محمد بن عبد اللہ فیروز
| علامہ ، شیخ | |
|---|---|
| محمد بن عبد اللہ الاحسائی | |
| (عربی میں: محمد بن عبد الله الفيروز) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 10 اکتوبر 1729ء |
| وفات | 13 مئی 1801ء (72 سال) بصرہ |
| مدفن | مزار و مسجد زبیر بن عوام |
| رہائش | بصرہ |
| شہریت | |
| مذہب | اسلام [1]، اہل سنت [1] |
| عارضہ | اندھا پن (1732–1801) |
| والد | عبد الله بن محمد فيروز |
| عملی زندگی | |
| استاذ | عبد الله بن محمد فيروز ، محمد حیات سندھی ، محمد بن عبد الرحمن عفالقی |
| تلمیذ خاص | سیف عتیقی ، عثمان بن جامع |
| پیشہ | عالم ، فقیہ ، معلم |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی |
| درستی - ترمیم | |
'محمد بن عبد اللہ بن محمد الفیروز التمیمی نجدی الاحسائی (ولادت: 10 اکتوبر 1729ء [2] - وفات: 13 مئی 1801ء) (ولادت: 18 ربیع الاول 1142ھ - وفات: 1 محرم 1216ھ) حنبلی عالم دین تھے۔ عبد الله بن محمد فيروز آپ کے والد تھے۔ آپ کا تعلق عرب کے معروف علمی و مذہبی خانوادے ’’آلِ فَیروز‘‘ سے تھا، جو نجد اور احساء کے علاقوں میں فقہِ حنبلی، اصولِ فقہ اور ریاضی و منطق کی تدریس میں شہرت رکھتا تھا۔ محمد الفیروز اپنے زمانے کے معتبر فقہا میں شمار ہوتے تھے اور ان کی علمی سرگرمیاں نجدی معاشرے میں خاص اثر رکھتی تھیں۔
محمد الفیروز نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور خاندان کے دیگر علما سے حاصل کی۔ کم عمری میں ہی فقہ، حدیث اور اس کے اصولوں پر گہری مہارت پیدا کرلی۔ ریاضی اور علم الحساب میں بھی انھیں غیر معمولی دسترس حاصل تھی، جس کا ثبوت ان کی مشہور کتاب ’’هداية طلاب قوانين الحساب‘‘ ہے، جسے اس زمانے کے مدارس میں نصاب کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ آپ کو منطق اور علمِ کلام میں بھی دلچسپی تھی اور آپ نے ایک وقت میں احساء، بصرہ اور نجد کے درمیان سفر کر کے متعدد اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔
ان کے دور میں نجد میں محمد بن عبد الوہاب کی تحریک زور و شور سے پھیل رہی تھی۔ محمد الفیروز کا علمی مقام ایسا تھا کہ وہ اس تحریک کے بعض نظریاتی نکات پر علمی اختلاف رائے رکھتے تھے۔ خاص طور پر تکفیر اور بعض عملی امور میں ان کا نقطہ نظر نسبتاً محتاط اور فقہی اصولوں کے ساتھ منسلک تھا۔ اسی پس منظر میں انھوں نے ’’الرسالة المرضية في الرد على الوهابية‘‘ جیسی تصنیف لکھی، جس میں انھوں نے اپنے بھائی اور دیگر علما کے ہمراہ وہابی تحریک کے بعض فتاویٰ اور تعبیرات پر علمی نقد پیش کیا۔ ان کا یہ اختلاف سیاسی نوعیت کا نہیں بلکہ علمی و فقہی نوعیت کا تھا، جس میں وہ اہلِ نجد کے عمومی مذہبی رویّے اور فقہی ورثے کو ملحوظ رکھتے تھے۔[3]
محمد الفیروز کو تدریس سے گہری وابستگی تھی۔ انھوں نے متعدد شاگرد تیار کیے جو بعد میں نجد اور احساء کے مدارس میں درس و تدریس کے منصب پر فائز ہوئے۔ ان کی مجلس میں فقہِ حنبلی کے دقیق مسائل، حساب کے پیچیدہ قواعد اور کلامی مباحث زیرِ بحث رہتے تھے۔ ان کی شخصیت متانت، علمی تحمل اور مناظرانہ وقار کے حوالے سے مشہور تھی۔ روایات کے مطابق وہ سخت لہجے سے گریز کرتے اور علمی گفتگو کو اصولی دلائل کے ساتھ آگے بڑھاتے تھے۔
آپ کی زندگی میں احساء اور نجد کے سیاسی حالات کچھ پیچیدہ تھے۔ قبیلوں کی باہمی کشمکش، فکری تحریکوں کا ظہور اور عثمانی و مقامی امارات کے درمیان کشیدگی نے علمی فضا پر بھی اثر ڈالا۔ ان حالات میں محمد الفیروز نے اپنی تدریس اور علمی تصانیف کو جاری رکھا اور اپنے خاندان کی علمی روایت کو مضبوطی سے قائم رکھا۔ ان کی وفات 1216ھ میں ہوئی اور انھیں احساء میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ان کے علمی ورثے میں فقہ، عقائد، منطق اور حساب سے متعلق تحریریں شامل ہیں، جنھیں آج بھی حنبلی مراجع میں حوالہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
تصانیف
[ترمیم]- ينسب له الرسالة المرضية في الرد على الوهابية
- الرد على من كفر أهل الرياض ومن حولها من المسلمين
- هداية طلاب قوانين الحساب الي معالم علم الحساب
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ ISBN 9786030091676
- ↑ https://twitter.com/algriry/status/1047197988345581569/photo/2 آرکائیو شدہ 2020-11-25 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ Abdullah bin Saleh Al-Othaim, Scholars of Najd and their Works, Riyadh, 1998.