محمد حسن جان سرہندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی سرہندی بقیۃ السلف حجۃ الخلف سندھ میں ’’پیر سر ہندی سندھ کا بے تاج بادشاہ ہے۔‘‘ شہرت رکھتے ہیں

ولادت[ترمیم]

خواجہ محمد حسن جان فاروقی مجددی بن خواجہ عبد الرحمن بن شیخ عبد القیوم سر ہندی 6؍شوال،6؍اپریل(1278ھ؍1862ء) کو قندھار میں پیدا ہوئے[1] آپ کا سلسلۂ نسب امام ربانی مجدد الف ثانی تک پہنچتا ہے۔آپ کے والد ماجد حالات کی پراگندگی اور طوائف الملوکی کے سبب 1281ھ؍1865ء میں قندھار سے ارغستان چلے گئے۔جب امیر عبد الرحمن نے خراسان پر تسلط کر قتل و غارت کا بازار گرم کیا تو خواجہ عبد الرحمن نے 1297ھ میں حرمین شریفین کی طرف ہجرت کرنے کے لئے رخت سفر باندھا،سندھ،کراچی اور بمبئی سے ہوتے ہوئے عرب شریف پہنچتے،1300ھ سے 1302ھ تک تین سال مکہ مکرمہ اور طائف میں قیام کیا،بعد ازاں مدینہ طیبہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور ایک سال چار ماہ تک وہیں قیام پذیر رہے۔آپ کے مخلص دوستوں اور خاص طور پر مولانا رحمت اللہ مہاجر مکی نے مشورہ دیا کہ آپ وطن مالوف کو واپس تشریف لے جائیں کیونکہ آپ کے وجود مسعود سے خلق خدا کو فائدہ پہنچے گا۔چنانچہ پانچ سال تک بلا دطیبہ میں رہ کر وطن کو تشریف لے جاتے ہوئے جب سندھ سے گزرے تو معتقدین نے بصد اصرار گزارش کی کہ خراسا ن جانے کی بجائے ہمارے پاس تشریف رکھیں،چنانچہ آپ ٹکہڑ (مضافات حیدر آباد) میں قیام پذیر ہو گئے اور پھر یہیں جان جاں آفرین کے سپرد کی اور کوہ گنجہ کے دامن میں مدفون ہوئے بعد ازاں اولاد امجاد نے ٹند و سائیں داد کو مسکن بنا لیا [2]

تعلیم و تربیت[ترمیم]

خواجہ محمد حسن جان نے قرآن مجید پڑھنے کے بعد قندھا ر میں مولانا باز محمد سے فارسی کی کتابیں پڑھیں۔جب 1297ء میں والد ماجد کے ہمراہ سندھ تشریف لائے تو قصبہ ٹکہڑ میں دوسال تک قیام کے دوران مولانا الحاج لعل محمد متعلوی سے کسب فیض کرتے رہے،بعد ازاں جب مکہ مکرمہ گئے تو مولانا رحمت اللہ مہاجرمکی کے قائم کردہ ’’مدرسہ صولتیہ‘‘ میں تعلیم حاصل کرتے رہے اور بانی مدرسہ کی صحبت سے بھی فیضیاب ہوتے رہے۔اسی مدرسہ میں مولانا حضرت نور سے سراجی پڑھی،1301ھ میں درس حدیث مفتی مکہ مولانا شیخ سید احمد دحلان سے لیا۔والد ماجد سے دیگر کتب کے علاوہ بخاری شریف سبقا پڑھی اور سند فراغت حاصل کی

ابتداء ہی سے آپ کو حفظ قرآن مجید کا بہت شوق تھا۔مکہ مکرمہ میں تعلیم حاصل کرنے،گھر کے تمام کام کاج کرنے،ہر روز عمرہ ادا کرنے اور عبادت و ریاضت کی بے پناہ مصروفیات کے با وجود قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا اور احتیاطاً والد ماجد کو نہ بتایا کہ بے انداز مصروفیات کی بنا پرکہیں ممانعت نہ فرمادیں،والد ماجد کو اس وقت پتہ چلا جب آپ بائیس پارے حفظ کر چکے تھے،اس پر انہوں نے بڑی مسرت کا اظہار فرمایا اور ختم قرآن کے موقع پر وسیع دعوت کا اہتمام فرمایا مولانا محمد حسن علوم دینیہ کو بہت اہمیت دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن و حدیث میں جو فضائل علم وار د ہیں وہ صرف علوم دینیہ سے متعلق ہیں،مساجد اور مدارس دینیہ کی تعمیر و ترقی میں خود بھی حصہ لیتے تھے اور مریدین کو بھی بیش از بیش حصہ لینے کی تلقین کیا کرتے تھے [3]

سیرت و خصائل[ترمیم]

اتباع شریعت،سادگی اور اخلاق حمیدہ میں بے مثل تھے صبر و تسلیم کا یہ عالم تھا کہ 1354ھ میں آپ اہل وعیال سمیت کوئٹہ میں تشریف فرما تھے کہ 27 صفر کو ہولناک زلزلے قیامت صغریٰ قائم کردی،پورا علاقہ تہ و بالا ہوگیا،لاتعداد افراد شہید ہوئے۔ ان کے اہل و عیال اور ہمراہیوں میں سے گیارہ افراد جام شہادت نوش کر گئے لیکن آپ نے حیرت انگیز ہمت و استقامت کا مظاہرہ کیا اور چند معاونین کے ہمراہ ایک ایک فرد کو ملبے کے نیچے سے نکالا اور کفن و دفن کا انتظام کیا[6] 1332ھ میں حرمین شریفین،کربال،نجف اشرف،شام اور بیت المقدس کی زیارات کی نیت سے تقریباً بیس افراد کے ہمراہ بغداد شریف حاضر ہوئے۔یہ آپ کا چوتھا سفر زیارت تھا۔اسی دوران میں جنگ عظیم چھڑ گئی اور آپ بہ ہزار مشقت حرمین شریفین پہنچے اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے واپس تشریف لائے[ [4]

عملی جہاد[ترمیم]

آپ علم و فضل کے ساتھ ساتھ بے باک مجاہد اور مرد میدان بھی تھے چنانچہ جب 1296ھ میں انگریزوں نے افغانستان پر حملہ کیا تو آپ بھی والد ماجد کے ہمراہ شریک کاراز ہوئے۔آپ بیدار مغز اور صاحب بصیرت قومی راہنما تھے۔ ترکی کے سلطان عبد الحمید خان کو خلیفۃ المسلمین تصور کرتے تھے اور جب انگریز پرستوں نے سلطان کو معزول کیا تو آپ بڑے رنجیدہ ہوئے،جنگ بلقان اور اطالیہ کے طرابلس پر حملے کے موقع پر معتقدین اور سندھ کے مسلمانوں سے خطیر رقم اکھٹی کر کے ہلال احمر کے ذریعہ مجاہدین کے لئے بھجوائی تحریک خلافت میں گم کردہ راہ لیڈروں کی کجروی پر بہت افسوس کیا کرتے تھے۔ آپ نے کھل کر بعض مسائل میں شرعی نقطۂ نظر سے اختلاف کیا اور طعن و تشنیع کی پرواہ کئے بغیر اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کیا۔آپ گاندھی ی قیادت کو سخت نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے،ان لوگوں پر تعجب ہے کہ ایک طرف تو انگریزوں سے لاتعلقی کرتے ہیں اور دوسری طرف مشرکین ہنود سے اتحاد اور داد کے حامی ہیں جو انگریزوں سے بھی زیادہ دشمن اسلام ہیں۔اسی طرح جب لیڈروں نے ہندؤوں کے فریب میں آکر سادہ لوح مسلمانوں کو انگریز کے مقبوضہ علاقوں سے ہجرت کر کے افغانستان چلے جان ے کا مشورہ دیا اور لوگ جوق در جوق ترک وطن کرنے لگے تو اس موقع پر بھی آپ نے قوم کی صحیح رہنمائی کی اور ترک وطن سے ممانعت کی اور فرمایا:۔ ’’وہاں اتنی گنجائش کہاں ہے کہ سب لوگ سما سکیں،خواہ مخواہ خود بھی پریشان ہوں گے اور مسلمانون کے بادشاہ کو بھی تکلیف دیں گے اس سے مسلمانون کے دشمنوں کو خوشی ہوگی۔‘‘ اسی دوران میں سندھ میں فتنۂ نجدیت نے سر اٹھایا،اس کی سر کوبی کے لئے بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں غرض اعتقادی،عملی،اخلاقی اور سیاسی امور مین قوم کی بر وقت راہنمائی کی اور ایک روشن دماغ،صائب الرأئے قائد کے فرائض انجام دئیے۔

مالی خدمات[ترمیم]

مولانا محمد حسن جان اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا بے پناہ جذبہ رکھتے تھے۔ہر اس تحریک میں بڑھ کر حصہ لیتے جو اسلام اور مسلمانوں کی بہتری کے لئے شروع کی جاتی۔تحریک خلافت کے دور کا ایک واقعہ آپ کے فرزند ارجمند مولان پیر ہاشم جان نے اس طرح بیان کیا: ’’جب تحریک خلافت شروع ہوئی تو اس وقت مولانا محمد علی جو ہر کی ہدایت پر سندھ میں اہل ثروت لوگوں سے چندہ جمع کرنے کے لئے حاجی عبد اللہ ہارون کی قیادت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،اس کیمیٹی کے افراد حاجی صاحب خود،حکیم فتح محمد اور مولانا صادق وغیرہ میرے والد ماجد محمد حسن جان سر ہدنی کی خدمت میں پہنچے اور اپنا مقصد بیان کیا۔والد محترم نے فرمایاکہ خلافت اسلامیہ کے احیاء اور انگریز حکومت سے مسلمان ممالک کی آزادی کے لئے ضرورت بات کی ہے وہ جسمانی جہاد کی ہے،مالی جہاد جسمانی جہاد سے بہت فروتر ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ م یں گھر جاکر دیکھتا ہوں،گھر میں جو رقم ہوگی وہ لاکر پیش کرودوں گھا،اس وقت کا غذ کے نوٹ نہیں تھے، اشرفیوں کی صورت میں روپیہ جمع رہتا تھا چنانچہ والد محترم بھری ہوئی تھیلیاں اٹھواکر لائے،کمیٹی کے ممبروں کے حوالے کردیں اور فرمایا: میرے گھر میں دس ہزار روپیہ سے کچھ زائدتھے وہ سب آپ کے حوالے کر رہا ہوں،انہوں نے ایک آنہ بھی گھر میں نہیں چھوڑا تھا، پورے برصغیر میں یہ مالی قربانی کی اس طرح کی پہلی مثال تھی جو والد محترم نے پیش کی [5]

تحریک پاکستان[ترمیم]

مولانا محمد حسن جان نے تحریک پاکستان کے سلسلے میں مسلم لیگ کی بھر پور امداد کی،مریدین کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ ڈالنے کا حکم دیا اور با اثر لوگوں کو خطوط لکھ کر مسلم لیگ کی حمایت کا حکم دیا۔ذیل میں ااپ کے ایک فارسی مکتوب کا ترجمہ ہے: مخلصین مکرمین و ڈیر ہ محمد قاسم،وڈیرہ عبد اللہ وقاضی جان محمد بعد از دعائے خیر تم مخلصین کو بہ طور نصیحت لکھا جاتا ہے کہ الیکشن کے سلسلہ میں اسلام کے مددگار بنو اور کافر ہندؤوں کی رفاقت سے الگ ہو جاؤ کیونکہ یہ ہندؤوں کا مسلمانون سے مقابلہ ہے۔سید اکبر علی شاہ کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دے دیا گیا ہے اس لئے تم پر لازم ہے کہ ان کی مخالفت سے دستبردار ہو جاؤ اور جس قدر ممکن ہو امداد کرو۔ والسلام 6؍ماہ صفر 25ھ فقیر محمد حسن جان چنانچہ آپ کی امداد واعانت سے مسلم لیگ نے سندھ میں زبر دست کامیابی حاصل کی۔

تصنیفات[ترمیم]

مولانا کو دینی اور علمی کتب کے مطالعہ سے بے حد شغف تھا،اپنے اکثر اوقات تصنیف و تالیف میں صرف فرماتے تھے۔آپ کا ذاتی کتب خانہ مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نادرو نایاب کتب کا بہترین ذخیرہ ہے۔آپ نے اس دور کی اعتقادی آویزش کو ختم کرنے کے لئے نہایت اہم کتابیں لکھیں۔آپ نے دیگر موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اور فضیلت علمی کے قابل قدر جواہر پارے یادگار چھوڑے۔ آپ کی تصانیف یہ ہیں:۔

  • 1۔ شفاء الامراض (عربی) جملہ امراض کے لئے کتب طبیہ کی ترتیب پر تعویذات اور وظائف پر مشتمل ہے۔
  • 2۔ انیس الارواح والد ماجد حضرت خواجہ عبد الرحمن فاروقی قدس سرہ کی سوانح حیات ہے ۔اس میں مشائخ عظام کا اجمالی تذکرہ اور سلوک طریقۂ نقشبندیہ کے ابحاث شریفہ درج ہیں۔(مطبوعہ مطبع مجددی امر تسر 1328ھ)
  • 3۔ترجمہ عہود و مواثیق : عبد الوہاب شعرانی کی تصنیف کا فارسی ترجمہ
  • 4۔ انساب الانجاب : خاندان مجددیہ کا تذکرہ(مطبوعہ مطبع مشہور عالم ،لاہور)
  • 5۔ الاصوال الربعہ فی تردید الوہابیہ[6]
  • 6۔ طریق النجاۃ مع رسالہ التنوری فی اثبات التقدیر (عربی) رد نیچریت۔
  • 7۔ العقائد الصحیحہ فی بیان مذہب اہل السنۃ والجماعۃ: علماء بریلی اور دیوبند کے اختلافی مسائل پر تبصرہ اور مسلک اہل سنت و جماع کی تائید۔(مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)
  • 8۔ رسالہ تہلیلیہ: کلمۂ طیبہ کی شرح (مطبوعہ مطبع الفقیہ امر تسر)
  • 9۔ تذکرۃ الصلحاء فی بیان الاتقیاء : ان اولیاء و صالحین کا تذکرہ جن سے عرب شریف، سندھ،خراسان اور ہند میں آپ کی ملاقات ہوئی(مطبوعہ مطبع نظامی کانپور 1348ھ)
  • 10۔ شرح حکم شیخ عطاء اللہ سنکدری (مطبوعہ 1357ھ) علم توحید اور سندے کے اپنے رب کے ساتھ تعلقات کی مکمل تشریح۔
  • 11۔ پنج گنج: اس میں پانچ رسالے ہیں،(1)سفر حجاز کی تفصیلات۔(2)شرح چہل کاف۔ (3) مناسک حج۔(4)مجموعۂ احادیث،جو آپ کو مکہ مکرمہ میں شیخ سید محمد ابو نصر و مشقی سے حاصل ہوئیں مع خطبات نبویہ۔(5) دینی دنیاوی نصائح۔
  • 12۔ سفر نامۂ عربستان۔
  • 13۔ الاشارۃ الی البشارۃ ،التحیات میں اشارہ نہ کرنے کی تائید و تحقیق۔
  • 14۔ رسالہ فی با صحۃ الجمعۃ نے القریٰ: دیہاتوں اور قصبوں میں جواز جمعہ کے متعلق فتوے ۔
  • 15۔ لغات القرآن: قرآن پاک کے مشکل الفاظ کی تفسیر ۔
  • 16۔ رسالہ درقواعد تجوید و قرأت

ذوق شاعری[ترمیم]

مولانا شعروشاعری کا عمدہ ذوق رکھتے تھے،عربی اور فارسی میں اظہار خیال کرتے تھے۔اگر چہ اس طرف میلان طبع بہت کم تھا اور کوئی شعری ذخیرہ بھی یادگار نہیں چھوڑا لیکن آپ کے کلام کی سلاست،روانی اور پختگی،بلندیٔ فکر کی غماز ہے،مدینہ طیبہ کی تعریف میں لکھتے ہیں:

زاد صاف مدینہ ہر چہ گویم،قطرہ ازدریااست

عفاف آنجا کفاف آنجا صلوٰۃ آنجا زکوٰۃ آنجا

خداوند اعطا کن بندئہ خود را لبفضل خود

قیام آنجا مقام آنجا حیات آنجاممات آنجا

اگر خواہی کہ بینی جنت الماوے دریں عالم

نشیں دور روضۂ اطہر بخواہ از حق نجات آنجا

وفات[ترمیم]

2؍رجب،2 جون 1325ھ؍1946ء کو آپ کا وصال ہوا اور کوہ گنجہ (مضافات حیدر آباد)کے دامن میں والد ماجد کے مزار کے پہلو میں دفن ہوئے [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد مسعود احمد،پروفیسر: تذکرہ مظہر مسعود،مطبوعہ کراچی ص 440
  2. عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین (1366ھ)ص7۔15
  3. عبد اللہ جان المعروف بہ شاہ آغا،مولانا: مونس المخلصین: ص59۔23
  4. بصر الدین سیوستانی،مخدوم مولانا تقریظ الاصول الاربعہ،مطبوعہ ترکی 1975ءص 125
  5. محمد موسی بھٹو،حافظ: ہفت روزہ اداکار 20؍تا26؍جولائی 1975ء ، ص 24
  6. علامہ مولانا حسین علمی کی سعی سے مکتبہ الشیق ترکی سے چھپ گئی ہے
  7. تذکرہ اکابر اہل سنت: محمد عبد‌الحکیم شرف قادری:صفحہ445نوری کتب خانہ لاہور