محمد حمید شاہد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد حمید شاہد
Muhammad Hameed shahid.jpg
ادیب
پیدائشی ناممحمد حمید
عرفیتشاہد
قلمی ناممحمد حمید شاہد
ولادت23 مارچ 1957ء پنڈی گھیب، اٹک، پنجاب، پاکستان
اصناف ادبناول، افسانہ
ذیلی اصنافتنقید، کالم، نثر
تصنیف اولپیکر جمیل (پاکستان میں) 1983 (بھارت میں)1985
تصنیف آخرمٹی آدم کھاتی ہے 2007
معروف تصانیفجنم جہنم
مٹی آدم کھاتی ہے
مرگ زار

محمد حمید شاہد (Mohammad Hameed Shahid) پاکستان میں مقیم اردو کے نمایاں افسانہ نگار ،ناول نگار اور نقاد ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

محمد حمید شاہد 1957 میں پنڈی گھیب ضلع اٹک، پنجاب، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد غلام محمد سماجی اور سیاسی کارکن تھے اور گھر میں کتب خانہ بنا رکھا تھا جس نے محمد حمید شاہد کو مطالعہ کے طرف راغب کیا۔ آپ کے دادا حافظ غلام نبی 1947 میں اپنے آبائی گائوں چکی کو خیرباد کہہ کر پنڈی گھیب میں بس گئے تھے۔ آپ نسبی طور پر اعوان، اجمال ہیں۔

تعلیمی سلسلہ[ترمیم]

محمد حمید شاہد نے ابتدائی تعلیم پنڈی گھیب سے پائی۔ میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلھ لے لیا اور بہ قول سید ضمیر جعفری وہاں سے بستانیت کے فاضل ہوئے۔ بعد ازاں قانون کے تعلیم کے لیے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں داخل ہو گئے۔ مگر والد ماجد کی شدید علالت اور بعد میں موت کے ساتھ ہی یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور ایک بنکار کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کر دیا۔

ادب[ترمیم]

محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کا آغاز یونیورسٹی کے زمانے ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ آپ یونیورسٹی کے مجلہ “ کشت نو“ کے مدیر رہے۔ آپ کے پہلی کتاب اسی زمانے میں لاہور سے شائع ہوئی۔ پہلے پہلے انشائے بھی لکھے مگر جلد ہی افسانہ نگاری کی طرف آ گئے۔ “بند آنکھوں سے پرے“ کی اشاعت کے بعد اردو دنیا کی توجہ پا لی۔ آپ کے افسانوں کے مجموعوں “جنم جہنم“ اور “مرگ زار“ کے بعد آپ کا شمار اسی کی دہائی کے نمایاں ترین افسانہ نگاروں میں ہونے لگا۔ محمد حمید شاہد کے ناول “مٹی آدم کھاتی ہے“ اور اردو افسانوں “ سورگ میں سور“، “ مرگ زار“ اور “ برف کا گھونسلا “ کو بہت نمایاں مقام دیا جاتا ہے۔

تنقید[ترمیم]

محمد حمید شاہد کا رویہ ایک ایسے تخلیق کار کا رویہ ہے جو اپنے تخلیقی جوہر کو مختلف اصناف‘ اسالیب اور موضوعات کی کٹھالی میں ڈال کر پرکھتا ہے اور خود کو کسی تنگ دائرے میں قید کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔ اس بات نے اسے ایک طرف تو مختلف تناظر میں خود کو پرکھنے کی سہولت دی ہے ‘ دوسرا اس کے ہاں فنی اور فکری کشادگی بھی در آئی ہے جو میرے خیال میں آج کے لکھنے والوں کے لیے نہایت ضروری بات ہے

تصانیف[ترمیم]

محمد حمید شاہد کی چند معروف تصانیف

افسانے[ترمیم]

ناول[ترمیم]

تنقید[ترمیم]

  • ادبی تنازعات
  • اشفاق احمد : شخصیت و فن
  • اردو افسانہ : صورت و معنی

دیگر[ترمیم]

  • پیکر جمیل
  • لمحوں کا لمس

The touch of moment*

  • سمندر اور سمندر

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  • محمد حمید شاہد [1]
  • دُکھ کیسے مرتا ہے [2]
  • سورگ میں سور [3]
  • آٹھوں گانٹھ کمیت [4]
  • مَرگ زار [5]
  • گانٹھ [6]