محمد بن نصر مروزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد بن نصر مروزی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 818  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 906 (87–88 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سمرقند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

محمد بن نصر مروزی (پیدائش: 202ھ/818ء– وفات: 906ء) امام بخاری کے تلامذۃ میں سے تھے۔ آپ کے علاوہ اسحاق بن راہویہ،یحییٰ بن یحییٰ، یزید بن صالح، ہشام بن عمار، صدقہ بن الفضل سے شرف تلمذ حاصل ہے۔ فقاہت کے ساتھ آثار صحابہ، مذآہب صحابہ و تابعین کے جامع تھے۔

ولادت[ترمیم]

202ھ میں پیدا ہوئے۔

فقاہت[ترمیم]

فقاہت اور آثار صحابہ کی جامعیت وجہ سے جب محمد بن یحییٰ ذہلی سے کائی مسئلہ پوچھا جاتا اور محمد بن نصڑ وہاں موجود ہوتے، تو ان کی طرف اشارہ کرتے حالانکہ وہ بڑے پایہ کے شیخ ہیں۔

واقعہ طالب علمی[ترمیم]

حافظ ذہبی نے محمد بن نصر اور ابن خزیمہ کے سفر طالب علمی کا ایک واقعہ باسند نقل کیا ہے کہ محمد بن جریر طبری، محمد بن نصر، محمد بن اسحٰق بن خزیمہاور محمد بن ہارون الرومانی مصر میں کتابت حدیث کے لیے ایک مکان میں جمع تھے۔ خرچ ختم ہو گیا، فاقہ کی نوبت پہنچی، جب فاقہ سے پریشان ہو گئے اور سوال کرنا حلال ہو گیا تو باہم مشورہ کیا گیا کہ سوال کرنا چاہیے، سوال کی ممانعت حدیثوں میں سخت آئی ہے۔ پر ایک نے دوسرے ہر ٹالا، یہاں تک کہ قرعہ کی نوبت آئی تو قرعہ محمد بن اسحٰق بن خزیمہ کے نام نکلا۔ مجبو رہوئے تو کہا کہ مجھے اس قدر مہلت دو کہ میں وضو کر کے استخارہ کی نماز پڑھ لوں، نماز میں تھے کہ کسی نے دروازہ کھٹ کٹایا۔ دروازہ کھولا تو دیکھا کہ والی مصر کے خواجہ سرا لالٹینیں لیے ہوئے موجود ہیں۔ واری سے اتر کو پوچھا کہ محمد بن نصڑ کون ے۔ لوگوں نے باتا یا تو اس نے پچاس اشرفیوں کی ایک تھیلی حوالہ کی، اس طرح ہر ایک کو پکارتا گیا اور دیتا گیا۔ پھر کہا کہ کل والی مصر سویا ہواتھا، بیدار ہوا تو کہتا ہے کہ میں نے ابھی خواب دیکھا ہے کہ محمد یون سخت بھوکے ہیں۔ اس لیے اس نے سر دست اس قدر بھیجے ہیں اور قسم دی ہے کہ جب خرچ ختم ہو جائے کسی کو بھیج دو۔[1]

وفات[ترمیم]

294ھ میں بمقام سمرقند وفات پائی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب تذکرۃ الحفاظ