محمد برہان الدین سنبھلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد برہان الدین سنبھلی
محمد برہان الدین
معلومات شخصیت
قومیت Flag of India.svg بھارت
مذہب اسلام
فرقہ سنی حنفی
اولاد محمد نعمان الدین ندوی
خاندان سنبھلی خاندان
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند
شعبۂ عمل تدریس و قضاء و تصنیف
وجۂ شہرت تفسیر و فقہ حنفی
مؤثر حسین احمد مدنی


مولانا محمد برہان الدین سنبھلی (1938-2020ء) ہندوستان کے مایۂ ناز حنفی فقیہ، عالم دین اور متعدد اہم کتابوں کے مصنف، ، و کئی دینی و علمی اداروں اور اکیڈمیوں کے رکن تاسیسی تھے۔ مولانا کی ولادت 5 فروری 1938ء (4 ذی الحجہ 1356ء) کو سنبھل ضلع مراد آباد میں ہوئی۔ابتدائی تعلیم سنبھل کے مدارس میں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم دار العلوم دیوبند میں حاصل کی۔ بعد ازاں مدرسہ عالیہ فتح پوری میں کئی سال تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد 1970ء میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی دعوت پر دار العلوم ندوۃ العلماء تشریف لائے اور تا وفات وہیں تفسیر و حدیث اور فقہ کی تدریس سے منسلک رہے۔

ابتدائی تعلیم و تربیت[ترمیم]

مولانا کے والد قاری حمید الدین ممتاز عالم دین اور دار العلوم دیوبند کے فاضل نیز انور شاہ کشمیری کے شاگردوں میں تھے، فن تجوید اور قراءت میں مہارت حاصل تھی۔ مولانا سنبھلی کی ولادت 5 فروری 1938ء (مطابق 4/ذی الحجہ 1356ھ) سنبھل ضلع مراد آباد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم (اردو، فارسی، حفظ قرآن مجید، تجوید و قراءت) اپنے والد سے اور ابتدائی عربی و متوسط تک کی تعلیم سنبھل کے ہی متعدد مدارس میں حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا جہاں 1957ء (1377ھ) میں فراغت حاصل کی۔ دار العلوم دیوبند میں مولانا کے معروف اساتذہ میں حسین احمد مدنی، فخر الدین احمد، ابراہیم بلیاوی، قاری محمد طیب وغیرہ شامل ہیں۔

تدریس و دیگر ذمہ داریاں[ترمیم]

دار العلوم دیوبند سے تکمیل کے بعد مدرسہ عالیہ فتح پوری میں تقریباً بارہ سال تدریس سے وابستہ رہے، بعد ازاں 1970ء (1390ھ) مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی دعوت پر دار العلوم ندوۃ العلماء تشریف لائے اور تا وفات ندوہ سے وابستہ رہے۔ اس دوران دار العلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ متعدد اہم ذمہ داریوں پر بھ فائز رہے۔ دار العلوم ندوۃ العلماء میں مولانا نے تفسیرو اصول تفسیر، حدیث و فقہ کی کتب عالیہ کی تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ دار العلوم ندوہ میں شعبہ تفسیر کے صدر، حدیث و فقہ کے استاد اعلی، مرکزی دار القضاء اترپردیش کے قاضی کونسل کے صدر، مجلس تحقیقات شرعیہ ندوہ کے ناظم بھی تھے۔ دار العلوم دیوبند کی نصاب کمیٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کی بعض کمیٹیوں کے رکن، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تاسیسی رکن، دینی تعلیمی کونسل اترپردیش کے رکن، المجمع الفقہی کے نائب صدر، ادارۃ المباحث الفقہیہ وغیرہ کے بھی رکن تھے۔ اس کے علاوہ بیرون ممالک مثلاً سعودی عرب، الجزائر، سعودیہ، امریکا، الجزائر، برطانیہ، ملیشیا اور جنوبی افریقہ کے علمی و دینی اجتماعات اور سیمیناروں میں شرکت کی۔

تصانیف[ترمیم]

محمد برہان الدین سنبھلی نے سو سے زیادہ تحقیقی مقالات کے علاوہ بہت سی کتابیں بھی لکھیں جو زیادہ تر فقہی اور مسائل حاضرہ کے شرعی سے متعلق ہیں۔ ان کی چند مشہور تصانیف مندرجہ ذیل ہیں:

اردو میں[ترمیم]

  • چند اہم دینی مباحث
  • جدید طبی مسائل
  • موجودہ زمانے کے مسائل کا شرعی حل
  • بینک انشورنس اور سرکاری قرضے
  • یونیفارم سول کوڈ اور عورت کے حقوق
  • معاشرتی مسائل
  • رؤیت ہلال کا مسئلہ
  • جہیز یا نقد رقم کا مطالبہ شرعی احکام کی روشنی میں
  • اصلاح معاشرہ
  • نفقۂ مطلقہ
  • موجودہ دور میں کار نبوت انجام دینے والے
  • مسلمانوں کی پریشانیوں کے حقیقی اسباب اور علاج
  • دو آب دار
  • چند اہم کتب تفسیر اور قرآن کریم کے ترجمے
  • خواتین کے لیے اسلام کے تحفے

عربی میں[ترمیم]

  • قضايا فقهية معاصرة
  • التوأم المتلاصق نكاحه، وجنايته وإرثه[1]

تلامذہ[ترمیم]

مفتی صاحب نے 60سال سے زائد عرصہ تک تدریس و افتا کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس دوران ہزاروں افراد نے ان سے استفادہ کیا اور رہنمائی حاصل کی۔ ان کے چند مشہور تلامذہ میں چند اہم مندرجہ ذیل ہیں:

اولاد[ترمیم]

مولانا کی اولاد میں محمد نعمان الدین معروف عربی مضمون نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے مشہور ہیں۔

تصوف[ترمیم]

مولانا سنبھلی کو معروف شیخ طریقت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی سے اجازت وخلافت تھی۔


ایوارڈ[ترمیم]

سنہ 2008ء میں مولانا کو عربی میں صدر جمہوریہ ایوارڈ بھی ملا۔[2]

وفات[ترمیم]

ایک طویل علالت کے بعد بروز جمعہ (21 جمادی الاول 1441ء) 17 جنوری 2020ء عصر کے وقت لکھنؤ میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]