محمد بن منکدر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن منکدر
معلومات شخصیت

حمد بن منکدرؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

محمد نام،ابو عبداللہ کنیت،نسب نامہ یہ ہے محمد بن منکدر بن عبداللہ بن ہدایہ بن عبدالعزی ابن عامر بن حارث بن حارثہ بن سعد بن تیم بن مرہ تیمی قرشی مدنی۔

فضل وکمال[ترمیم]

محمد بن منکدر فضل وکمال اورزہد وتقوی میں نہایت بلند پایہ رکھتے تھے،حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ ان کی ثقاہت اور علمی وعملی برتری پر سب کا اتفاق ہے اوران کے نام کے ساتھ امام اورشیخ الاسلام لکھتے ہیں،[1] حافظ ابن حجر ائمہ اعلام میں لکھتے ہیں۔ [2]

قرأت[ترمیم]

قرآن کے ممتاز قاری تھے،امام مالک انہیں سید القراء کہتے تھے۔ [3]

حدیث[ترمیم]

حدیث کے بڑے نامور حافظ تھے،حافظ ذہبی امامِ وقت کے لقب سے یاد کرتے ہیں، حدیث میں انہوں نے صحابہ اورتابعین کی ایک بڑی جماعت سے فیض اٹھایا تھا،صحابہ کرام میں ابو ایوب انصاریؓ،انس بن مالکؓ،جابرؓ،ابو امامہ بن سہلؓ،ربیعہ بن عبداللہ،عبداللہ ابن عمرؓ،عبداللہ بن عباسؓ،عبداللہ بن زبیرؓ،ابوقتادہؓ،سفینہؓ اورعائشہ صدیقہؓ اورتابعین میں سعید بن مسیب،عبیداللہ بن رافع عروہ بن زبیر معاذ بن عبدالرحمن تمیمی سعید بن عبدالرحمن بن یربوع اورابوبکر بن سلیمان سے روایتیں کی ہیں۔

صحابہ میں بعض بزرگوں سے ان کی روایت مرسل ہیں،لیکن علماء کے نزدیک ان کی مرسلات دوسروں کی مرفوع روایت سے زیادہ لائق اعتماد ہیں، ابن عینیہ کا بیان ہے کہ وہ صدق کی کان تھے،صلحاء ان کے پاس جمع ہوتے تھے،میں نے انکے سوا کسی کو اس کا اہل نہیں دیکھاکہ وہ قال رسول اللہ کہے اوربے چون وچرا مان لیا جائے [4]ابراہیم کہتے تھے کہ وہ حفظ،اتقان اورزہد کے انتہائی درجہ پر تھے اورحجۃ تھے۔ [5]

تلامذہ[ترمیم]

جن لوگوں نے ان سے سماع حدیث کیا تھا ان میں ان کے صاحبزادے یوسف اور منکدر اور بھتیجے ابراہیم اور عبدالرحمن اور عام مستفیدین میں عمرو بن دینار، امام زہری ،ایوب ،انس بن عبید، سلمہ بن دینار،جعفر بن محمد صادق،محمد بن واسع ،سعد بن ابراہیم،سہیل بن ابی صالح ابن جریج،علی بن زید،موسیٰ بن عقبہؒ ہشام بن عروہ اور یحییٰ بن سعید انصاری وغیرہ لائق ذکر ہیں۔ [6]

فقہ[ترمیم]

فقہ وفتویٰ میں بھی پورا ادرک تھا،مدینۃ الرسول کے صاحب افتا تابعین میں ان کا شمار تھا۔ [7]

زہد وورع[ترمیم]

زہد وتقویٰ کا رنگ بہت گہرا تھا اپنے نفس کی اصلاح کے لیے وہ بڑی سخت ریاضتیں کرتے تھے،مسلسل چالیس سال تک نفس پر ہر طرح کی سختیاں جھیلیں [8]امام مالکؒ فرماتے تھے کہ وہ عابد وزاہد ترین لوگوں میں تھے،ابن عماد حنبلی لکھتے ہیں کہ ان کاگھر صلحاء اورعبادکا ماویٰ و مخزن تھا۔ [9]

رقت قلب واثر پذیری[ترمیم]

ان کے دل میں اتنا گداز تھا کہ کلام اللہ کی مؤثر آیات پڑھ کر بے اختیار آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے، ایک شب کو تہجد میں بہت روئے ،صبح کو ان کے بھائیوں نے سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس آیت پر گریہ طاری ہواتھا۔ وَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [10] ان لوگوں کے لیے خدا کی جانب سے ایسی چیز ظاہر ہوگی جس کا وہم وگمان بھی نہ کرتے تھے۔ حدیثوں سے تاثر کا بھی یہی حال تھا،امام مالک کا بیان ہے کہ جب ان سے کوئی حدیث پوچھی جاتی تو وہ رونے لگتے تھے۔ [11]

حج کا ذوق[ترمیم]

حج کا اتنا ذوق وشوق تھا کہ مقروض ہونے کی حالت میں بھی حج کرتے تھے کسی نے اعتراض کیا کہ آپ قرض کا بار ہوتے ہوئے حج کرتے ہیں،فرمایا حج خود ہی قرض کی ادائیگی میں سب سے بڑا معین و مددگار ہے،جب حج کو جاتے تھے تو تنہا نہ جاتے ؛بلکہ عورتوں اوربچوں سب کو ساتھ لے جاتے ، کسی نے اس کے بارہ میں کہا،فرمایا ان کو خدا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔

ان کی زندگی کا اثر دوسروں پر[ترمیم]

ان کے دیکھنے سے نفس کی اصلاح ہوتی تھی،امام مالک کا بیان ہے کہ جب میں اپنے قلب میں قساوت محسوس کرتا تھا،توجاکر ابن منکدر کو دیکھتا تھا،اس کا یہ اثر ہوتا تھا کہ چند دنوں تک نفس میری نگاہ میں مبغوض ہوجاتا تھا۔

بہترین عمل اوربہترین دنیا[ترمیم]

کسی نے ان سے پوچھا،آپ کے نزدیک سب سے افضل کون شے ہے،فرمایا مسلمانوں کو خوش کرنا،پوچھا سب سے پسندیدہ دنیا کون ہے،جواب دیا دوستوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ [12]

وفات[ترمیم]

۱۳۰ میں وفات پائی،عالم احتضار میں سخت رقت طاری ہوئی فرمایا مجھے اس آیتوَبَدَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [13] سے خوف ہے کہ مبادا میرے لیے بھی خدا کی جانب سے ایسی شے ظاہر ہو جو میرے وہم وگمان میں نہ ہو۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تہذیب :۹/۴۷۳)
  2. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۱۳)
  3. (تہذیب:۹/۴۷۳)
  4. (تہذیب التہذیب:۱۰/۲۷۴)
  5. (ایضاً:۴۷۵)
  6. (ایضاً:۴۷۴)
  7. (اعلام الموقعین:۱/۲۶)
  8. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۱۴)
  9. (شذرات الذہب :۱/۱۷۸)
  10. (الزمر:۴۷)
  11. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۱۴)
  12. (ایضاً)
  13. (الزمر:۴۷)