محمد رضا شاہ پہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد رضا شاہ پہلوی
محمد رضا شاہ پہلوی
پیدائش محمدرضا پہلوی
26 اکتوبر 1919 (1919-10-26) ‏(97)
تہران، ایران
وفات 27 July 1980
قاہرہ، مصر
وجۂ وفات سرطان سیالہ عقدہ
آخری آرام گاہ رفاعی مسجد، قاہرہ
قومیت ایرانی
دیگر نام شاهنشاه
شاهنشاه آریامهر
اعلیحضرت همایونی
نسل ایرانی
تعلیم École spéciale militaire de Saint-Cyr
مادر علمی کماندار جامع قوت
وجۂ شہرت بادشاہ ایران
شریک حیات شہزادی فوزیہ فواد
ملکہ ثریا اسفندیاری
ملکہ فرح دیبا
بچے شهناز پہلوی
رضا پہلوی
فرح ناز پہلوی
علی رضا پہلوی
لیلیٰ پہلوی
والدین رضا شاہ پہلوی
تاج‌الملوک آیرملو
دستخط
Mohammadreza pahlavi signature.svg

محمد رضا شاہ پہلوی ایران میں اسلامی انقلاب سے قبل ایران کے آخری بادشاہ تھے۔

شاہ محمد رضا پہلوی (1980ء - 1919ء) کو اپنے اقتدار پر اتنا اعتماد تھا کہ کہ انھوں نے اپنے لیے شہنشاہ کا لقب اختیار کیا۔ انھوں نے اپنی ابتدائی دو بیویوں کو صرف اس لیے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لیے وارث سلطنت پیدا نہ کرسکیں۔ آخر میں انھوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر 1960ء میں شادی کی۔ ان کے بطن سے ولی عہد رضا پیدا ہوئے ۔مگر اس کے بعد خود شاہ کو سلطنت چھوڑ کر جلاوطن ہو جانا پڑا۔

نياران پيلس Narayan Palace كی تعمير 1958ء ميں شروع ہوئی شہنشاہ ايران محمد رضا پہلوی نے دنيا بھر كی ناياب اشياء اس ميں جمع كيں اور دس سال بعد 1968ء ميں اس ميں رہائش پذير ہوئے۔ انقلاب ايران تک وہ اسی محل ميں اپنی ملكہ فرح پہلوی کے ہمراہ مقيم تھے اور يہیں سے انھیں ملک بدر ہونا پڑا۔ محل كی ہر چيز كو محفوظ کر ديا گيا ہے۔ اسی محل کے سا‍‌تھ ايک اور قديم محل موجود ہے جو قاچار خاندان كے زير استعمال رہا تھا اور بعد ميں شہنشاہ ايران نے اسے اپنے سركاری آفس میں تبديل كر ليا تھا۔ محل سے ملحقہ شہنشاہ ايران کے آفس میں دنيا كی عظيم شخصيات كی تصاوير ركھی گئی ہیں جن میں سابق وزيراعظم پاكستان ذوالفقار علی بھٹو كی تصوير بھی موجود ہے۔

کے بادشاہ کا دورہ ایران فضائیہ
شاہ کی قبر اور الرفاعی مسجد

مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا۔ 16 جنوری، 1979ء کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لیے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوئے تو وہ زاروقطار رو رہے تھے۔اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے۔ یہاں تک کہ 27 جولائی، 1980ء کو قاہرہ کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہندوستان ٹائمز 31 جولائی 1980

تصاویر[ترمیم]