محمد حبیب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد حبیب
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1895  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 1971 (75–76 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ
نیو کالج
جامعہ الٰہ آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مؤرخ
عوامی صحت سے متعلق پیشہ ور
ماہر تعلیم
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
وجہ شہرت برادری کی خدمت اور وکالت

یہ ہندوستان کے قرون وسطٰی کے مارکسی مؤرخ تھے۔[3] بھارت کی آزادی کے سال یعنی 1947ء میں انہوں نے انڈین ہسٹری کانگریس سے خطاب کیے تھے۔[4] وہ پہلے پروفیسر، پھر ایمیریٹس رہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

حبیب محمد نسیم کے بیٹے تھے جو لکھنؤ میں پیرسٹر تھے۔ ان کی بیوی سہیلہ طیب جی عباس طیب جی کی بیٹی تھی جو مہاتما گاندھی کے خاص چیلے تھے۔[5] ان کے بیٹے ہیں کمال حبیب اور عرفان حبیب، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ایمیریٹس تھے۔[6][7]

حبیب کی تعلیم ایم اے او اسکول اور کالج میں ہوئی (اب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ اختیار کر چکا ہے)۔ وہ 1916ء میں الہ آباد یونیورسٹی کے بی اے امتحانات میں اول رہے۔ اس وقت محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کا الحاق الٰہ آباد یونیورسٹی سے تھا۔ اس کے بعد وہ نیو کالج، آکسفورڈ کا رخ اعلٰی تعلیم کے لیے کیے تھے۔ وہ ایک میعاد کے لیے آکسفورڈ مجلس کے صدر رہے۔[8]

آکسفورڈ کے دور میں ہی حبیب قومیت کے جذبے سے سرشار ہوئے۔ آزاد ذہنی معلم ارنیسٹ بارکر، سروجنی نائیڈو سے ایک ملاقات اور مولانا محمد علی کی سرپرستی، جو ان کے انگلستان میں قیام کے دوران لندن آئے تھے، یہ عوامل تھے جنہوں نے ان کے افکار کو ایک سمت میں گامزن کیا۔ یہی مولانا محمد علی کی دعوت پر وہ ہندوستان لوٹ آئے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تدریسی خدمات انجام دینے لگے مگر غالبًا وہ باضابطہ عملے کا حصہ نہیں بنے۔ تحریک عدم تعاون کے اختتام کے بعد 1922ء میں وہ ریڈر کے عہدے پر برسرخدمت ہوئے۔ تقریبًا اسی سے متصلہ دور میں وہ پروفیسر بنے۔ یہ ملازمت بازتسمیہ شدہ علی گڑھ ملسم یونیورسٹی میں تھی۔[8]

کریئر[ترمیم]

1926ء میں حبیب اتر پردیش ودھان پریشد کا انتخاب سوراجی (سوراج پارٹی) کے پر لڑ کر منتخب ہوئے۔ اس کے فوری بعد وہ جواہر لال نہرو کے مداح بن گئے۔ وہ اپنی آمدنی کا بیش بہا حصہ کانگریس پارٹی کو عطیہ کے طور پر دیے تھے۔[حوالہ درکار]

علی گڑھ میں حبیب نے اپنی چھاپ کئی طریقوں سے چھوڑی۔ ایک ماہر تعلیم کے طور پر انہوں نے اصل مصادر پر مبنی تاریخ لکھنے پر زور دیتے رہے۔ وہ آلِ سلطانی اور سیاسی حکم رانی سے زیادہ تاریخ کو کئی اور زاویوں سے مطالعہ کرنے پر زور دیتے رہے۔ انہوں نے خود سماجی اور ثقافتی تاریخ پر لکھا تھا اور کافی عرق ریزی سے مسلمان صوفیا کی تاریخ کو کھوج نکالا، جن میں سے کچھ کو تو وہ شخصی طور تعظیم کرتے تھے۔

اپنی زندگی کے چالیسویں سال میں ان کی دل چسپی مارکسیت کے ساتھ بڑھ گئی اور 1952ء میں انہوں نے ایک قابل ذکر تحریر پیش کی، جو ان ایلیٹ اور ڈاسن کی دی ہسٹری آف انڈیا، ایز ٹولڈ بائی ایٹز اون ہسٹورینس کی جلد دوم کی دوسری چھپائی کا دیباچہ پیش کیا، جو قرون وسطٰی کے ہندوستان کا مارکسی خیالات سے متاثر تجزیہ تھا۔ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کے لیے پیرس کا دورہ کیے۔ اس کے بعد وہ پیکنگ کا دورہ 1952ء میں کیے (جو اب بیجنگ ہے)۔ یہ بھارت کی جانب سے اہل عوامی جمہوریہ چین کے لیے پہلا خیر سگالی مشن تھا۔ ان دو دوروں سے حبیب کے اس احساس کو تقویت ملی کہ بھارت کو استعماریت کا مقابلہ کرنے والے ممالک کی مدد کرنا چاہیے۔ وہ اپنی جامعہ کے گلیاروں میں آزادی کے نمائندہ چھوٹے پودوں کو پروان چڑھنے دے رہے تھے۔

مابعد وظیفہ[ترمیم]

حبیب 1958ء میں وظیفہ حسن خدمت پر سبک دوش ہوئے، تاہم وہ اس کے فوری بعد پروفیسر ایمیریٹس کے طور متعین ہوئے۔[حوالہ درکار] 1967ء میں وہ بھارت کے نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے انتخاب کے لیے متحدہ حزب اختلاف کے امیدوار بنے، جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ حکومتی پالیسیوں کے ناقد تھے اور دوسری وجہ یہ کہ وہ صحافی نمائندوں سے مکمل بشاشت سے کہ رہے تھے کہ وہ انتخاب میں شکست سے دوچار ہونے جا رہے ہیں۔[9] وہ 22 جون 1971ء انتقال کر گئے جس کی وجہ ان کی مختصر علالت تھی۔[10]

یادگاریں[ترمیم]

1972ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک نوتعمیرشدہ رہائشی ہال حبیب کے نام سے موسوم کیا گیا۔ محمد حبیب ہال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کئی رہائشی ہالوں میں سے ایک ہے۔ اس کے اندر تین ہاسٹل موجود ہیں: چکراورتی ہاسٹل، عمرالدین ہاسٹل اور حیدر خان ہاسٹل۔[11]

منتخب مطبوعات[ترمیم]

  • Hazrat Amir Khusrau of Delhi. 1st Pakistan ed. Lahore : Islamic Book Service [1979].
  • Hazrat Nizamuddin Auliya: hayat aur talimat.Dihli : Shubah-yi Urdu, Dihli Yunivarsiti, [1972] University of Delhi. Dept. of Urdu. Silsilah-i matbuat-i Shubah-yi Urdu [1970].
  • The political theory of the Delhi sultanate (including a translation of Ziauddin Barani's Fatawa-i Jahandari, ...) Allahabad, Kitab Mahal [1961].
  • Politics and society during the early medieval period: collected works of Professor Mohammad Habib / edited by Khaliq Ahmad Nizami. New Delhi : People's Pub. House [1974–1981].
  • Some aspects of the foundation of the Delhi Sultanat [sic]. Delhi, Dr. K. M. Ashraf Memorial Committee; [sole distributors: Kalamkar Cooperative, 1968] Dr. K. M. Ashraf memorial lecture, 1966
  • Sultan Mahmud of Ghaznin. 2d ed.Delhi, S. Chand [1967].

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12159038h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12159038h — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. Satish Chandra۔ Medieval India: From Sultanat to the Mughals-Delhi Sultanat (1206–1526) – Part One۔ Har-Anand Publications۔ صفحہ 145۔ آئی ایس بی این 978-81-241-1064-5۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. Barbara D. Metcalf؛ Thomas R. Metcalf۔ A Concise History of India۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 303۔ آئی ایس بی این 978-0521682251۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  5. Obituary of Sohaila Habib in The Hindu, December 24, 2002
  6. AMU confers emeritus status on Irfan Habib
  7. Anil Nauriya۔ "Memories of another Gujarat"۔ The Hindu۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 ستمبر 2014۔
  8. ^ ا ب "Mohammad Habib - Aligarh Movement" Retrieved 2015-03-09.
  9. Dr.zakir Hussain:quest for Truth, By Dr. Z. H. Faruqi
  10. Prof. Mohammad Habib
  11. MOHAMMAD HABIB HALL

بیرونی روابط[ترمیم]