیشہ | عسکری قائد | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | فارسی ، آذربائیجانی | ||||||
| ملازمت | جامعۂ تربیت مدرس ، امیر کبیر جامعۂ ٹیکنالوجی | ||||||
| عسکری خدمات | |||||||
| وفاداری | ایران | ||||||
| شاخ | سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج | ||||||
| عہدہ | لیفٹیننٹ جنرل | ||||||
| لڑائیاں اور جنگیں | ایران میں کرد بغاوت 1979 ، ایران عراق جنگ ، شامی خانہ جنگی ، ایران کا اسرائیل پر حملہ(2024ء) ، اکتوبر 2024 اسرائیل کے خلاف ایرانی حملے | ||||||
| IMDB پر صفحات | |||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
محمد حسین افشردی (1339 ھ ش / 1960ء – 23 خرداد 1404 ھ ش / 13 جون 2025ء)، جو محمد باقری کے نام سے معروف تھے، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے لیفٹیننٹ جنرل تھے اور 1395 ھ ش (2016ء) سے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ جامعہ تربیتِ مدرس میں مدرس اور جامعہ عالی دفاعِ ملی کے فیکلٹی رکن بھی تھے۔
باقری نے اپنی عسکری زندگی کا آغاز 1359 ھ ش (1980ء) میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے کیا اور ایران عراق جنگ کے دوران اس ادارے کا حصہ رہے۔ 1381 ھ ش (2002ء) سے 1393 ھ ش (2014ء) تک انھوں نے مسلح افواج کے جنرل اسٹاف میں انٹیلی جنس و آپریشن کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور 1386 ھ ش (2007ء) سے 1395 ھ ش (2016ء) تک قرارگاہِ مرکزی خاتم الانبیا میں معاون کوآرڈینیٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ 1393 ھ ش (2014ء) سے 1395 ھ ش (2016ء) تک وہ جنرل اسٹاف میں معاونِ ارکان و مشترکہ امور کے طور پر بھی سرگرم رہے۔ وہ حسن باقری کے چھوٹے بھائی تھے۔
امریکا کے محکمۂ خزانہ نے آبان 1398 ھ ش (نومبر 2019ء) میں انھیں اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔ کینیڈی حکومت نے 11 مہر 1401 ھ ش (3 اکتوبر 2022ء) کو ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سبب ان پر پابندیاں عائد کیں اور یورپی اتحاد نے بھی مہر 1401 ھ ش (اکتوبر 2022ء) میں روس کو ڈرون فراہم کرنے اور ان کے یوکرین پر حملوں میں استعمال کی بنا پر ان پر پابندی عائد کی۔
13 جون 2025ء کو ایران پر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Iran’s Armed Forces Chief of Staff Martyred in Israeli Attack — اخذ شدہ بتاریخ: 13 جون 2025
- ↑ شهادت سرلشگر باقری تائید شد
- 1960ء کی پیدائشیں
- 3 نومبر کی پیدائشیں
- تہران میں پیدا ہونے والی شخصیات
- 2025ء کی وفیات
- 13 جون کی وفیات
- تہران میں وفات پانے والی شخصیات
- ایران میں پیدا ہونے والی شخصیات
- ایرانی جرنیل
- تہران کی شخصیات
- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے میجر جرنیل
- 1960ء کی دہائی کی پیدائشیں
- امریکی محکمہ خزانہ کی پابندیوں کے تابع ایرانی شخصیات
- اکیسویں صدی کی ایرانی عسکری شخصیات
- عسکری رئیس عملہ
- 1446ھ کی وفیات
- وفیات بسبب اسرائیلی فضائی حملے
- ایرانی سیاسی مقتولین
- ایرانی جوہری طبیعیات دان
- مقتول فوجی اہلکار
- ایرانی مقتولین
- ایران میں مقتول افراد

