محمد زمان اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مخدوم محمد زمان اول لواری شریف کی درگاہ کے بانی محمد زمان اول المعروف خواجہ کلاں ہوئے ہیں۔

ولادت[ترمیم]

محمد زمان اول 21 رمضان 1125ھ بمطابق 1713ء کو سندھ کے ایک قصبہ ’’لواری ‘‘ ( لوارو)میں پیدا ہوئے، آپ کا سنہ ولادت ‘‘من عبادنا المخلصین’’ سے نکلتا ہے۔ آپ کے والد کا نام شیخ حاجی عبد اللطیف نقشبندی تھا، آپ کی والدہ خواجہ عبد السلام ساکن جون کی صاحبزادی تھیں۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

آپ کا سلسلہ نسب امیر المومنین ابو بکرصدیق سے جاملتا ہے، خلیفہ مہدی یا ہارون کے زمانہ میں یہ خاندان سندھ میں وارد ہوا، آپکے والد عالم تھے اور ورع و تقویٰ میں مشہور، وہ مخدوم آدم کے صاحبزادے خواجہ فیض اللہ کے مرید تھے، مخدوم ابو القاسم نقشبندی سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔

ظاہر و باطنی تعلیم[ترمیم]

علوم ظاہری کی تعلیم ٹھٹہ میں مولانا محمد صادق جیسے متبحر عالم سے حاصل کی اتفاقاً آپ کی ملاقات ابوالمساکین محمد ٹھٹوی سے ہو گئی، آپ تعلیم ترک کر کے ان کے حلقہ بگوش ہوئے اور بیعت کے بعد مجاہدات اور ریاضتوں میں مشغول ہو گئے اور بیعت کے بعد آپ کے شیخ طریقت ابو المساکین نے آپ کو خلافت عطا کی، اپنی دستار مبارک آپ کے سر پر رکھی۔

وطن واپسی[ترمیم]

1150ھ میں آپ اپنے آبائی وطن لواری میں آکر مسند ارشاد پر فائز ہوئے، پرانا لواری زمین کی شوریدگی کے باعث جب تباہ ہو گیا تو آپ نے جدید شہر کی بنیاد رکھی اور اس کا نام بھی لواری رکھا۔ جو اب لواری شریف کہلاتا ہے۔

مریدین کی تربیت[ترمیم]

محمد زمان اولمریدین کی دینی اور روحانی تربیت کا خاص خیال رکھتے تھے، موسم گرما میں صبح کے حلقہ کے بعد دالان میں تشریف فرما ہوتے، لوگ کھچا کھچ بھر جاتے، پھر آپ اور آپ کے مرید مراقبے میں مشغول ہوجاتے اور محویت کا یہ عالم ہوتا کہ ان حضرات کا دھوپ کی سخت تمازت بھی استغراق کی کیفیت سے واپس نہیں لاسکتی تھی، جب لوگ چاشت کے وقت مراقبہ ختم کرتے تو زمین پسینہ سے تر ہوتی تھی، آپ کی خانقاہ میں شب بیداری کا خاص اہتمام تھا اس کے لیے ایک شخص مقرر تھا جو لوگوں کو عبادت کے لیے بیدار کرتا تھا۔ محمد زمان اول اتباع شریعت کا خاص طور پر خیال رکھتے تھے اور مریدوں کی تربیت میں بھی ہمیشہ اس کی کوشش فرماتے کہ احکام شریعت پر اور سنت نبوی پر پورا پورا عمل کیا جائے۔

وفات[ترمیم]

63 سال کی عمر میں 4 ذوالقعدہ 1188ھ بمطابق 1775ء کو چاشت کے وقت واصل بحق ہوئے، مزار شریف لواری میں ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ صوفیاءسندھ، اعجاز الحق قدوسی ص256، اردو اکیڈمی سندھ کراچی