محمد ضیاء الحق کی موت اور ریاستی جنازہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد ضیاء الحق کی موت اور ریاستی جنازہ
Muhammad Zia-ul-Haq 1982.jpg
جنرل محمد ضیاء الحق (1924ء-1988ء)
تاریخ اگست 19، 1988 (1988-08-19)
مقام مقبرہ جنرل محمد ضیاء الحق، فیصل مسجد اسلام آباد, پاکستان
شرکاء جارج پی شلز, غلام اسحاق خان, ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اسلام آباد سفارت خانے کے حکام, مسلح افواج کے سربراہان، اور دیگر فوجی اور شہری
نتائج فوجی تحقیقات

جنرل محمد ضیاء الحق کا جنازہ 19 اگست 1988ء کو شاہ فیصل مسجد، اسلام آباد، پاکستان میں پڑھایا گیا۔ جنرل محمد ضیاء الحق اپنی موت کے وقت پاکستان کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ ان کی حادثاتی موت 17 اگست 1988ء کو سی 130 ہرکولیس طیارے کے ایک پراسرار حادثے میں ہوئی۔ اس واقعے کے حوالے سے کئی سازشی نظریات موجود ہیں۔

حادثہ

17 اگست 1988ء کو بہاولپور کے قریب ایک ہوائی حادثے میں جنرل محمد ضیاء الحق کی موت واقع ہوئی۔ ان کی حادثاتی کے بعد غلام اسحاق خان نگران صدر منتخب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کی موت کے حوالے سے تحقیقات کا آغا ز بھی ہوا لیکن آج تک ان کی موت کے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔ طیارے میں چیرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن سمیت سینئر فوجی افسران سوار تھے۔ امریکی سفیر آنرڈ رافیل اور امریکی جنرل ہربرٹ ویسم بھی حادثہ کے وقت طیارے میں موجود تھے جو ضیاالحق کے ہمراہ پلک جھپکنے میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔

تحقیقات

واشنگٹن نے تحقیقات میں پاکستانیوں کی مدد کے لئے امریکی ایئر فورس کے افسران کی ایک ٹیم روانہ کی، لیکن دو اطراف نے مختلف نتائج اخذ کئے۔

امریکی نتائج

مسز ایلی رافیل اور بریگیڈیئر جنرل ویسم کی بیوہ دونوں کو امریکی تفتیش کاروں کی طرف سے بتایا گیا کہ حادثے کی وجہ سی 130 کے ساتھ ایک عام میکانیکی مسئلہ تھا۔ [1]

پاکستانی نتائج

نظریات

طیارے کے حادثے کے تناظر میں بہت سی کہانیاں گردش کرتی رہیں۔ “جنرل محمد ضیاء الحق“ کے بیٹے اعجاز الحق ان لوگوں کی تلاش میں سرگرداں رہے جنہیں وہ کھل کر سبوتاژ اورسیاسی قتل کا ذمہ دار سمجھتے ہرے۔ جس میں پاکستان اور امریکہ کے اعلیٰ سویلین اور فوجی حکام بھی ہلاک ہوئے۔ طیارے کے حادثے کے چند ہفتوں بعد پاکستانی حکام نے 365 صفحات پرمشتمل خفیہ رپورٹ کی 27 صفحات پر مشتمل خلاصہ پیش کیا، جس میں تفتیش کاروں نے طیارے کے میکانیکی نظام میں ممکنہ خرابیوں کے شواہد کا اظہار کیا تھا لیکن ملکی اورغیر ملکی ذرائع ابلاغ میں اس کے سازش ہونے کی کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ کچھ ذرائع ابلاغ اس شک کا اظہار کرتے رہے کہ امریکی سی آئی اے نے جنرل محمد ضیاء الحق کو ختم کرنے کے لئے آموں کی پیٹیوں میں اعصاب شکن گیس چھوڑ دی تھی۔ جبکہ دیگر یہ سمجھتے تھے کہ سوویت کے جی بی نے افغان مجاہدین کی حمایت کا جنرل محمد ضیاء الحق سے بدلہ لیا اسی طرح امریکی ” ورلڈ پالیسی جرنل“ نے بھارت میں سابق امریکی سفیر گنتھر ڈین کے حوالے سے لکھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا جنرل محمد ضیاء الحق کے خاتمے میں ہاتھ تھا۔ بہرحال کبھی کوئی نتیجہ خیز اور حتمی بات سامنے نہیں آئی۔ آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل حمید گل، جنرل محمد ضیاء الحق کے قتل کو سی آئی اے کی سازش قرار دیتے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق کے بڑے بیٹے اعجاز الحق نے آن ریکارڈ ضیاء مخالف گروپ الذوالفقار پر قتل کا الزام عائد کیا تھا۔ اس وقت اس گروپ کی قیادت بے نظیر بھٹو کے چھوٹے بھائی مرتضی بھٹو کے ہاتھوں میں تھی۔ جنہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کا بدلہ لیا۔ وہ اپنے والد کی ہلاکت پر جنرل اسلم بیگ پر بھی انگلی اٹھاتے تھے۔

حوالہ جات