محمد صدیق الماس رقم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خطاط العصر
حافظ محمد صدیق الماس رقم
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش اگست 15، 1907(1907-08-15)ء
تاریخ وفات مارچ 30، 1972(1972-03-30)ء
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
عملی زندگی
پیشہ خطاط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
صنف خطِ نستعلیق

حافظ محمد صدیق الماس رقم (پیدائش:15 اگست، 1907ء - وفات:30 مارچ، 1972ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور معروف خطاط اور خوش نویس تھے۔

حالات زندگی و فن[ترمیم]

محمد صدیق الماس رقم 15 اگست، 1907ء کو موضع جامکے چیمہ ضلع سیالکوٹ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے[1]۔[2] ڈی سی ہائی اسکول ڈسکہ میں تعلیم پائی۔ کتابت کا فن اپنے ماموں حکیم محمد عالم گھڑیالوی سے سیکھا۔ بیس سال کی عمر میں اچھے خوش نویس ہو گئے کتابت سیکھ کر لاہور آ گئے۔ چونکہ پہلوانی کے فن کا بھی شوق تھا اس لیے خطاطی کے ساتھ ساتھ لاہور کے اکھاڑوں میں کشتی کے مقابلے بھی کرتے رہے۔1934ء میں علامہ اقبال کی کتاب زبور عجم کی کتابت کی۔ یہیں سے ان کی شہرت کا آغاز ہوا۔ مولانا ظفر علی خان نے ان کو خطاط العصر کا خطاب دیا۔ 1946ء میں آل انڈیا خوشنویس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد نئے قائم شدہ کراچی بورڈ آف ایجوکیشن کے لیے نصابی کتابیں جو سلور برڈٹ کمپنی نیویارک کے اشتراک سے طبع ہوئی تھیں ان کی کتاب الماس رقم کے زیر نگرانی ہوئی۔ نیز مینار پاکستان لاہور میں نصب شدہ 19 تختیوں میں سے ایک جو پتھر کی سل پر قرارداد پاکستان سے متعلق ہے اس کی خطاطی بھی آپ کے قلم کا شاہکار ہے۔ یہ تختی چونکہ قرارداد لاہور اور قرارداد دہلی پر مشتمل ہے اور محدود جگہ عبارت کی بانٹ انتہائی مشکل تھی اس لیے انہوں نے تین مرتبہ اس کو لکھا اور تین مرتبہ منسوخ کیا تب جاکر اس نے فن پارے کی صورت اختیار کی۔ حافظ محمد صدیق الماس رقم کو زبورعجم کے علاوہ جن مشہور کتابوں کی خطاطی کا اعزاز حاصل ہوا ان میں علامہ عنایت اللہ مشرقی تذکرہ اور حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام شامل تھے۔ الماس رقم نے اپنے پیچھے لاتعداد شاگرد چھوڑے۔ جن میں محمد صدیق بھٹی قابل ذکر ہیں۔[1]

وفات[ترمیم]

محمد صدیق الماس رقم 30 مارچ، 1972ء کو لاہور، پاکستان میں انتقال کر گئے۔ لاہور میں حضرت طاہر بندگی کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ص 350، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  2. ص 122، خطِ نستعلیق کے بہترین خطاط، محمد اصغر سیال، ششماہی امتزاج، شمارہ:1، جنوری-جون 2014ء، شعبۂ اردو جامعہ کراچی
  3. ص 123، خطِ نستعلیق کے بہترین خطاط، محمد اصغر سیال، ششماہی امتزاج، شمارہ:1، جنوری-جون 2014ء، شعبۂ اردو جامعہ کراچی