محمد سعید بابصیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ الاسلام
محمد سعید بابصیل
پیدائش محمد سعید بابصیل
1830ء (1245ھ)
مکہ
وفات 1330ھ
مکہ
رہائش مکہ
قومیت عثمانی حجاز
نسل بابصیل
دور انیسویں صدی
شعبۂ زندگی عرب
پیشہ مدرس، نائب امام، سرکاری مفتی
مذہب اسلام
فرقہ اہل سنت
فقہ شافعی
اساتذہ زینی دحلان مکی[1]، رحمت اللہ کیرانوی

شیخ الاسلام محمد سعید بابصیل مکی شافعی (1245ھ بمطابق 1830ء1330ھ) یمن کے ممتاز شافعی عالم تھے، آپ خاندان حضرموت سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں آباد ہو گیا تھا۔ آپ نے نامور شافعی عالم احمد بن زینی دحلان مکی[1] اور مدرسہ صولتیہ کے رحمت اللہ کیرانوی سے تعلیم حاصل کی۔ مسجد حرام میں مدرس مقرر ہوئے اور شیخ العلماء کا منصب عطا ہوا۔

تدریس[ترمیم]

ان کے دور میں حرم مکی عالم اسلا مکی سب سے اہم جامعہ کی حیثیت رکھا تھا۔ تعلیم کے بعد شیخ کو مسجد حرام میں ہی مدرس مقرر کیا گیا۔ جہاں تا عمر آپ نے تعلیم دین دی۔ آپ نے تفسیر قرآن، حدیث اور تصوف کے علوم پڑھائے، آپ تفسیر خطیب شربینی، صحاح ستہ، ریاض الصالحین، الاواہل الجلونیہ، النصائح الدینیہ، تفسیر جلالین، حاشیہ صاوی، حاشیہ جمل اور احیاء العلوم وغیرہ سے درس دیا کرتے۔[2][3]

شیخ العلما کا منصب[ترمیم]

مسجد حرم میں طلبہ کی تعداد بڑھنے سے اساتذہ کی تعداد بھک بڑھتی رہی، تدریسی نظام کو درست طریقے سے چلانے کے لیے گورنر مکہ سید محمد بن عبد المعین بن عون نے ایک نیا منصب شیخ العلما تشکیل دیا۔ 1303ھ میں اس منصب پر فائز سید دحلان مکی مکہ سے [[مدینہ منتقل ہو کئے، جس پر محمد سعید بابصیل کو شیخ العلما کا منصب سونپ دیا گیا۔ اس منصب پر شیخ اپنی وفات تک پچیس برس سے زائد خدمات سر انجام دیتے رہے۔

مفتی و امام حرم[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ کے دور میں چونکہ چاروں فقہی مذاہب کے مطابق حرم میں الگ الگ نماز کی جماعت ہوتی، محمد سعید بابصیل کو نائب امام کے منصب پر فائر تھے۔

اسی طرح عٹمانی خلافت میں مفتی کا عہدہ تھا اور صرف مجاز مفتی ہی فتوی دیتے تھے، آپ کو مکہ شہر میں شافعی مفتی کا منصب ملا ہوا تھا۔ اس سے پہلے جتنا عرصہ زینی دحلان مکی مفتی شافعہ رہے، سعید بابصیل ان کے معتمد اور فتاوی کے اجرا میں معاون رہے۔ یوں آپ باقاعدہ اس عہدے پر فائز ہونے سے پہلے افتا کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کر چکے۔ آپ کے مفتی بننے پر آپ کی شہرت تھی اور آپ کو شیخ الاسلام کا لقب ملا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب عبد اللہ بن عبد الرحمن معلمی مکی۔ أعلام المكيين من القرن التاسع إلى القرن الرابع عشر الهجري۔ لندن: موسستہ الفرقان للتراث الاسلامی۔ صفحہ 250۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |جلد= ignored (معاونت)
  2. شیخ محمود ممدوح شافعی۔ تشنیف الاسماع بشیوخ الاجازۃ والسماع۔ قاہرہ: دار الشباب۔ صفحہ 24، 308 اور 542۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. عبد اللہ بن عبد الرحمن معلمی مکی۔ أعلام المكيين من القرن التاسع إلى القرن الرابع عشر الهجري۔ لندن: موسستہ الفرقان للتراث الاسلامی۔ صفحہ 325۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ Unknown parameter |جلد= ignored (معاونت)

بیرونی روابط[ترمیم]