محمد حسین نعیمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مفتی محمد حسین نعیمی، مفتی ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہید کے والد تھے انہوں نے جامعہ نعیمیہ لاہور جیسا عظیم الشان علمی گہوارا قائم کیا

ولادت[ترمیم]

مفتی محمد حسین نعیمی، 1342ھ/ 1923ء میں سنبھل ضلع مراد آباد (ہندوستان) کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ملّا تفضل حسین سنبھل کے ممتاز تاجر تھے، لیکن اس کے باوجود دین اور شعائرِ اسلام سے قلبی محبّت رکھتے تھے۔ وہ اپنے صاحبزادے کو عالمِ دین اور مبلغِ اسلام دیکھنے کے خواہاں تھے۔

تحصیل علم[ترمیم]

مفتی محمد حسین 1933ء میں جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے دو سال میں کتبِ فارسی اور سات سال میں درسِ نظامی کی کتابوں پر عبور حاصل کیا صدر الافاضل سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی نے چند ذہین طلبأ کی ایک جماعت بنائی، جن پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی، ان میں مفتی محمد حسین بھی شامل تھے۔1942ء میں آپ نے جامعہ نعیمیہ ہی سے سندِ فراغت اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔

تدریس[ترمیم]

1942ء میں مفتی اعظم پاکستان ابوالبرکات سیّد احمد نے دارلعلوم حزب الاحناف میں تدریس کی خاطر صدر الافاضل رحمہ اللہ کو ایک مدرس بھیجنے کے لیے لکھا، تو آپ نے مفتی صاحب کو لاہور بھیج دیا۔ 11942ء سے لے کر 1948ء تک آپ دار العلوم حزب الاحناف لاہور میں پڑھاتے رہے اور پھر 1948ء سے 1953ء تک دارالعلوم انجمن نعمانیہ لاہور میں مسندِ تدریس پر فائز رہے۔ اس کے بعد اپنی مسجد چوک دالگراں میں ایک دینی دار العلوم جامعہ نعیمیہ لاہور کی بنیاد رکھی۔ آغازِ تدریس میں مفتی محمد حسین کے ساتھ حافظ محمد عالم سیالکوٹی، علامہ عبد المصطفے ٰ الازہری (کراچی) مولانا عبد الغفور (لاہور) اور مولانا عبد الحئی نے معاونت کی۔ جامعہ نعیمیہ کی بڑھتی ہوئی شہرت کی وجہ سے طلبہ جوق در جوق آنا شروع ہو گئے چنانچہ 1959ء میں مسجد میں جگہ کی کمی کی وجہ سے دار العلوم کو چوک دالگراں سے گڑھی شاہو منتقل کر دیا گیا۔ اس ویران مقام پر عیدگاہ اور مسجد میں تدریس شروع ہوئی اور ساتھ ہی طلبہ کی رہائش کا انتظام ہونے لگا یہاں تک کہ ایک عظیم دار العلوم اور مسجد تعمیر ہو گئی

خدمات[ترمیم]

مفتی محمد حسین نعیمی نہ صرف قابل مدّرس ہیں بلکہ نہایت پُر تاثیر خطیب ماہر مفتی اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں، ملک کے لیے آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ تحفظِ مقامِ مصطفے ٰ اور نظامِ مصطفے ٰ کے نفاذ کی خاطر آپ نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 1953ء کی تحریک ختمِ نبوت میں مفتی صاحب نے علامہ سیّد محمود احمد رضوی کے ساتھ مل کر حزب الاحناف (جو ان دنوں اندرون دہلی دروازہ میں واقع تھا) میں ایک مرکز قائم کیا، جہاں پولیس اور فوج کے نوجوانوں کو تحریکِ ختم نبوّت کی اہمیت پر ذاتی مشین پر پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کرتے تھے۔ مارشل لا کے دوران آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ فوجی عدالت نے بری کر دیا، مگر دوسرے مقدمہ کی سماعت جاری تھی کہ مارشل لأ کا زور ٹوٹ گیا اور آپ مکمل طور پر بَری کردیے گئے۔ صدر ایوب کے دور میں جب تمام علماءکو مرضی کے مطابق عید کی نماز پڑھانے کو کہا گیا، تو مفتی صاحب نے سخت احتجاج کیا: چنانچہ آپ کو دوسرے علمأ کے ساتھ گرفتار کر کے مچھ جیل (بلوچستان) بھیج دیا گیا۔

1977ءکی تحریک نفاذِ نظام مصطفے ٰ میں آپ نے اپنے دار العلوم میں غزالیٔ زماں سید احمد کاظمی کی صدارت علما اہلِ سنت کا نمائندہ اجلاس بُلایا اور ایک قرارداد کے ذریعے تحریک میں حصہ لینے کو جہاد اور نظامِ مصطفے ٰ کے نفاذ کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو شہید قرار دیتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ علمأ اہل سنت اس تحریک میں مکمل طور پر پوری قوم کے ساتھ ہیں۔[1]

نمایاں کارنامے[ترمیم]

آپ نے ایک ماہنامہ مجلّہ ’’عرفات‘‘ جاری کیا ہوا ہے، جو ہر مہینے علمی اور تحقیقی مضامین کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔

مشہور تلامذہ[ترمیم]

مفتی محمد حسین نعمی سے اکتسابِ فیض کرنے والے چند مشہور تلامذہ یہ ہیں:

  • مولانا غلام رسول سعیدی، جامعہ نعیمیہ، کراچی۔
  • مولانا الٰہی بخش، لاہور۔
  • مولانا باغ علی نسیم، لاہور۔
  • مولانا حافظ محمد عالم، سیالکوٹ۔
  • مولانا محمد ارشد پناہوی، پناہ کے ۔
  • مولانا محمد فیض الحسن تنویر۔
  • زینت القرأ قاری غلام رسول، لاہور۔
  • مولانا محمد سعید نقشبندی، خطیب دربارداتا گنج بخش، لاہور۔
  • حافظ حبیب اللہ، خطیب سرائے عالمگیر۔، [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روز نامہ وفاق، مورخہ 14؍ اپریل 1977ء۔
  2. تذکرہ علمأ اہل سنّت و جماعت لاہور، ص 371 تا374،پیر زادہ محمد اقبال فاروقی۔ مکتبہ نبویہ گنج بخش لاہور

مفتی اعظم پاکستان محمد حسین نعیمی رحمتہ اللہ علیہ