مندرجات کا رخ کریں

محمد شاہ سلطان برونائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محمد شاہ سلطان برونائی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 14ویں صدی  ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1402ء (100–101 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برونائی دار السلام   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبدالمجید حسن   ویکی ڈیٹا پر  (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

محمد شاہ (پیدائش: اونج الک بیتاتار کے نام سے، 1368ء–1402ء) سلطنت برونائی کے بانی اور اس کے پہلے سلطان تھے۔ محمد شاہ کا نسب واضح طور پر معلوم نہیں، بلکہ مختلف تاریخی ذرائع اور کچھ غیر مستند قصص پر مبنی ہے۔[1][2][3]

چینی برّی علاقوں کے باشندے انھیں موہامو شا (Mohamo Sha) کے نام سے جانتے تھے۔

حالات زندگی

[ترمیم]

محمد شاہ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔ موجودہ سلطنت برونائی محمد شاہ کی قیادت میں وجود میں آئی، جس میں ان کے بھائیوں سلطان احمد اور اونج سیمون نے بھی معاونت کی۔ محمد شاہ نے 1368ء سے لے کر اپنی وفات 1402ء تک حکومت کی۔[4][3]

ابتدائی طور پر وہ راجا اونج الک بیتاتار کے لقب سے حکمران تھے ("راجا" کا مطلب سنسکرت زبان میں "بادشاہ" ہوتا ہے)، پھر 1360ء کے آس پاس اسلام قبول کر لیا اور جزیرہ تیماسیک (قدیم سنگاپور، جسے اس وقت برونائی میں "جوہر" کہا جاتا تھا) کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کی۔[4][3]

وفات

[ترمیم]

سلطان محمد شاہ کا انتقال 1402ء میں ہوا اور ان کے بعد سلطان عبد المجید حسن نے حکومت سنبھالی۔[3]

محمد شاہ کی بیوی اور برونائی میں ابتدائی اسلامی اثرات

[ترمیم]

یہ بات یقینی طور پر معلوم نہیں کہ محمد شاہ کی بیوی کون تھیں؛ بعض روایات کے مطابق وہ یا تو اسکندر شاہ (بارامیسورا) کی بیٹی تھیں یا سانگ نیلا اوتاما کی اور دونوں کا نسب سانگ ساپوربا شاہی خاندان سے جوڑا جاتا ہے۔

یہ بھی تاریخی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ برونائی کے موجودہ علاقے میں سلطنت سے قبل بھی اسلامی اثرات اور ممکنہ طور پر مسلم حکمرانی موجود تھی۔[1][2][3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 "Malay History: What's Missing in Malaysian History Books"۔ Malaysianunplug.blogspot.co.uk۔ 2018-03-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-01-18
  2. 1 2 "The golden history of Islam in Brunei"۔ The Brunei Times۔ 4 يوليو 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 January 2015 {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  3. 1 2 3 4 5 Vadime Elisseeff (January 2000)۔ "Chapter 8: A Brunei Sultan of the Early Fourteenth Century — A Study of an Arabic Gravestone"۔ The Silk Roads: Highways of Culture and Commerce۔ Berghahn Books۔ ص 145–157۔ ISBN:978-1-57181-222-3۔ 24 أبريل 2016 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 December 2013 {{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  4. 1 2