محمد بہجت اثری
| محمد بہجت اثری | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| تاریخ پیدائش | سنہ 1904ء |
| تاریخ وفات | 31 مارچ 1996ء (91–92 سال)[1] |
| شہریت | |
| رکن | عرب اکیڈمی دمش |
| عملی زندگی | |
| استاذ | علی علاء الدین آلوسی ، محمود شکری آلوسی |
| پیشہ | خطاط ، مصنف |
| درستی - ترمیم | |
محمد بہجت اثری (1904ء–1996ء) ایک عراقی لغوی، مؤرخ اور محقق تھے اور شیخ محمود شکری آلوسی کے شاگردوں میں سے تھے۔[2]
نسب
[ترمیم]محمد بہجت اثری، محمد افندی بن عبد القادر بن احمد بن محمود بکری کے بیٹے تھے۔ ان کی پیدائش اور پرورش بغداد میں ہوئی۔ ان کا خاندان تجارت کے حوالے سے معروف تھا اور عراق میں ان کی بہت سی جائیدادیں تھیں۔ ان کے جد اعلیٰ دیار بکر (ترکی کا ایک علاقہ) سے اربیل آئے اور پھر بغداد منتقل ہو گئے۔ ان کے دادا حاج احمد نے قبیلہ قیس سے تعلق رکھنے والے ایک بغدادی خاندان میں شادی کی۔[3][4]
ان کی والدہ کا نام زینب تھا، جو کُرکُوک کی ترکمانی اصل خاتون تھیں۔ محمد بہجت نے اپنی مادری زبان عربی کے ساتھ ترکی زبان بھی اپنی والدہ سے سیکھی۔[5]
"اثری" کہلانے کی وجہ
[ترمیم]ایک مرتبہ محمد بہجت اپنے استاد علی علاء الدین آلوسی کے پاس کتاب "مراقی الفلاح" پڑھ رہے تھے۔ محمد بہجت کو یہ کتاب پسند نہ آئی، چنانچہ انھوں نے استاد سے گزارش کی کہ وہ انھیں یہ کتاب نہ پڑھائیں۔
استاد نے پوچھا: "پھر تم کیا پڑھنا چاہتے ہو؟" محمد بہجت نے جواب دیا: "میں اسلامی فقہ حقیقی کو جاننا چاہتا ہوں۔" تو استاد نے فرمایا: "پھر تم اثری ہو۔" محمد بہجت نے پوچھا: "اثری کا مطلب کیا ہوتا ہے؟" استاد نے وضاحت کی: "اثری وہ ہوتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم کی پیروی کرے، قولاً اور فعلاً۔" یہ لفظ محمد بہجت کو بہت پسند آیا اور تب سے انھوں نے "اثری" کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا۔[6]
تعلیم و اساتذہ سے اجازتیں
[ترمیم]محمد بہجت اثری عراق کے اُن جلیل القدر علما میں سے تھے جنھوں نے اپنے علم و ادب کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ انھوں نے علمی، ادبی اور خطاطی کی اجازتیں معروف علما شیخ محمود شکری آلوسی (وفات: 1923ء) اور شیخ قاضی علی علاء الدین آلوسی (وفات: 1921ء) سے حاصل کیں۔ انھوں نے اپنے زمانے کے بغداد کے جید علما سے بھی تعلیم حاصل کی۔ ان پر علامہ نعمان الآلوسی (وفات: 1899ء) کا بھی گہرا اثر تھا۔
فنِ خطاطی
[ترمیم]آپ نستعلیق خط کے ماہر تھے اور آپ کی خوشخطی اپنے استاد محمود شکری آلوسی کے خط سے مشابہ تھی۔ ان کا خط عربی رسم و ضبط میں بڑا دقیق اور منظم تھا۔ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی کتابوں کے نمونے آج بھی مجمع علمی عراقی میں موجود ہیں۔ انھوں نے اپنے اور اپنے اساتذہ کے لیے بے شمار کتابیں خطاطی سے لکھی ہیں۔[7]
شعری ذوق اور کتب خانہ
[ترمیم]محمد بہجت اثری شاعری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے دو ضخیم دیوان ہیں جن میں بلند پایہ قصائد شامل ہیں۔ انھوں نے ایک عظیم الشان ذاتی کتب خانہ بھی قائم کیا، جو آج بغداد کی بڑی نجی لائبریریوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس میں کئی علمی و ادبی مخطوطات محفوظ ہیں، جن کی اکثریت ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔
اہم تصانیف
[ترمیم]ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً پچیس ہے، جن میں سے چند نمایاں یہ ہیں:
- أعلام العراق (عراق کے مشاہیر کی سوانح)
- المجمل في تاريخ الأدب العربي
- الموفق في التاريخ العربي
- مهذب تاريخ مساجد بغداد وآثارها
- مأساة الشاعر وضاح اليمن
- الاتجاهات الحديثة في الإسلام
- محمود شكري الآلوسي: حياته وآراؤه اللغوية
- الظواهر الكونية في القرآن
- محمد بن عبد الوهاب: داعية التوحيد والتجديد في العصر الحديث
مناصب
[ترمیم]- بغداد میں مدیرِ اوقاف [8]
- رئیس: مجمع علمی عراقی
- رکن: مجمع اللغہ العربیہ (دمشق، قاہرہ، اردن)
اعزازات
[ترمیم]- جائزۂ شاہ فیصل برائے ادب عربی (1986ء/1406ھ)
- جائزۂ صدام حسین عالمی ایوارڈ
وفات
[ترمیم]محمد بہجت اثری کا انتقال 1416ھ / 1996ء میں بغداد میں ہوا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb150810551 — اخذ شدہ بتاریخ: 19 جون 2024 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
- ↑ مجلة الفيصل - العدد 235 - لسنة 1996 آرکائیو شدہ 2019-07-10 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ شخصية محمد بهجة الاثري..من شعره د. حسام محيي الدين الآلوسي - 2010/11/10 -ملاحق المدى
- ↑ اصل العائلة من ديار بكر بن وائل واستقرت في قلعة اربيل واليها نسب ثم امت بغداد قرب المستنصرية ولها املاك هناك، وامتدت تجارتها بالخيل إلى الهند. انظر المصدر السابق
- ↑ الاستاذ العلامة محمد بهجت الأثري.. تجديد الدين وتهذيب التراث :: التاريخ : 25/10/2014 الكاتب : وديع العبيدي
- ↑ يوسف عز الدين (2000/07/01)۔ "الأستاذ محمد بهجة الأثري"۔ المجمع العلمي العراقي۔ بغداد۔ 1 نوفمبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020/11/01
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=،|تاریخ=، و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ ابراہیم دروبی؛ إبراهيم الدروبي (1958)، البغداديون أخبارهم ومجالسهم (بزبان عربی) (1 ایڈیشن)، بغداد: Ar-Rabitta Press، ص 280، QID: Q126210224
- ↑ ديوان الوقف السني
- 1904ء کی پیدائشیں
- 1996ء کی وفیات
- 31 مارچ کی وفیات
- عراقی ترکمان شخصیات
- ترک نژاد کی عراقی شخصیات
- عراقی ماہرین لسانیات
- عراقی مصنفین
- عرب مصنفین
- اکیسویں صدی کے عراقی مصنفین
- عراقی فقہاء
- عراقی سنی علماء اسلام
- بیسویں صدی کے عراقی شعرا
- عرب علماء
- عراقی خطاط
- بغداد کی شخصیات
- وصول کنندگان بین الاقوامی شاہ فیصل اعزاز برائے عربی زبان و ادب
- 1416ھ کی وفیات
- 1322ھ کی پیدائشیں
