محمد صادقی تہرانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد صادقی اصفہانی عرف تہرانی
Image illustrative de l'article محمد صادقی تہرانی

معلومات شخصیت
پیدائش 21 مارچ 1926  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تہران   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 21 مارچ 2011 (85 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قم   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
رہائش قم
قومیت ایران
دیگر نام ڈاکٹر حاج شیخ محمد صادقی، خادم القرآن، علامہ،علامہ مجاہد
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ http://www.olumquran.com/ur

http://www.forghan.org

محمد صادق اصفہانی معروف بہ تہرانی 1 فروردین 1305 کو تہران میں پیدا ہوئے اور 10 فروردین 1390 کو قم میں انتقال کر گئے ( آپ شیعہ فقہا اور مراجع تقلید مفسر قرآن اور صاحب تفسیر "الفرقان فی تفسیر القرآن با القرآن و السنۃ" اور قرآن کریم کے مترجم ترجمان وحی " ہیں انھیں سید ابوالقاسم خوئی سے حکم اجتہاد حاصل تھا کہ اس میں آپ کو علامہ مجاہد سے خطاب [1]کیا گیا ہے اور قرآن کریم کے موضوعی حافظوں میں سے ہیں اور تفسیر سے متعلق متعدد تالیفات کی ہیں کہ انہی میں سے قرآن کی سلسلہ وار تفسیر " الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنۃ" 30 جلدوں پر مشتمل عربی زبان[2] میں اور اسی طرح قرآن کی 30 جلدوں پر مشتمل عربی زبان میں موضوعی تفسیر ہے (تفسیر الفرقان موضوعی ) اسی طرح قرآن کریم کی عربی زبان میں تفسیر البلاغ کے عنوان سے 1 جلد میں مختصر تفسیر ہے اور ترجمان فرقان کے عنوان سے پانچ جلدوں میں فارسی[3] میں تفسیر ہے اور ترجمان وحی کے عنوان سے فارسی زبان میں قرآن کی تفسیر ہے جومعارف الہی کے اس موضوع سے متعلق ممتاز دانشوروں اور ماہرین کے نوادرات میں شمار ہوتی ہے کہ اس تعداد اور مفہوم کی وسعت کے ساتھ قرآن کی تفسیر میں وارد ہوا ہے ،معدودے چند شیعہ مراجع تقلید میں سے تھے جنہوں نے حوزوی رسمی علمی مدارج کو طے کرنے کے علاوہ یونیورسٹی کے کلاسیکل اعلیٰ تعلیمات نیز الہیات اور معارف الہی میں ڈاکٹیریٹ کی سند حاصل کی اور انہوں نے چار سبجیکٹ حقوق،علوم تربیتی ،فلسفہ اور فقہ میں معقول اور منقول کالج سے (الہیات اور معارف اسلامی ) تہران یونیورسیٹی سے 1338ھ ش میں سند حاصل کی ۔[4]

کلی تعارف[ترمیم]

محمد صادق تہرانی عالم اسلام کی تاریخ معاصر میں قرآنی بیداری[5] کے رہبر شمار ہوتے تھے ، اور قم ، نجف، مکہ، مدینہ، بیروت، سوریہ کے حوزہ ھای علمیہ میں کلام وحی الہی کے ادراک اس کے حقائق ،ظرائف کی نشر و اشاعت کے لئے نصف صدی سے زیادہ مجاہدت اور قرآن کے اندر بے نظیر غور و خوض اور کاوش اور فقہی ،اصولی ، مقارنات ادیان، فلسفی، عرفانی، اعتقادی اور سیاسی وغیرہ موضوعات پر قرآن کی روشنی میں بہت ساری کتابیں تالیف کی ہیں اور عالم اسلام کی تاریخ معاصر میں بیداری قرآنی سے متعلق جدید بنیاد ڈالی ۔

آپ عصر حاضر کے ان فقہاء اور مفسرین میں سے ہیں کہ آپ کی تفسیر الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن و السنۃ ایک ممتاز اور مایہ ناز اور عالم اسلام میں آخر صدی کی قابل توجہ تفسیر میں شمار ہوتی ہے۔ ان کے 100 سے زیادہ قابل توجہ آ ثار ہیں کہ آپ کی قرآن شناسی کے سلسلہ میں خاص تخصص اور مہارت کی وجہ سے قابل توجہ رہے ہیں ۔ ان آثار میں سے بہت سارے مختلف موضوعات پر قرآنی ہیں۔جیسا کہ آپ کے دیگر آثار فقہ، کلام اور فلسفہ وغیرہ موضوعات پر ہیں کہ وہ بھی قرآنی رنگ کے حامل ہیں، چنانچہ آپ کی کتاب "تبصرۃ الفقہاء" کو قرآن کے محور پر فقہی ابواب کا ایک مکمل تقابلی دورہ شمار کیا جاسکتا ہے۔

آیۃ اللہ صادقی تہرانی قرآن کی قرآن سے تفسیر کی روش کا واقعی عقیدہ رکھتے تھے اور قرآن پر اصلی اعتماد اور اسی کی روشنی میں ناقدانہ نظریہ کے ساتھ دیگر دینی مآخذ پر بھی نظر ڈالی ہے اور اسی وجہ سے بعض موارد میں آپ کی طرف سے خاص نظریات پیش کئے گئے ہیں ۔آپ نے تفسیر کے ساتھ ساتھ دسیوں سال پہلے ادیان کے تقابلی مطالعہ کے سلسلہ میں بھی اپنی وسیع علمی کوشش کی ہے اور اس سلسلہ میں متعدد تالیفات اور کثیر مطالعات کے علاوہ چند سالہ عربی ممالک میں قیام اور سکونت کی وجہ سے دیگر ادیان کے علماء اور دانشوروں سے گفتگو بھی کی ہے۔[6]

ادیان کے تقابلی مطالعات کے سلسلہ میں آپ کے آثار عقائدنا ،المقارنات،رسول الاسلام فی الکتب السماویہ،بشارات عھدین ،مسیح از نظر قرآن اور انجیل جیسی کتابوں پر مشتمل ہیں اس کہ علاوہ کہ آپ کے اس سلسلہ میں تفسیر "الفرقان" میں قیمتی اور انمول مطالب مربوط آیات کے ذیل میں دکھائی دیتے ہیں ۔مذکورہ آثار میں سے ہر ایک میں ادیان ابراہیمی کے پہلووں میں سے کسی ایک پہلو اور اس کی تعلیمات کو بیان کیا ہے اور یہ اس سلسلہ میں آپ کے وسیع اور جامع مطالعات اور عمیق اور گہری معلومات پر دلالت کر رہے ہیں ۔

آیۃ اللہ العظمیٰ ڈاکٹر محمد صادقی تہرانی تفسیر الفرقان میں قرآن کی قرآن سے تفسیر کی روش سے استفادہ کیا ہے اور اپنے استاد محمد حسین طباطبائی کے بعد ان لوگوں کے زمرہ میں شمار ہوئے ہیں جنہوں نے سنجیدگی کے ساتھ واقعاً اس روش سے استفادہ کیا ہے ۔آپ نے فقہی، فلسفی، عرفانی وغیرہ سارے ابعاد اور جوانب کے لحاظ سے یہاں تک عربی ادب کے اعتبار سے بھی خود قرآن سے تمسک کیا اور خاص کر آیات احکام کی اپنی تفسیر میں خاص تحقیق کی ہے۔[7]

انہوں نے فقہ پویا اور فقہ قدیم کہ جس کی بنیاد پر تمام شیعہ فقہا فتویٰ دیتے ہیں یعنی فقہ پویا کی بنیاد پر صدور احکام کے لئے فتویٰ دیتے ہیں کے مقابلے میں فقہ گویا پیش کی ہے کہ اس میں استنباط کا محور صرف اور صرف قرآن ہے اور سنت قطعیہ قرآن سے مطابق ہونے کی صورت میں استنباط کا مرجع ہے۔

آقا صادقی تہرانی کی فقہی روش میں کہ جس کا انہوں نے فقہ گویا نام رکھا ہے، علم رجال حجت آور نہیں ہے بلکہ صرف حدیث کا قرآن کے مفہوم و معنی کے مطابق ہونا معیار ہے۔ انہوں نے اس روش سے ان دو حدیثوں کے درمیان کہ ایک معتبر ہو لیکن قرآن کے مخالف اور دوسری ضعیف ہو لیکن قرآن کے موافق ہے تو انہوں نے دوسری حدیث کو قبول کیا ہے ۔ آیۃ اللہ ڈاکٹر صادقی تہرانی پہلوی نظام کی مخالفت اور انقلاب سے پہلے سیاسی بہت ساری سرگرمیوں اور مقابلوں اور سید روح اللہ خمینی سے قریبی ترین رابطہ کے باوجود ولایت مطلقہ فقیہ اور غیر شورائی فردی ولایت کے مخالف تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

آپ 1305 ھ ش کو تہران میں حاج شیخ رضا لسان المحققین کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے اور تقریباً 13 سال کی عمر میں میرزا محمد علی شاہ آبادی روح اللہ الموسوی امام خمینی کے استاد تفسیر کے عرفانی دروس میں شرکت کی اور ایک سال مقدماتی دروس میں شرکت کرنے کے بعد قم آگئے ،اور 3 سال کے عرصہ میں سطح کے دروس تمام کر دیئے ۔ اور جب 1323ھ ش میں سید حسین طباطبائی بروجردی قم آئے تو آقا بروجردی کے دروس میں 7 سال تک بہت سارے سفر میں دروس پڑھنے میں سرگرم ہوگئے اور فقہی مسائل میں نظریہ دینے لگے ،پھر ان دونوں کے دروس میں شرکت کرتے اور میرزا احمد آشتیانی اور میرزا مھدی آشتیانی کے فلسفی دروس سے فیض حاصل کرتے تھے۔

پھر قم میں 10 سال رہنے کے بعد تہران واپس آگئے اور علمی اور سیاسی مسائل میں سرگرم عمل ہوگئے اور محمد رضا شاہ کے خلاف نفت کے قومیانے کی تحریک میں آیت اللہ کاشانی اور محمد تقی آملی سے علمی اور فقہی مراحل کے استمرار کے لئے ارتباط رکھا ۔ تہران میں 10 سالہ قیام کے دوران معقول اور منقول (الہیات اور معارف اسلامی ) کالج سے چار سبجیکٹ حقوق، علوم تربیتی، فلسفہ اور فقہ میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد معارف اسلامی عالی کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا ۔

اور اس یونیورسیٹی میں "آفریدگار اور آفریدہ" (خالق و مخلوق) کتاب سے قرآن اور سنت کی روشنی میں حکمت (اسلامی فلسفہ) کی تدریس کی اور تہران میں سات مقامات پر شاہی حکومت کے خلاف علمی اور سیاسی دو محور پر جلسہ منعقد کرتے تھے جو طالب علموں کی توجہ کا مرکز ہوتا تھا ، وہ ان منبروں کی وجہ سے جو آپ نے تشکیل دیا تھا شاہی حکومت کی دھمکی اور اس کی کڑی نظر کا شکار ہوئے۔

1341ھ ش کو شاہ مخالف مقابلوں میں بالخصوص آیت اللہ بروجردی کی سالانہ برسی کی مناسبت سے مسجد اعظم قم میں شاہ کے خلاف تقریر کرنے کی وجہ سے ساواک کی طرف سے پھانسی کا حکم صادر ہوا تو آپ نے حج کے ارادہ سے خفیہ طور پر ایران کو ترک کردیا اور مکہ و مدینہ میں عربی اور فارسی زبان میں شاہ کے خلاف تقریر کرنے اور پوسٹر لگانے کی وجہ سے حج اورعمرہ کے درمیان گرفتار کر لئے گئے اور آپ نے حکومتی مامورین کے حصار میں فریضہ حج انجام دیا لیکن سعودی حکومت کے سامنے آپ نے جو استدلال پیش کیا اور مسجد الحرام میں عراقین کے علماء کے دھرنا دینے اور اجتماؑ ع کرنے کی وجہ سے آزاد ہوگئے اور وہاں سے عراق چلے گئے نجف اشرف میں 10 سال تک تفسیر، فقہ،اخلاق کی تدریس کے ساتھ ساتھ علمی قرآنی ،سیاسی سرگرمیوں کے باوجود خطابت اور تالیف کے سلسلہ کو جاری رکھا اور ایرانی حکومت کی درخواست پر عراقی حکومت نے ایران کی ساواک کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا ،لیکن آپ کے آیۃ اللہ سید ابو القاسم خوئی کے گھر میں مخفی ہو جانے اور آپ کی حمایت کی وجہ سے ان کی گرفتاری نا ممکن ہو گئی ۔

آیۃ اللہ صادقی تہرانی ایرانیوں کے نجف اور عراق کے سارے شہروں سے نکالے جانے کے ساتھ بیروت چلے گئے اور 5 سال تک لبنان میں سرگرم عمل رہے اور لبنان کی داخلی جنگ کے شدید ہوجانے کی وجہ سے لبنان کو حجاز کے قصد سے ترک کردیا اور حجاز آگئے، مکہ اورمدینہ میں پوری دنیا کی علمی اور سیاسی شخصیات کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے درمیان قرآنی تفکر کی ترقی اور اس کی توسیع کے لئے سرگرمیاں دکھائیں اور وہاں پر وھابی علماء سے قرآنی مناظرہ کرنے کے اور اس میں کامیاب ہونے کے علاوہ آل سعود کے مرکز حکومت میں اہلسنت کے ایک سو 100 سے زیادہ خاندان کو قرآنی دلیلوں اور کبھی کبھی قرآن کی ایک آیت (سورہ فاطر کی 33ویں آیت) سے مذہب اہلبیت کی جانب دعوت دی اور انھیں شیعہ کردیا ،پھر دوسری بار 17 سال کے فاصلہ سے گرفتار کر لئے گئے اور آزاد ہونے کے بعد دوبارہ لبنان آگئے ،گرفتاری کے دونوں ہی مرحلوں میں مکہ کی جیل میں قید رہے پھر دوسرے قید خانہ میں دو ھفتہ گذارنے کے بعد بیروت واپس آگئے اور وہاں سے سید روح اللہ خمینی سے ملاقات کرنے پیریس چلے گئے ،پیریس میں قیام اور سید روح اللہ خمینی کے جلسوں میں شرکت کرنے کے دورا ن متعدد یونیورسیٹیوں میں قرآنی اور سیاسی تقریریں کیں ۔

وہ سید روح اللہ خمینی کے ایران واپس آنے کے چند دنوں بعد 17 سال وطن سے دور رہنے کے بعد کہ اس کے دوران 4 بار ساواک کے حکم سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی ،دوبارہ ایران واپس آئے اور قم میں مقیم ہو گئے اور اپنے دروس نیز تالیفات اور تقریروں کا سلسلہ جاری رکھا۔لیکن اجرائی کاموں میں شرکت نہیں کی ،جز انقلاب کے آغاز میں چند دنوں کہ آپ نے سید روح اللہ خمینی کی خواہش پر لوگوں کے سوالوں کے جوابات دیئے ہیں اور اس سے پہلے پورے ایران میں تقریروں کے علاوہ رسمی اور قانونی طور پر نماز جمعہ کے قائم کرنے سے پہلے پورے ایران کےبعض صوبوں کے مراکز اور شہروں میں نماز جمعہ قائم کی ان میں سے سب سے پہلی نماز جمعہ مشہد اور دائمی طور سے قم کی مسجد جمکران ، صنعتی شریف یونیورسیٹی اور تہران یونیورسیٹی کی مسجد میں چند جمعہ قائم کی اس کے بعد سید روح اللہ خمینی نے سید محمد طالقانی کو تہران کا امام جمعہ معین کردیا۔پھر قم میں نماز جمعہ ترک کرنے کے بعد اپنا سارا وقت تدریس اور تالیف میں صرف کردیا اور قم میں 10 سال قیام کے دوران عربی اور فارسی زبان میں تدریس کے فرائض کے علاوہ 30 جلدی الفرقان کی تفسیر کی 25 جلد تالیف کردی ۔

آپ کہتے تھے :مجھے یاد ہے کہ علامہ طباطبائی نے فرمایا تھا کہ جب تک یہ تفسیر تمام نہ ہوجائے کوئی دوسری کتاب نہ لکھنا تو ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے 3 11جلد کتاب کہ ان میں سے نصف جلدیں عربی زبان میں ہیں، تالیف کی ہیں کہ ان سب میں زیادہ مشہور تفسیر الفرقان فی تفسیرالقرآن بالقرآن و السنۃ ہے جسے 10 سال کی مدت میں اپنے استاد سید محمد حسین طباطبائی کی تشویق پر شہرقم میں تمام کیا۔

وفات[ترمیم]

صادقی تہرانی نے 1390 کو وفات پائی ، اور حضرت فاطمہ کے حرم میں آیۃ اللہ اشکوری نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کے بعد 3 فروردین 1390ھ ش کو قم کے باغ بہشت قبرستان میں سپرد لحد کرد یئے گئے ۔

تفسیری روش[ترمیم]

علامہ محمد صادقی تہرانی نے قرآن کی تفسیر میں دیگر مفسرین سے جداگانہ اور منحصر بہ فرد طرز اور اسلوب کا استعمال کیا ہے ایک قرآن کی قرآن سے اور دوسری قرآن کی سنت سے تفسیر کی ہے، لیکن تفسیر کے مقدمہ میں اظہار کرتے ہیں :کہ تفسیر کی مناسب ترین اور بہترین روش وہی قرآن کی قرآن سے تفسیر ہے ۔ آپ لکھتے ہیں : تفسیر کے تمام طریقے اور اسلوب غلط ہیں سوائے قرآن کی قرآن سے تفسیر کے اور یہی پیغمبر اکرم ﷺ اور ائمہ معصومین کا طرز تفسیر ہے لہذٰا مفسرین کو تفسیر کی یہ روش معصوم معلمین سے اخذ کرنی چاہیے اور تفسیر آیات میں اس کا استعمال کرنا چاہیے ۔

دوسری جگہ پر لکھتے ہیں :" تفسیر ی روشیں دو حال سے خارج نہیں ہیں : یا قرآن کی قرآن سے تفسیر ہے یا قرآن کی تفسیر بالرا ئے کے ذریعہ کہ مفسر اس پیش کردہ طریقہ اور اسلوب کی تحلیل اور تائید کے ذریعہ آیات سے استدلال کرتا ہے کہ قرآن کو نور، برھان، بیان اور ہدایت بتاتا ہے اور کہتا ہے:"جو چیز خود بیان اور ہدایت ہے اور اپنے غیر کے لئے مرجع اور تکیہ گاہ شمار ہوتی ہے وہ غیر کو روشن کرنے سے پہلے خود اپنے آپ کے لئے مبین اور روشن کرنے والی ہو۔

مفسر کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کی قرآن سے تفسیر سب سے پہلے قرآنی مفاہیم اور معارف تک رسائی کا ذریعہ ہے، معنی کا وہ مرتبہ جو دلالت مطابقی کے حدود میں واقع ہوتا ہے اس خصوصیت کے ساتھ کہ گہرے اور عمیق مفاھیم کی جڑ معانی اور منطوق میں موجود ہے اور اس کی روشنی میں شکل اختیار کرتے ہیں ،اس طرح سے کہ اس کی صحت اور سقم آیات کے منطوق کی برابری اور عدم برابری میں ہے کیونکہ روایات کی ارزش اور اہمیت کا اندازا لگانے اور اس کی صحت اور سقم کی جانچ کرنے میں قرآن کی محو ر یت کے افتضاء سے آیات کا منطوق روایات کے قرآن کے موافق اور نا موافق ہونے میں معیار قرآن ہے ۔نتیجتاً تفسیر ماثور اور منقول آیت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ معنی کے لحاظ سے اس کے بعض مراتب ہیں کے کہ ظاہر آیت کے پرتو میں دیگر آیات کی مدد سے حاصل ہوا ہے،قرآن کی سنت سے تفسیر قرآن کی قرآن سے تفسیر کے مانند ہے۔

ڈاکٹر صادقی تہرانی اپنی تفسیر کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:"کم سے کم جس چیز کا اقدام کرنا چاہیے عبارت کا سمجھنا ہے کہ وہی آیت کے مطابقی اور ظاہری معنی ہیں ۔پس اس مطابقی معنی ،دیگر معنی کے زاویوں کو کشف کرنے کی اساس اور بنیاد قرار پائے گا ،لطائف اور حقائق کی تفسیر کے چار مرتبے اور مرحلے ہیں:عبارت کی تفسیر،اشارہ ،لطائف اور حقائق کی تفسیر پس یہی ظاہری معنی حدیث کے قرآن پر پیش کرنے کا معیار ہے تفسیر کے عملی نمونے بھی اسی واقعیت اور حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ مفسر تفسیر ماثور کے قبول کرنے میں ہر چیز سے زیادہ آیت کے معنی کے مختلف مرتبوں سے سازگار ہونے کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے ۔

اور ہر جدید معنی کا حصول آیت کے ظاہری مفہوم کے پرتو میں اس کی اس سے مطابقت کی جستجو اور تلاش کرتا ہے۔اس طرح سے کہ مفسر کا طریقہ در حقیقت وہی قرآن کی قرآن سے تفسیر کی تجویز کا طریقہ ہے اگر چہ اس نے سنت سے بھی استفادہ کیا ہے ،ایک جہت سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی تفسیر تحلیلی،اجتہادی،تربیتی اور اجتماعی تفسیروں کی ردیف میں شمار ہو تی ہے۔

فقہی روش[ترمیم]

آپ نے کتاب اصول الاستنباط کے بعض حصوں میں اور اصول استنباط فقہی کے حصہ میں اور فقہی روش میں جسے آپ نے اپنی رسمی سائٹ میں شائع کیا ہے قرآن و سنت (کتاب کے محور پر) کو فقہی استنباط اور قطعی اور معصوم دلیلوں کی روشنی میں بنیاد جانتے ہیں ان کی نظر میں کتاب و سنت ایک دوسرے کے مطابق بھی ہیں اور اخلاقی،اعتقادی،انفرادی،اجتماعی،عبادی اور سیاسی احکام وغیرہ کا محور صرف اور صرف قرآن ہے اور دوسرے مرتبہ میں وحی قرآنی پر منطبق سنت ہے اور نصوص کے لحاظ سے صرف کتاب اللہ دلیل ہے جو جواز آور بھی ہے اور شرعی دلیل بھی ۔

آپ اس طرز اور اسلوب سے شیعہ اور سنی کے مشہور فقہی استنباط اور استدلال کے اصول و قواعد منجملہ عقل،اجماع اور شہرت کو استقلالی طور پر اور علماء کی سیرت ،خبر واحد ظنی،قیاس ،استحسان اور استصلاح وغیرہ کو بطور مطلق قرآن سے استدلال کرتے ہوئے مردود جانتے ہیں اور تصریح بھی کرتے ہیں کہ"اطباق" ضرورت،اجماع،شہرت اور ویژہ روایت جو قرآن کے مخالف ہو مردود اور قابل قبول نہیں ہے ،لیکن جو اجماع،شہرت اور ہر وہ روایت جو قرآن کے مخالف نہ ہو اور کوئی معارض نہ رکھتی ہو اور علمائے امامیہ کے طریق سے ہم تک پہونچی ہو آیہ کریمہ " قُلْ فَلِلَّہِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاِءَ لَهَدَاکُمْ َاجْمَعِينَ'" کے مطابق مقبول ہے ،کیونکہ اگر شارع مقدس اس کے مخالف ہو تے تو حتما اس سے رسا ترین حجت ہم مکلفین کے لئے ارسال کرتے اور دو روایت کے درمیان تعارض کی صورت میں عمر بن حنظلہ کی مقبولہ میں منقول مر جحات مقبول ہیں۔

آپ کی نظر میں اصلی محور تمام دینی میدانوں میں "قرآن ہے،کیونکہ خداوند ارشاد فرماتا ہے:" وَ اتْلُ ما أُوحِيَ إِلَيْکَ مِنْ کِتابِ رَبِّکَ لا مُبَدِّلَ لِکَلِماتِهِ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَداً" تلاوت کرو ان چیزوں کی جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف وحی ہوئی ہے اس کے لئے کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور قرآن کے سوا کوئی(رسالتی اور وحیانی) پناہ گاہ نہیں پاؤ گے" (کہف آیت 27) بنابر ایں آیہ مبارکہ مسلین بھی پیغمبر پر نازل ہونے والی وحی کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کے سوا کوئی مرجع اور پناہ گاہ نہیں پا یئں گے۔

پس کوئی بھی حدیث خواہ متواتر ہو یا غیر متواتر نص کی مخالفت یا قرآن میں ثابت ظاہر کی مخالفت کی صورت میں مردود ہے لیکن جس حدیث کو امامیہ کی اکثریت نے نقل کیا ہو اور کوئی معارض بھی نہ ہو اور اس کے بارے میں قرآن نے بھی کوئی نفی یا اثبات نہ کیا ہو تو وہ "اطيعواالله و اطيعوا الرسول و اولي الامر منكم" کے باب سے مقبول ہے۔

اور اس طرح کی احادیث حروف مقطعہ اور آیات قرآن کے رمز سے ماخوذ ہے کہ سورہ کہف کی 27ویں آیت تمام احکام کا سرچشمہ قرآن کو جانتی ہے اور بس ،نتیجتاً سنت قرآن کے رموز اور اسی قرآنی وحی سے ماخوذ مرحلہ حقائق میں یا تا ویل ہے لہذٰا سنت کسی صورت قرآن کے مقابلہ میں نہیں ہے کہ اس کی ناسخ ہوسکے۔ قرآن میں موجود نص یا ظاہر اگر نسخ ہوگا تو اس میں موجود ظاہر اور نص سے ہی ہوگا۔

ضمناً یہ بھی یاد رہے کہ ظنی دلیل بھی قرآن کی نظر میں مردود ہے کہ آیہ کریمہ" لا تقف ما لیس لک بہ علم" جس کی نسبت تمہیں علم نہیں ہے اس کی پیروی نہ کرو " کبھی اصول دین سے مخصوص نہیں ہے ،کیونکہ یہ غیر علم کی ممنوعیت فرعی احکام کے بعد آئی ہے لہذٰا احکام الہی میں ظن اور گمان کبھی کوئی نقش نہیں رکھتے کیونکہ:" إن الظن لا يغني من الحق شيئا " اگر اسلامی کتابیں حوادث زمانہ سے نابود ہوگئی ہیں تو اپنی حجت بالغہ کے بیان میں اللہ کا علم اور اس کی رحمت و قدرت نابود نہیں ہوئی ہے۔

علامہ صادقی تہرانی علم رجال کے کردار کو زیادہ تر موضوعات میں جانتے ہیں اور معتقد ہیں کہ پوری تاریخ میں اسلام کے آغاز سے آج تک خود غرض اورجدال کرنے والوں نے بہت ساری احادیث کی عبارت کو جعلی اسناد کے ضمیمہ کے ساتھ جعل اور گڑھ لیا ہے اور نتیجتاً صحیح السند احادیث کے عنوان سے قرآن کے ثابت و پائیدار نص یا ظاہر کے خلاف ہمارے حوالہ کر دیا ہے، آپ اپنی کتاب "غوص فی البحار" میں تقریباً شیعہ اور سنی کی حدیث کی 180 جلد کتابوں کی کتاب اور سنت کی بنیاد پر نقد کی ہے۔

ان کی نظر میں خبر واحد کی ظنی حجیت مردود ہے یعنی اس کی حجیت کی دلیلیں پورے طور سے قرآن کی آیت کے مقابلہ میں ہیں کہ اس نے ظن پر عمل کرنے کو رد کیا ہے" لا تقف ما لیس لک بہ علم" جس کا تمہیں علم نہیں ہے اس کی پیروی نہ کرو ۔ اس بنا پر قرآن سے استدلال کی وجہ سے خبر واحد کی حجیت کی معالم ،رسائل اور کفایۃ میں جو دلیلیں ذکر ہوئی ہیں کو ساری کی ساری دلیلوں کو مختلف مرحلوں میں نقض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ ملاحظہ کریں کہ خداوند عالم نے کتاب اور سنت دونوں کے لحا ظ سے باب علم کو مفتوح رکھا ہے لیکن سنتی فقہائے عظام نے باب علم کو مسدود کردیا ہے، اسلام ظنی نہیں ہے اور اس وقت خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے : قُلْ فَلِلَّہِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاِءَ لَهَدَاکُمْ َاجْمَعِينَ (انعام 6/149) آیات حجت بالغہ،حجت رسا اور علمی ہیں یا ظنی ؟ حجت ظنی رسانہیں ہے کیونکہ جو علم نہیں ہے وہ نہ رسا ہے اور نہ حجت ہے۔بنابر ایں افسوس ہے کہ باب علم کے مسدود ہونے کے قائل حضرات نے در حقیقت اسے بند کردیا ہے یعنی باب قرآن اور سنت قطعیہ کےعلم کو بند کردیا ہے۔

نظرات[ترمیم]

ولایت مطلقہ فقیہ[ترمیم]

اگر چہ آپ ایران میں پہلوی نظام حکومت کے مخالف تھے اور اس دور میں کافی سیاسی سرگرمیاں بھی دکھائی ہیں اور روح اللہ خمینی ؒ سے کافی گہرا اور قریبی رابطہ بھی تھا لیکن انقلاب کے بعد ولایت مطلقہ فقیہ کے موافقین میں نہیں تھے۔

آپ عصر غیبت میں فقہا کی کمیٹی کی ولایت کے قائل تھے کہ وہ شوریٰ اور کمیٹی بھی لوگوں کی آرا سے منتخب نہیں ہو گی ان کا نظریہ تھا کہ ہر انتخاب میں رائی اور ووٹ دینے والے اس موضوع میں مہارت رکھتے ہوں اور غیر تخصصی رای کو حرام جانتے تھے ۔لہذٰا آپ معمول اور رائج طریقہ سے ریفرنڈم اور انتخابات منعقد کرنے کے موافق نہیں تھے اور لوگوں کے نظریات کو بروئے کار لانے کے لئے دیگر طریقوں اور راہوں کے قائل تھے ۔

فرد کبھی مشروعیت اور جواز کی بنیاد نہیں ہوسکتا ،ولایت مطلقہ خدا کا حق ہے اور شرعی ولایت پیغمبر ﷺ کا حق ہے ،علما کلی ولایت کے مالک نہیں ہیں کیونکہ یہ بھی خطا کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔[8]

ولایت مطلقہ فقیہ سے متعلق آپ کا نظریہ ایرانی عوام کے درمیان قابل توجہ مقبولیت کا حامل ہے ۔ ایرانیوں کی تعلیم یافتہ اکثریت ان کے نظریہ کو اقتدار پسند لوگوں کہ گروہ کے تفکرات سے متفاوت قلمداد کرتی ہے۔[9]

بلوغ کے متعلق[ترمیم]

آیت اللہ صادقی تہرانی کی نظر میں بلوغ کے نشیب و فراز اور اس کے تمام مرحلوں میں عقلی یا جسمانی یا جنسی یا مالی اور یا اجتماعی ہے اور بلوغ کو 6 قسموں میں تقسیم کرتے ہیں :

  • - بلوغ نماز:لڑکا اور لڑکی کا درمیانی سن بلوغ 10 سال کے آغاز سے اور کبھی 10 سال سے زیادہ سے یا اس کے بعد یہ بلوغ حاصل ہوتا ہے۔
  • - روزہ رکھنے کا بلوغ:روزہ رکھنے میں بلوغ کی عمر کا معیار جسمانی توانائی ہے اور لڑکا و لڑکی کے لئے اس کی درمیانی عمر 13 سال ہے۔
  • - بلوغ ازدواج:اس بلوغ کا معیار ازدواجی توانائی ہے اور عام طور پر لڑکیاں لڑکوں سے کچھ پہلے بالغ ہوجاتی ہیں جیسا کہ لڑکیوں کے حجاب کا بلوغ بھی لڑکوں کے جنسی بلوغ سے پہلے ہے۔
  • - بلوغ اقتصادی: اس بلوغ میں لڑکے عام طور پر لڑکیوں پر ترجیح رکھتے ہیں ؛کیونکہ ان کے اندر اپنی اقتصادی کوشش اور تلاش کی صلاحیت اور رشد زیادہ ہے بالخصوص شرعی حقوق کی ادائیگی کے سلسلہ میں جیسے حج،عمرہ اور تمام وہ عبادت جن میں مال کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • - اسلام کی تبلیغ کا بلوغ :امر بالمعروف اور نہی از منکر ہے کہ ضروری شرائط کے ہونے کے وقت لڑکا اور لڑکی دونوں ہی پر واجب ہوجاتا ہے اور لڑکوں کی ذمہ داری لڑکیوں سے زیادہ ہے کیونکہ لڑکے وسیع ترین اجتماع اور معاشرے میں زندگی گذارتے ہیں۔
  • - جہاد اور دفاع کا بلوغ : یہ واحد شرائط لڑکوں پر واجب ہے لیکن کلی اور عمومی فوج کی ضرورت کی صورت میں لڑکیوں پر بھی واجب ہوجاتا ہے اور اس کے تمام مرحلوں میں بلوغ کے نشیب و فراز کا معیار عقلی یا جسمانی یا جنسی یا مالی یا اجتماعی توانائی ہے۔

ملائکہ کا سجدہ آدم[ترمیم]

علامہ صادقی تہرانی اکثر مفسرین کے رائج نظریہ کے خلاف ملائکہ کے سجدہ کو آدم کی خلقت کے شکرانہ کے طور پر خدا کا سجدہ جانتے ہیں نہ آدم کا اور سورہ اعراف کی 11ویں آیت کی تفسیر میں غور و خوض کرنے سے اس طرح تفسیر کرتے ہیں:اور یقیناً ہم نے تم کو ہموار زمین میں (تمہارے امکان اور توانائی کے بقدر) رہنے کا ٹھکانا دیا اور اس میں تمہارے لئے معیشت کے اسباب فراہم کئے (لیکن) بہت کم لوگ شکر گزار ہیں ) 10 ( اور بیشک ہم نے تم کو خلق کیا اس کے بعد ہم نے تمہاری تصویر بنائی اس کے بعد ہم نے فرشتوں سے کہا : آدم کی تعلیم کے شکرانہ کے لئے (میرا) سجدہ کرو پس (سب) نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے (کہ) سجدہ کرنے والوں میں نہ تھا !

آپ کے عقیدہ اور نظریہ کے مطابق سورہ اعراف کی 11ویں آیت میں کہ یہاں پر آدم کے لئے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حق تعالیٰ کا فرمان ہے۔ وہ آدمیوں کی تخلیق اور تصویر بنانے کے بعد ہے جو دو بنیاد پر استوار ہے۔

خود حضرت آدم میں انسانوں کی خلقت اور تصویر خاص طریقہ سے محقق اور ثابت ہے کہ آئندہ میں نسلوں کا سلسلہ اسی پر استوار ہے اور یہ خلق اور تصویر دونوں ہی فعلی اور شانی رخ سے ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں ،اس کا موجودہ چہرہ آدم اول میں نمودار تھا کہ اس میں خلقت اور موجودہ تصویر دونوں تھی لیکن ان کی ذریت کی نسبت کہ ان کی صلب اور حضرت حوا کا رحم تھا اس کی خلق کا وجود وہی ذریت کی حالت ہے اور تصویر ان ذریتوں کی گوناگوں صورتیں ہوں گی۔

یہ "کم" کی خلقت بھی "صورنا کم" میں ہے کلی طور پر فعلی حالت پر ناظر ہے (ہر ایک اپنے اپنے زمانہ میں) اس کے بعد فرشتہ کے آدم کے معلم ہونے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے لئے سجدہ کرنے پر مامور ہوئے ہیں اس سے مراد ہے، بالخصوص محمد اور محمد والے اور تمام انبیاء اور معصومین ؑ کہ کلی طور پر آدم سے برتر ہیں اور یہ نکتہ اس کی معنوی جہت کے علاوہ " ثم قلنا لِلملائکه" کہ اللہ کا یہ حکم فرشتوں کے سجود کی نسبت انسانوں کی خلقت اور اس کی تصویر کے بعد ہے اس کی پہلی حالت آدم ہیں اور اس کی بعد کی حالت تمام معصومین ہیں۔

فرشتہ جو حضرت آدم کے معلم ہونے کے شکرانہ کے طور پر خدا کے لئے سجدہ کرنے پر مامور ہوئے اس سے مراد شخص آدم نہیں تھے بلکہ اس سے تمام شائستہ انسانیت اور آدمیت مراد ہے بالخصوص حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اہلبیت ؑ اور تمام محمدی معصومین ؑ ہیں کہ سارے کہ سارے آدم سے برتر ہیں اور اور یہ نکتہ اس کی معنوی جہت " ثم قلنا لِلملائکة" کے علاوہ کہ فرشتوں کے سجود کی نسبت امر الہی انسان کی خلقت اور اس کی تصویر کے بعد ہے ۔اس کی سب سے پہلی حالت آدم ہیں اور اس کے بعد کے حالات تمام معصومین ہیں۔

2۔یہ بات کہ سجدہ شخص آدم کے لئے نہیں تھا بلکہ تمام بلند و بالا انسانیت کے لئے ہے کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اہلبیت ؑ اس بلند وبالا انسانیت کی بلند ترین چوٹی پر واقع ہیں چنانچہ شخص آدم اسماء کی تعلیم کے سلسلہ میں فرشتوں کے اتنے شائستہ معلم رہے ہیں ،دیگر انبیائے الہی کی نسبت محمدیان ( اہلبیت ؑ) اس کے بلند ترین درجات میں واقع ہیں ۔اور جیسا کہ ہم نے مناسب جگہوں پر بیان کیا ہے کہ مورد سجدہ خود حضرت آدم ؑ نہیں تھے؟ کیونکہ عقل ، فطرت اور کتاب و سنت کے مطابق غیر خدا کا سجدہ حرام ہے ،اس قانون کی بنا پر آدم کے لئے سجدہ اور حضرت یوسف کے والدین کا یوسف کے لئے سجدہ ،سجدہ شکر تھا کہ سجدہ کا متعلق "اللہ" ہے اور سجدہ کا سبب اللہ کی خلق کے آدم کی نسبت فرشتوں کے لئے سجدہ کا حکم اور یوسف کی نسبت ان کے والدین کو سجدہ کا حکم بہت بڑی نعمت ہے۔

"اسجدوا" فعل لازم ہے اس قانون کی بنیاد پر سجدہ کے مسجود کی نسبت شامل ہونے کے لئے حرف تعدیہ لازم ہوگا اور چونکہ سجدہ کا متعلق صرف خدا ہے ،یہاں پر "اللہ" محذوف ہے کہ فطری طور پر اس کی لام تعدیہ کے لئے ہے لیکن لآدم میں لام تعدیہ کی نہیں ہے بلکہ آدم کی تکریم کی غرض سے ہے کہ مجموعی طور پر اس جملہ کے معنی اس طرح ہوں گے :آدم کی تعظیم کے لئے کہ تمہارے معلم ہیں اس کے شکرانہ کے طور پر خدا کا سجدہ کرو ۔اس قانون کی بنیاد پر نہ عبودیت کے عنوان سے آدم ان کے مسجود ہیں اور نہ ہی احترام کے عنوان سے بلکہ (عبودیت اور احترام دونوں میں) مسجود لہ صرف اور صرف خدا ہے اور آدم اصطلاحی اعتبار سے (مسجود لا جلہ) رہے ہیں ،اس کی مثال یہ ہے کہ اگر خدا آپ کو کوئی عظیم نعمت یعنی مال یا اولاد عطا کردے تو اس نعمت کے شکرانہ کے طور پر خدا کا سجدہ کر وگے تو کیا آپ کے سجدہ کا مورد مال اور آپ کی اولاد ہے؟ ہرگز نہیں ! بلکہ یہ خدا ہے کہ اس نعمت کے شکرانہ کے طور پر آپ اس کاسجدہ کریں گے؟

آپ کے بعض فتوے اور نکتہ چینی[ترمیم]

  • مردہ اعلم یا مجتہد اعلم عورت کی تقلید واجب ہے ؛کیونکہ اصل احسن القول ،یعنی بہترین قول کا اتباع ہے نہ کوئی اور چیز ۔مکلفین پر امکانی صورت اور بقدر توانائی احکام الہی میں تحقیق کرنا واجب ہے۔ اور اپنے مراجع سے دلیل طلب کر یں اور قانع ہو ںاور اندھی تقلید اور کورکورانہ اور نا آگاھانہ اتباع کا راستہ بطور کلی سب کے لئے بند ہے ،کہ مسلمان شخص جس حد تک بھی اسلامی مسائل سے ناواقف ہو لیکن جس چیز کی پیروی کا حکم ہے اسے علم و آگہی کے ساتھ ہونا چاہیے اور بس ۔[10]
  • کفار اور اہل کتاب کا بدن پاک ہے اور آیہ کریمہ (انماالمشرکون نجس) میں ذکر شدہ نجاست بالخصوص ان کی روح کے بارے میں ہے نہ جسم کے،کیونکہ ان کی روح ناپاک اور نجس ہے نہ جسم۔[11]
  • مسکرات (نشہ آور چیزیں) اور شراب خواہ انگور کے رس سے بنی ہو یا کھجور سے بطور کلی پاک ہیں لیکن ان کا کھانا حرام ہے۔[12]
  • مسافر کی نماز اور اس کا روزہ قصر نہیں ہے۔[13]
  • دھواں اور غلیظ قسم کا گرد و غبار روزہ کو باطل کرنے والا نہیں ہے۔[14]
  • نماز جمعہ عسر و حرج کے بغیر اس کے شرائط کے ساتھ تمام مکلفین پر واجب ہے،اور اگر امام اور ماموم خطبوں کی صحت کے شرائط کی رعایت نہ کریں تو اس کا انجام دینا جائز نہیں ہے اور اسے فرادیٰ بھی نہیں پڑھا جاسکتا۔[15]
  • زکوۃ بھی خمس کی طرح تمام حلال آمدنی میں میں خواہ کھیتی باڑی ہو یا تجارت اور صنعت وغیرہ واجب ہوتی ہے اگر چہ اس کا فیصد خمس سے بہت کم ہے ۔[16]
  • اعتکاف تمام مساجد میں جائز ہے۔[17]
  • شطرنج حرام ہے۔[18]
  • سیگریٹ پینا حرام ہے لیکن مبطل روزہ نہیں ہے[19]
  • افسوس کہ اگر حوزہ ھاہ علمیہ میں بھی رائج نظریہ کے خلاف کوئی نظر دی جائے تو لوگ استدلال کو نظر انداز کردیتے ہیں اور صرف کہنے والے کی بات کو خراب کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس طرح کی باتیں اور نظریات علمی محافل میں ہوتی ہیں۔


== آثار ==

اردو میں ترجمہ


عربی
  • الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن والسنه ۳۰ جلد
  • الفرقان،التفسیر الموضوعی بین الکتاب والسنه ۲۲ جلد
  • الفقه المقارن بین الکتاب والسنه ۸ جلد
  • علی و الحاکمون
  • لماذا انتصرت اسرائیل و متی تنهزم؟
  • عقائدنا
  • علی شاطیءالجمعه
  • دلیل الفرقان في تفسیر القرآن بالقرآن
  • رسول الاسلام فی الکتب السماویه
  • حوار بین الالهیین و المادیین
  • تاریخ الفکر و الحضاره
  • المقارنات بين الكتب السّماويّة
  • الأمر بالمعروف والنهى عن المنكر بين الكتاب والسنة وسائر الكتب السماوية
  • البلاغ فی تفسیر القرآن بالقرآن
  • تبصره الفقهاء بین الکتاب و السنه(الجزء الاول)
  • تبصره الفقهاء بین الکتاب و السنه(الجزء الثانی)
  • تبصره الوسیله بین الکتاب و السنه
  • اصول الاستنباط بین الکتاب و السنه
  • فتیاتنا
  • أین الکراسه
  • مقارنات فقهیه
  • لماذا نصلی و متی نقصر من الصلاه؟
  • حوار بین اهل الجنه و النار
  • المناظرات
  • المسافرون
  • غوص فی البحار
  • الفقهاء بین الکتاب و السنه
  • شذرات الوسائل و الوافی المخطوط


فارسی
  • رساله توضیح المسائل نوین
  • بشارات عهدین
  • پرسش و پاسخهای احکام قضایی بر مبنای قرآن
  • گفتمان خداپرستان با مادّی گرايان درباره اصل توحيد
  • مفت خواران از دیدگاه کتاب و سنت
  • نگرشی جدید بر حقوق بانوان در اسلام
  • علم قضاوت در اسلام از دیدگاه کتاب و سنت
  • فقه گویا
  • پاسخ به اتهامات مکتوب
  • رمز وحدت در شریعت
  • مفسدین فی الارض
  • نقدی بر دین پژوهی فلسفه معاصر
  • قرآن و نظام آموزشی حوزه
  • ماتریالیسم و متافیزیک
  • علم اصول در ترازوی نقد
  • علی (ع) و حاکمان تاریخ
  • ستارگان از دیدگاه قرآن
  • تاریخ اندیشه وتمدن
  • أینَ؟ (شرح و تفسیر فرازهای مهمی از دعای ندبه)
  • انقلاب اسلامی ۱۹۲۰ عراق
  • آفریدگار و آفریده
  • آیات رحمانی (در پاسخ به کتاب آیات شیطانی)
  • تفسیر سوره حمد
  • ترجمان فرقان - جلد اول (تفسیر مختصر قرآن کریم فارسی ۵ جلدی)
  • ترجمان فرقان - جلد دوم
  • ترجمان فرقان - جلد سوم
  • ترجمان فرقان - جلد چهارم
  • ترجمان فرقان - جلد پنجم
  • وصیت و ارث از دیدگاه کتاب و سنت
  • گناهان کبیره و صغیره از دیدگاه کتاب و سنت
  • طهارت و نجاست از دیدگاه کتاب و سنت
  • مالیاتهای اسلامی(خمس و زکوۃ) از دیدگاه کتاب و سنت
  • روزه (خودساری) از دیدگاه کتاب و سنت
  • طلاق از دیدگاه کتاب و سنت
  • حج،نذر،عهد،قسم و مسائل مستحدثه از دیدگاه کتاب و سنت
  • خوردنیها و آشامیدنیها از دیدگاه کتاب و سنت
  • اقتصاد و تجارت از دیدگاه کتاب و سنت
  • امر به معروف و نهی از منکر از دیدگاه کتاب و سنت
  • اجتهاد و تقلید از دیدگاه کتاب و سنت
  • ازدواج و زناشویی از دیدگاه کتاب و سنت
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره یوسف
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره یونس
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره واقعه
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره یاسین
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره نجم
  • رجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره نوح
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره لقمان
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره مریم
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره ابراهیم
  • ترجمان فرقان - تفسیر مختصر سوره حجرات
  • حکومت قرآن
  • دعاهای قرآنی
  • حکومت مهدی
  • گفتگویی در مسجدالنبی
  • مسیح از نظر قرآن و انجیل
  • خاتم پیامبران
  • سپاه نگهبانان اسلام
  • حکومت صالحان یا ولایت فقیهان
  • نماز جمعه
  • پیروزی اسرائیل چرا و شکست آن کی؟
  • برخورد دو جهان بینی
  • مسافران (نگرشی جدید بر نماز و روزه مسافر)
  • ترجمان وحی (ترجمه فارسی قرآن کریم)
  • طهارت (وضو-غسل-تیمم) از دیدگاه کتاب و سنت


حوالہ جات[ترمیم]

  1. سایت http://www.forghan.ir جامعة علوم القرآن
  2. آیت الله صادقی تہرانی عربی کتابیں
  3. آیت الله صادقی تہرانی فارسی کتابیں
  4. سایت http://www.OlumQuran.com جامعة علوم القرآن
  5. جامعة علوم القرآن خبریں اور کانفرنس
  6. شاگردوں آیت الله صادقی تهرانی
  7. جامعة علوم القرآن کے بارے میں
  8. «آیت ‌الله صادقی تهرانی اور ولایت فقیه»
  9. "آیت الله محمد صادقی تهرانی کی موت"
  10. مسئله 15 تقلید توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  11. کفار اور اہل کتاب کا بدن پاک ہے توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  12. مسکرات (نشہ آور چیزیں) بطور کلی پاک توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  13. مسافر کی نماز توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  14. دھواں اور غلیظ قسم روزہ کو باطل کرنے توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  15. نماز جمعہ توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  16. زکوۃ بھی خمس توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  17. اعتکاف تمام مساجد میں جائز ہے۔ توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  18. شطرنج حرام ہے توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ
  19. سیگریٹ پینا حرام ہے توضیح المسائل نوین رسالہ علمیہ

بیرونی روابط[ترمیم]