محمد شاہ (سید خاندان)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد شاہ (سید خاندان)
Lodhi Garden, New Delhi. taken by Anita Mishra.JPG 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش صدی 14  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات دسمبر 1446 (95–96 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن لودھی باغ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Delhi Sultanate Flag (catalan atlas).png سلطنت دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان سلطنت دہلی   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
20 فروری 1434  – جنوری 1446 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png معز الدین ابوالفتح مبارک شاہ 
علاؤ الدین عالم شاہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

محمد شاہ (وفات: جنوری 1446ء) سلطنت دہلی کے سید خاندان کا تیسرا سلطان تھا جس نے 1434ء سے 1446ء تک حکومت کی۔

عہد حکومت[ترمیم]

مبارک شاہ (سید خاندان) کے قتل کے بعد سرور الملک نے اُسی روز محمد شاہ کو سلطان سلنت دہلی مقرر کر دیا تھا اور اُسی روز اُس کی تخت نشینی عمل میں آئی۔ سابقہ سلطان مبارک شاہ (سید خاندان) کا قاتل سرور الملک وزیر تھا جس کا خیال تھا کہ وہ نوجوان محمد شاہ کو تخت نشیں کرنے کے بعد درپردہ خود حکومت کرے گا۔ چنانچہ سرور الملک نے خزانہ اور سارے اہم محکمے اپنے قبضہ میں کرلیے تاکہ وہ سلطان کو اپنے اشاروں پر نچا سکے۔ محمد شاہ کی تخت نشینی کے بعد سرور الملک نے پرانے وزائے سلطنت کی بیخ کنی شروع کردی اور اُن لوگوں کو خوب نوازا۔ جنہوں نے مبارک شاہ (سید خاندان) کے قتل میں اُس کا ساتھ دیا تھا یعنی سدھ پال اور سدارن کھتری، اُن لوگوں اور اُن کے قرابت داروں کو مبارک شاہ (سید خاندان) کے قتل کے صلے میں بیانہ، کہرام، نارنول، امروہہ اور دوآبہ کے علاقے تفویض ہوئے۔ اِسی طرح میراں صدر اور سید السادات کے بیٹے جو مبارک شاہ (سید خاندان) کے قتل میں معاون تھے، اُنہیں خطابات اور جاگیریں عطاء ہوئیں۔ اِس کے برخلاف جو لوگ مقتول سلطان دہلی کے حامی تھے، اُن کو دھوکا سے قتل کر دیا گیا یا قید کر لیا گیا۔ وفا شعار امرائے سلطنت کمال الملک، ملک اہار میاں، ملک اللہ داد کاکا، ملک جے من، ملک کہون راج، امیر علی گجراتی ابتدا میں تو خاموشی سے باغی وزیر سردار الملک کی حرکات دیکھتے رہے۔

آخر اُنہوں نے سرور الملک کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا اور کمال الملک نے اِس بغاوت میں نمایاں حصہ لیتے ہوئے دوسرے تمام امرا کی مدد سے ایک بڑی فوج بلند شہر میں جمع کرکے سرور الملک کے خلاف دہلی پر حملہ کر دیا۔ سرور الملک مقابلے کی تاب نہ لاتے ہوئے دہلی کے قلعہ سیری میں محصور ہو گیا اور تین مہینے تک برابر لڑتا رہا۔/ سرور الملک کو بادشاہ کی طرف سے بھی اندیشہ تھا چونکہ بادشاہ بھی کمال الملک اور دوسرے امرا کی جانب مائل تھا۔ اِس لیے سرور الملک نے سوچا کہ کیوں نہ پہلے بادشاہ کا ہی خاتمہ کر دیا جائے، چنانچہ وہ قلعہ سیری میں اپنے آدمیوں کے ہمراہ بادشاہ کے قتل کا ارادہ کرکے محل سراء میں داخل ہوا لیکن بادشاہ کے محافظ دستوں نے سرور الملک کا مقابلہ کر دیا اور اِس مقابلہ میں وزیر سرور الملک قتل ہوا۔ یہ واقعہ 8 محرم الحرام 838ھ کو پیش آیا۔ سرور الملک کے قتل کے بعد بادشاہ نے کمال الملک کو کمال خان کا خطاب دیا اور وزارتِ عظمیٰ اُس کے سپرد کردی۔ ملک جے من، ملک اللہ داد کاکا، ملک کہون راج، خانِ اعظم سید خان جیسے وفا شعار امراءکو خطابات اور جاگیریں عطاء کی گئیں۔ دہلی کے انتظامات سے فارغ ہوتے ہی بادشاہ بغرض تفریح ملتان گیا اور چند روز ملتان میں گزارنے کے بعد واپس دہلی آگیا۔[1][2]

وفات[ترمیم]

1445ء کے اواخر تک بادشاہ علیل ہو گیا اور چند روز علالت میں گزار کر ماہِ جنوری 1446ء میں انتقال کرگیا۔ محمد شاہ نے 12 سال حکومت کی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفتی شوکت علی فہمی: ہندوستان پر اسلامی حکومت،  ص 208 تا 210۔
  2. ابو القاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، جلد 2، ص 379 تا 382۔
ماقبل 
مبارک شاہ
سلطان سلطنت دہلی
20 فروری 1434ءجنوری 1446ء
مابعد 
علاؤ الدین عالم شاہ