محمد رضا شاہ پہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سابقہ شرف دہندہ (P511) ویکی ڈیٹا پر
محمد رضا شاہ پہلوی
محمد رضا پهلوی‎ (فارسی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
محمد رضا شاہ پہلوی

معلومات شخصیت
پیدائش 26 اکتوبر 1919[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تہران   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 جولا‎ئی 1980 (61 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لیمفو ما[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مقام دفن Al-Rifa'i Mosque[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
قومیت ایرانی
دیگر نام شاهنشاه
شاهنشاه آریامهر
اعلیحضرت همایونی
نسل ایرانی
مذہب اہل تشیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
شریک حیات شہزادی فوزیہ فواد
ملکہ ثریا اسفندیاری
ملکہ فرح دیبا
اولاد شهناز پہلوی
رضا پہلوی
فرح ناز پہلوی
علی رضا پہلوی
لیلیٰ پہلوی
والدین رضا شاہ پہلوی
تاج‌الملوک آیرملو
والد رضا شاہ پہلوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان پہلوی خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اعلیٰ خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
شاہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
منصب مدت
16 ستمبر 1941  – 11 فروری 1979 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png رضا شاہ پہلوی 
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
تعلیم École spéciale militaire de Saint-Cyr
مادر علمی کماندار جامع قوت
دستخط
Image illustrative de l'article محمد رضا شاہ پہلوی

محمد رضا شاہ پہلوی ایران میں اسلامی انقلاب سے قبل ایران کے آخری بادشاہ تھے۔

شاہ محمد رضا پہلوی (1980ء - 1919ء) کو اپنے اقتدار پر اتنا اعتماد تھا کہ کہ انھوں نے اپنے لیے شہنشاہ کا لقب اختیار کیا۔ انھوں نے اپنی ابتدائی دو بیویوں کو صرف اس لیے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لیے وارث سلطنت پیدا نہ کرسکیں۔ آخر میں انھوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر 1960ء میں شادی کی۔ ان کے بطن سے ولی عہد رضا پیدا ہوئے۔ مگر اس کے بعد خود شاہ کو سلطنت چھوڑ کر جلاوطن ہو جانا پڑا۔

نياران پيلس Narayan Palace كی تعمير 1958ء ميں شروع ہوئی شہنشاہ ايران محمد رضا پہلوی نے دنيا بھر كی ناياب اشياء اس ميں جمع كيں اور دس سال بعد 1968ء ميں اس ميں رہائش پذير ہوئے۔ انقلاب ايران تک وہ اسی محل ميں اپنی ملكہ فرح پہلوی کے ہمراہ مقيم تھے اور يہیں سے انھیں ملک بدر ہونا پڑا۔ محل كی ہر چيز كو محفوظ کر ديا گيا ہے۔ اسی محل کے سا‍‌تھ ايک اور قديم محل موجود ہے جو قاچار خاندان كے زير استعمال رہا تھا اور بعد ميں شہنشاہ ايران نے اسے اپنے سركاری آفس میں تبديل كر ليا تھا۔ محل سے ملحقہ شہنشاہ ايران کے آفس میں دنيا كی عظيم شخصيات كی تصاوير ركھی گئی ہیں جن میں سابق وزيراعظم پاكستان ذوالفقار علی بھٹو كی تصوير بھی موجود ہے۔

کے بادشاہ کا دورہ ایران فضائیہ
شاہ کی قبر اور الرفاعی مسجد

مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا۔ 16 جنوری، 1979ء کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لیے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوئے تو وہ زار و قطار رو رہے تھے۔ اس کے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے۔ یہاں تک کہ 27 جولائی، 1980ء کو قاہرہ کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہوگیا۔ موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مذکور : گریٹ سویت انسائیکلوپیڈیا (1969–1978) — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — شائعسوم — باب: Мохаммед Реза Пехлеви — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC — تاریخ اشاعت: 1969
  2. ^ 2.0 2.1 مذکور : SNAC — ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6np2ccv — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ہندوستان ٹائمز 31 جولائی 1980

تصاویر[ترمیم]