مندرجات کا رخ کریں

محمد بن سلیمان کاتب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محمد بن سلیمان کاتب
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 9ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 10ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت دولت عباسیہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد بن سلیمان کاتب ایک عباسی فوجی کمانڈر اور پہلے عباسی گورنر تھے جنھوں نے طولونی سلطنت کے سقوط کے بعد مصر پر عباسی حکومت کا دوبارہ قبضہ کروایا۔ انھوں نے شہر قطائع میں داخل ہو کر اُسے نذرِ آتش کر دیا، یوں مصر ایک بار پھر خلافت عباسیہ کے ماتحت آ گیا۔ اس کے بعد عباسی خلیفہ نے انھیں مصر کا والی مقرر کیا۔

سیرت

[ترمیم]

محمد بن سلیمان ابتدا میں طولونی کمانڈر لؤلؤ کے کاتب (سیکریٹری) تھے، جو الرّقہ میں مصر کے امیر احمد بن طولون کی جانب سے شمالی شام پر حکمران تھا۔ سنہ 882ء میں جب لؤلؤ نے عباسی شہزادہ الموفّق باللہ کے ہاتھ بیعت کر لی، تو محمد بھی اس کے ساتھ دار الخلافہ بغداد آ گیا اور عباسی دربار میں کاتب مقرر ہوا۔[1] [2]

سنہ 891ء میں مؤرخ طبری کے مطابق وہ وزیر ابو صقر اسماعیل بن بلبل کا کاتب تھا، جو خلیفہ المعتمد کو اقتدار دلانے کی ناکام کوشش میں شامل تھا۔ اس بغاوت کے ناکام ہونے پر بغداد کے عوام نے محمد کا گھر جلا دیا۔[3] تاہم 896ء میں محمد عباسی فوج کا کمانڈر بن چکا تھا اور اسے ان افسران کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری دی گئی تھی جو طولونیوں سے منحرف ہو کر بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، ان کا ہدف نیا طولونی امیر جیّش بن خمارویہ تھا۔[4][5]

قرامطہ کے خلاف معرکہ

[ترمیم]

سنہ 903ء میں محمد عباسی لشکر کے کمانڈر اور دیوانِ عسکر (فوجی محکمے) کے سربراہ بنے اور انھیں قرامطہ کے خلاف جنگ کی ذمہ داری دی گئی۔ قرامطہ ایک انتہاپسند اسماعیلی فرقہ تھا، جو 874ء میں کوفہ میں قائم ہوا اور ابو سعید جنابی کی قیادت میں 899ء میں بحرین پر قابض ہو گیا۔ انھوں نے عباسی اور طولونی علاقوں پر کئی حملے کیے، حتیٰ کہ دمشق کا محاصرہ بھی کیا۔[6][7]

چونکہ طولونی حکومت انھیں روکنے میں ناکام ہو چکی تھی، اس لیے عباسی خلیفہ المکتفی نے خود فوجی مہم کی قیادت کا اعلان کیا، مگر وہ رقہ میں مقیم رہے جبکہ محمد میدانِ جنگ میں اصل قیادت سنبھالے ہوئے تھا۔ 29 نومبر 903ء کو حماۃ سے 24 کلومیٹر دور محمد نے قرامطہ کو زبردست شکست دی، ان کا لشکر منتشر ہوا اور ان کے کئی سردار گرفتار کیے گئے۔[8]

فتح کے بعد، محمد رقہ میں قرامطہ کے باقی ماندہ عناصر کی سرکوبی کرتا رہا، پھر فاتحانہ انداز میں بغداد واپس آیا جہاں 2 فروری 904ء کو داخل ہوا۔ 11 دن بعد اس نے بغداد میں قرامطہ کے سرداروں کو عوام کے سامنے پولیس چیف احمد بن محمد واقی کے ساتھ قتل کرایا۔ 19 مئی کو خلیفہ نے اسے خلعتِ فاخرہ دے کر نوازا۔[9][10]

مصر کی مہم

[ترمیم]

24 مئی 904ء کو محمد 10 ہزار فوج کے ساتھ مصر کی مہم پر روانہ ہوا، جیسا کہ طبری نے ذکر کیا۔ اس مہم کی مدد کے لیے کیلیکیہ کے گورنر دامیان طرسوسی کا بیڑا دریائے نیل پر اتارا گیا، جس نے طولونی افواج کی کمک اور رسد روک دی۔ طولونی حکومت پہلے ہی داخلی خلفشار، نسلی تنازعات اور قرامطہ کے حملوں سے کمزور ہو چکی تھی اور کئی فوجی افسر بشمول بدر ہمامی عباسیوں سے آ ملے۔[11][11][12]

دسمبر 904ء میں، طولونی امیر ہَارون بن خمارویہ کو اس کے چچاؤں علی اور شیبان نے قتل کر دیا۔ شیبان نے اقتدار سنبھالا مگر یہ قتل مزید افسران کے عباسیوں سے انضمام کا باعث بنا۔ والی دمشق طوج بن جف بھی عباسیوں سے مل گیا۔ جنوری 905ء میں محمد کی فوج فسطاط پہنچی، طولونی دارالحکومت نے بغیر مزاحمت ہتھیار ڈال دیے۔ عباسیوں نے طولونی دار الحکومت قطائع کو تباہ کر دیا، سوائے مسجد ابن طولون کے۔ طولونی خاندان کے افراد اور امرا کو قیدی بنا کر بغداد بھیج دیا گیا اور ان کی جائداد ضبط کر لی گئی۔[13] [14][15]

بعد ازاں انجام

[ترمیم]

محمد بن سلیمان نے مصر چھوڑ کر گورنری عیسی نوشری کے سپرد کی اور خود شام لوٹ گیا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس پر فتوحات کی غنیمت میں خیانت (اختلاس) کا الزام لگا، جس پر اسے قید کر دیا گیا۔[16]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Rosenthal 1985, p. 30 (note 159)
  2. Fields 1987, pp. 82, 123–125
  3. Fields 1987, p. 167
  4. Rosenthal 1985, p. 30
  5. Rosenthal 1985, p. 133
  6. Kennedy 2004, pp. 286–287
  7. Bianquis 1998, pp. 106–107
  8. Rosenthal 1985, pp. 134–141
  9. Rosenthal 1985, pp. 141–144
  10. Rosenthal 1985, p. 146
  11. ^ ا ب Rosenthal 1985, p. 151
  12. Kennedy 2004, pp. 184–185
  13. Kennedy 2004, p. 185
  14. Bianquis 1998, p. 108
  15. Bianquis 1998, pp. 108, 110
  16. Rosenthal 1985, pp. 151–152

کتابیات

[ترمیم]
  • {{The Cambridge History of Egypt volume = 1 chapter = Autonomous Egypt from Ibn Ṭūlūn to Kāfūr 868–969 first = Thierry last = Bianquis authorlink = Thierry Bianquis pages = 86–119 chapter-url = https://books.google.com/books?id=y3FtXpB_tqMC&pg=PA86 }}
  • Philip M. Fields, ed. (1987). The History of al-Ṭabarī, Volume XXXVII: The ʿAbbāsid Recovery: The War Against the Zanj Ends, A.D. 879–893/A.H. 266–279. SUNY Series in Near Eastern Studies. (بزبان انگریزی). Albany, New York: State University of New York Press. ISBN:978-0-88706-054-0.
  • Hugh Kennedy (2004). The Prophet and the Age of the Caliphates: The Islamic Near East from the 6th to the 11th Century (بزبان انگریزی) (Second ed.). Harlow: Longman. ISBN:978-0-582-40525-7.
  • Franz Rosenthal, ed. (1985). The History of al-Ṭabarī, Volume XXXVIII: The Return of the Caliphate to Baghdad: The Caliphates of al-Muʿtaḍid, al-Muktafī and al-Muqtadir, A.D. 892–915/A.H. 279–302. SUNY Series in Near Eastern Studies. (بزبان انگریزی). Albany, New York: State University of New York Press. ISBN:978-0-87395-876-9.