محمد حامد انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد حامد انصاری
(انگریزی میں: Mohammad Hamid Ansari)،(ہندی میں: मोहम्मद हामिद अंसारी خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Hamid ansari.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اپریل 1937 (82 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت آزاد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
نائب صدر بھارت   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
11 اگست 2007  – 10 اگست 2017 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png بھیروں سنگھ شیکھاوت 
ایم وینکائیا نائیڈو  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی کلکتہ یونیورسٹی
جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سفارت کار،  سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

محمد حامد انصاری (جنم 1 اپریل 1937) بھارت کے بارہویں اور موجودہ نائب صدر رہے۔ نیشل مائنورٹیز کمیشن کے ماضی چیرمین ہیں۔[2] یہ ایک ماہر تعلیمات، مشیر اور علیگڑھ یونی ورسٹی کے ماضی وائس چانسلر ہیں۔

ان کا انتخاب بھارت کے 12ویں نائب صدر کی حیثیت سے 10 اگست 2007 کو ہوا اور 11 اگست 2007 کو انہوں نے اپنا دفتر سنبھالا۔

ذاتی زندگی[ترمیم]

انصاری 1 اپریل 1937 کو کولکاتا، بنگال پریزیڈنسی (موجودہ کولکاتا، مغربی بنگال) عبد العزیز انصاری اور عائشہ بیگم کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی گھر ریاست اتر پردیش کے شہر غازی پور میں ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی سال کولکاتا میں گزارے۔ وہ انڈین نیشنل کانگرس کے سابق صدر اور مجاہد آزادی مختار احمد انصاری کے رشتے دار ہیں۔[3] وہ اترپردیشی سیاست دان مختار انصاری، افضل انصاری اور صبغت اللہ انصاری کے بھی رشتے دار ہیں۔[4] انصاری نے اسکول کی تعلیم شملہ کے سینٹ ایڈورڈ اسکول سے حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انہوں نے علامۂِ فلسفہ یا فلسفے میں ڈاکٹریٹ اور ماسٹر آف آرٹس کی ڈگریاں حاصل کیں۔[5] انہوں نے سلمیٰ انصاری نامی خاتون سے شادی کی۔ اُن کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے۔[6]

خدمات[ترمیم]

حامد انصاری مغربی ایشیا کے معاملات کے ماہر ہیں۔ وہ انڈین فارن سروس میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ متحدہ عرب امارات، افغانستان، پاکستان اور سعودی عرب میں انڈیا کے سفیر اور آسٹریلیا میں بطور ہائی کمشنرخدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ وہ اقوام متحد میں بھی انڈیا کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں۔ وہ دو ہزار چھ میں کشمیر گول میز کانفرنس اور ملک میں مختلف برادریوں کے درمیان میں اعتماد سازی میں بھی اہم کردار ادا کر چکےہیں۔ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر اور قومی اقلیتی کمیشن کے چیرمین کے عہدے پر بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

نوٹس[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Mohammad-Hamid-Ansari — بنام: Mohammad Hamid Ansari — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. Hamid Ansari set to be India’s next Vice President۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 14، 2007
  3. "Who is Mohammed Hamid Ansari?"۔ NDTV۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2018۔
  4. "3 brothers, 5 seats, jail: no getting away from the Ansaris of Poorvanchal"۔ Indian Express۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2018۔
  5. "Hamid Ansari sworn in as vice-president"۔ DNA India۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2018۔
  6. "Sh. M. Hamid Ansari"۔ Vice President of India۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 جنوری 2018۔

بیرونی روابط[ترمیم]