محمد شعیب رضا نظامی فیضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محمد شعیب رضا نظامی فیضی
Md Shuaib Raza Nizami Faizi at Baravon Shareef

معلومات شخصیت
پیدائش 04 مئی 1997ء
گولابازار، گورکھپور،اترپردیش، بھارت
قومیت ہندوستانی
دیگر نام جاویداختر
نسل راعینی
شوہر کنیزفاطمہ
والدین عالیجناب شمشیر علی
مخدومہ قمر جہاں
عملی زندگی
تعليم دارالعلوم اہلسنت فیض الرسول براؤں شریف سدھاتھنگر اترپردیش بھارت
وجہ شہرت سماجی کام
عظیم قلم کار
اعزازات
امام احمد رضا ایوارڈ 2019ء میں<ref>http://mohdshuaibraza.blogspot.com
ویب سائٹ
ویب سائٹ ہماری آواز


مائہ ناز عالم دین حضرت علامہ مفتی محمد شعیب رضا نظامی فیضی صاحب قبلہ کا شمار ان ھندوستانی علما میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی نوک قلم سے ملت اسلامیہ کو کئی ایک کتابیں دی

ولادت اور خاندانی پس منظر[ترمیم]

آپ کی پیدائش آپ کے نانیہال موضع لہرا بازار ضلع مہراج گنج میں ہوئی،آپ اپنے والدین کریمین کے سایۂ کرم میں پلے بڑھے۔ ۔ والد ماجد جناب شمشیر علی صاحب اور والدہ ماجدہ مخدومہ قمر جہاں دونوں ہی نہایت خوش اخلاق، رقیق القلب،دین دار اورپاکیزہ طبیعت کے حامل انسان ہیں، خصوصاً والدہ ماجدہ کے حوالے سے حضرت مفتی صاحب اکثر فرماتے ہیں کہ "میری ماں نے جس انداز سے میری تربیت کی، مجھے تو عالم دین بننا ہی تھا۔ اور مجھے جتنے مسائل دینیہ میری ماں نے سکھائے اور بتائے اتنے مسائل تو میں جماعت ثانیہ،ثالثہ تک درس گاہوں میں جاکربھی حاصل نہ کرسکا" یقینا دنیا کا پہلا مکتب اور مدرسہ آغوش مادر ہی ہے اور جب ماں اچھی تعلیم وتربیت کرے تو بیٹے کا عالم دین اور شریعت کا مفتی بننا طے ہے۔ اسی طرح والد گرامی کے متعلق مفتی صاحب ہمیشہ فرماتے ہیں کہ میرے والدبزرگ وار نے ہرموڑ پر ہرطرح میرا ساتھ دیا. آپ کے دادا مرحوم الحاج عبدالجلیل صاحب راعینی قصبہ کے معزز ہستیوں میں شمار کئے جاتے تھے؛ پابند صوم وصلوۃ کے علاوہ تسبیح و درود اور اہل خانہ کو موقع بر موقع پندونصیحت بہترین مشغلہ تھا، ایک عرصہ دارز تک قصبہ کے دارالعلوم انوارالعلوم کے مینیجر تھے اور تاحین حیات محلہ کی نوری مسجد کے متولی رہے۔ غرض کہ خاندان پہلے سے علم دوست اور مذہب کا خیرخواہ تھا۔

بیعت و ارادت[ترمیم]

چوں کہ آپ کے والدین کریمین خلیفۂ حضور احسن العلماء خطیب البراہین حضورصوفی محمد نظام الدین قادریؔ برکاتیؔ رضویؔ علیہ الرحمہ سے شرف بیعت وارادت رکھتے ہیں۔ اس لیے آپ نے بچپن میںہی حضور صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کے دست مبارک پر بیعت کرلی۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

آپ نے اپنے تعلیمی سفر کا آغازاپنے قصبہ گولا بازار کے مدرسہ الجامعۃ الرضویہ سے کی، مکتب وپرائمری کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد درس نظامی کی ابتدائی تعلیم کے لئے ۲۰۰۸ء؁ میں امام احمد رضا بندیشرپور اسکا بازار ضلع سدھارتھ نگر یوپی میں داخلہ لیااور دو سال تک وہاںحضرت علامہ مولانا صاحب علی چترویدی صاحب قبلہ سے ابتدائی کتابیں پڑھی اور حضرت قاری محمد شبیر یارعلوی صاحب قبلہ سے تجوید وقرأت کی کتابیں پڑھی، اسکے بعد ۲۰۱۰؁ء میں قصبہ گھوسی ضلع مؤ کے دارالعلوم بدرالعلوم میں داخلہ لیا استاذ الاساتذہ شہزادۂ حضور صدر الشریعہ حضرت علامہ فداءالمصطفی اعظمی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی سے شرح مأۃ عمل ،مرقات وغیرہ اور دوسرے اساتذہ سے بقیہ کتابیں پڑھی، اسکے بعد ۲۰۱۱؁ء میں جامعہ رضویہ اھلسنت مصباح العلوم محلہ بدھیانی ،خلیل آباد میں داخلہ لیا اور مسلسل چار سال تک جامعہ ھذا کے مؤقر اساتذۂ کرام سے (عالمیت تک) تعلیم حاصل کی جن کے اسماے درج ذیل ہیں :- حضرت علامہ مولانا سرور علی قادری، حضرت علامہ مولانا مفتی بیت اللہ رضوی، حضرت علامہ مولانا معراج احمد مصباحی، حضرت علامہ مفتی طاہر حسین مصباحی، حضرت علامہ مولانا سراج احمد مصباحی، حضرت مولانا محمد لئیق احمد مصباحی، جناب ماسٹر عبدالواحد صاحب۔ اخیر میں بین الاقوامی شہرت کی حامل درس گاہ دارالعلوم اھلسنت فیض الرسول براؤں شریف کا ارادہ کیا اور نہایت مستعدی کے ساتھ مندرجہ ذیل مؤقر و مشفق اساتذۂ کرام سے اکتساب علم کیا:۔ حضرت علامہ الحاج محمد اسمٰعیل ھاشمی، شہزادۂ حضور بدرملت علامہ مفتی محمد رابع نورانی بدری، حضرت علامہ مفتی شہاب الدین نوری، حضرت علامہ مفتی محمد مستقیم مصطفوی علیہ الرحمہ، حضرت علامہ مفتی نظام الدین نوری، حضرت علامہ مولانا علی حسن علوی ازہری ، حضرت علامہ مولانا اختر رضا ازہری دامت برکاتہ العالیہ


تدریسی خدمات[ترمیم]

بعد فراغت مادرعلمی دارالعلوم امام احمد رضا، بندیشرپور میں منصب تدریس وافتاء پر فائز ہوئے اور تادم تحریر نہایت مستعدی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں مصروف عمل ہیں۔

قلمی خدمات[ترمیم]

زمانہ طالب علمی ہی سے آپ کے اندر قرطاس وقلم کا بڑا شوق وزوق تھا چنانچہ آپ نے اپنی قلمی سفر کا آغاز بھی وہیں سے کیا اور مختلف مواضع پر کئی مضامین کے ساتھ ایک کتاب بھی لکھی فیض النحو جو مابین العلماوالطلبا کافی مقبول وممدوح رہی۔ علاوہ ازیں آپ نے دو رسالے بھی زد تحریر کیے قرآن ایک عالمگیر کتاب تعلیم ایک اہم ضرورت بعد فراغت درس وتدریس کے ساتھ آپ نے تحریر وتصنیف کا کام جاری رکھا، درج ذیل درجن بھر کتابیں اور رسائل آپ کے قلمی استحضار کا نتیجہ ہیں۔۔۔ فیض النحو

الاربعین الاعتقادیہ

تفہیمات نظامی

My first English Book

السکوت اولی من قیل وقال

عقائد اسلامیہ

شرک کی حقیقت

افعال العباد

مسند ابوہریرہ

فیض النحو حصہ دوم

تم بہترین امت ہو

رسالہ اسماے افعال

ان سب کے علاوہ صحافت کی دنیا میں بھی آپ کی ایک الگ شناخت ہے، چنانچہ آپ خود ایک اسلامک ویب پورٹل ہماری آواز اور دو ماہی آن لائن ہماری آواز ای میگزین کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ اور ساتھ ہی شمالی ہندوستان کے مشہور روزنامہ شان سدھارتھ کے صحافی بھی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]


بیرونی روابط[ترمیم]

دیگر